مصر بحاجة لدولة الخلافة الراشدة ومشروع الإسلام الرائد
مصر بحاجة لدولة الخلافة الراشدة ومشروع الإسلام الرائد

الخبر:   ذكرت قناة صدى البلد على موقعها الأربعاء 2021/10/6، أن الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي وجه حديثه للمواطنين قائلا: "الشرطة والقضاء والإعلام إيد واحدة، ولو عاوزين نحقق العديد من الإنجازات، كونوا دائما على قلب رجل واحد"، وأضاف الرئيس، خلال الندوة التثقيفية "أكتوبر 73 والعبور إلى المستقبل"، "عندما حاول جمال عبد الناصر أن يستقيل وقت هزيمة 67، حينها وقف الشعب بأكمله وراءه، واستعدنا توازننا وقوتنا مرة أخرى، وأعدنا النصر للدولة المصرية"، وحذر الشعب من التفرقة أمام أي تحد أو صعاب، لأن المحاولة دائما على تفرقة المصريين وزرع الخلاف بينهم، ودعا الرئيس عبد الفتاح السيسي قائلا: "أسالك يا الله بأسمائك التي لا يعلم مكانتها سواك، أن تعطينا وترضينا وتكرمنا وتنصرنا وتسترنا وترزقنا.. اللهم آمين يا رب العالمين".

0:00 0:00
Speed:
October 10, 2021

مصر بحاجة لدولة الخلافة الراشدة ومشروع الإسلام الرائد

مصر بحاجة لدولة الخلافة الراشدة ومشروع الإسلام الرائد

الخبر:

ذكرت قناة صدى البلد على موقعها الأربعاء 2021/10/6، أن الرئيس المصري عبد الفتاح السيسي وجه حديثه للمواطنين قائلا: "الشرطة والقضاء والإعلام إيد واحدة، ولو عاوزين نحقق العديد من الإنجازات، كونوا دائما على قلب رجل واحد"، وأضاف الرئيس، خلال الندوة التثقيفية "أكتوبر 73 والعبور إلى المستقبل"، "عندما حاول جمال عبد الناصر أن يستقيل وقت هزيمة 67، حينها وقف الشعب بأكمله وراءه، واستعدنا توازننا وقوتنا مرة أخرى، وأعدنا النصر للدولة المصرية"، وحذر الشعب من التفرقة أمام أي تحد أو صعاب، لأن المحاولة دائما على تفرقة المصريين وزرع الخلاف بينهم، ودعا الرئيس عبد الفتاح السيسي قائلا: "أسالك يا الله بأسمائك التي لا يعلم مكانتها سواك، أن تعطينا وترضينا وتكرمنا وتنصرنا وتسترنا وترزقنا.. اللهم آمين يا رب العالمين".

التعليق:

لا تختلف خطابات العملاء ولا أحاديثهم في تزييفها للواقع والكذب على الناس ومدح أسلافهم في العمالة بل ومدح عمالتهم وخياناتهم لدينهم وأمتهم، فامتدح الرئيس المصري سلفه عبد الناصر معتبرا إياه من رواد التنمية لمصر وأهلها بينما على الحقيقة فإنه وكل من حكم مصر من عسكر أمريكا قد دمروا صناعة مصر وزراعتها على مدار العقود الماضية، ثم امتدح سلفه الآخر السادات بقرار الحرب، الخدعة التي خدع الناس بها، ثم قرار السلام، الخيانة الذي مكن كيان يهود من الاستقرار في المنطقة والشعور بشيء من الأمن فوق أرض الإسلام المحتلة لعقود، يؤمنهم ويحفظ حدودهم ويؤمن بقاءهم الجيش المصري بقادته العملاء.

نعم إن الشرطة والقضاء والإعلام ومعهم قادة الجيش يد واحدة لكنها يد على الشعب وليست يداً في يد الشعب، يد قاهرة تعتقل وتحاكم وتقتل وتشوه كل من يعارض سياسات النظام الكارثية وقراراته القمعية وتبرر هذه الأفعال وتصف هؤلاء المعترضين بأنهم خونة إرهابيون يحاولون شق الصف وتقسيم مصر، بينما الذي يفرّق بين أهل مصر هو النظام الذي يعيد إحياء الطبقية بجعل الجيش والشرطة والقضاء والإعلام فوق باقي الشعب؛ لهم نواديهم ومستشفياتهم ومميزاتهم التي تميزهم عن باقي الشعب الكادح الذي يدفع كل الفواتير؛ من فواتير التنمية المزعومة إلى العاصمة ذات الأسوار والطرق والكباري التي تمهد وتُنشَأ لخدمة ساكنيها مستقبلا من تلك الطبقة العليا.

إن الدولة المصرية لا تستعيدها مشاريع وهمية ولا فرقعات إعلامية ولا حتى مشاريع حقيقية دون رؤية مبدئية ومشروع حضاري حقيقي صالح للنهضة، والقول بأن الشعب وقف خلف عبد الناصر وأعيدت الدولة المصرية هو كذب محض، اللهم إلا إذا كان المقصود بها استعادة الثقة في النظام العميل من جانب سادته في البيت الأبيض وتمكنهم من خداع الناس لمرحلة مستقبلية، لكن هذا ليس استعادة لدولة حقيقية فمصر في ظل عسكر أمريكا منذ ثورتهم الأمريكية على الملك عميل الإنجليز لم تر خيرا حتى وقتنا هذا بعد تعاقب العملاء وادعاء التنمية والخطط الخمسية المتعاقبة رغم وجود إنشاءات ملموسة إلا أنها لا تخدم الناس وإن تيسر بها بعض أمور حياتهم لأن صناعها من العملاء لم يصنعوها إلا خدمة للغرب ومصالحه ولتمكينه من السيطرة على البلاد لعقود مقبلة، فكل ما يتم من مشاريع وغيره مبني على أساس وجهة نظر الغرب ورأسماليته وبقروض من صندوق النقد الدولي تكبل البلاد وقراراتها وتعمق تبعيتها للغرب الكافر، فما يقوم به العميل حتى لو كان ظاهره في صالح الناس فهو في حقيقته سم زعاف يقتل كل من يتجرعه، فالأفاعي تبث السموم ولا تخرج العسل.

إن ما يعيد مصر حقا وينهض بها نهضة تعيد لأهلها عزتهم وكرامتهم ويوحد صفهم ويمكنهم من تحدي كل الصعاب والتصدي لكل ما يحاك لهم من مؤامرات إنما هو الإسلام بعقيدته الراسخة في النفوس ومشروعه الحضاري المنبثق عن هذه العقيدة وما يملكه من دولة قادرة على تحقيق العدل الذي يرجوه الناس، والتنمية التي يرغبون فيها، والنهضة التي تمكنهم من سيادة الدنيا، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة بما فيها من أحكام شرعية تعالج أزمات مصر وكل الأمة بل والعالم أجمع وتنجيه من الرأسمالية التي تغرق وتغرقه معها.

أيها الرئيس المصري! إن اللجوء إلى الله وطلب عطائه ورضاه وكرمه ونصره ورزقه وستره لا يكون قولا دون فعل، بل يجب أن تصاحبه طاعة مطلقة تستحق هذا العطاء، وهذه الطاعة لا تكون بتعطيل أحكام الله وشرائعه وقوانينه والامتناع عن إقامة دولته، بل لازم من لوازمها أن تنصر الله عز وجل بإقامة الدولة التي تطبق أحكامه وتنفذ شرعه وتحمله للعالم بالدعوة والجهاد؛ رسالة هدى ونور يخرج الله بها الناس من الظلمات إلى النور، حينها تستحق نصر الله ورضاه وعونه وعطاءه بلا حدود، يقول الله عز وجل: ﴿إِن تَنصُرُواْ الله يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ ولتعلم أنه لا نصر بدون طاعة ولا عطاء مع معصية، وإن ما تظنه عطاء إنما هو مهلة من الله يمدها للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته، قَالَ رَسُولُ اللَّه ﷺ: «إِنَّ اللَّه لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ».

فاللهم نصرا لمن نصرك بالعمل لإقامة دولة العز، دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست