مصر بين محاولات التدجين وحرب العاملين لتطبيق الإسلام ووصفهم بالإرهاب
مصر بين محاولات التدجين وحرب العاملين لتطبيق الإسلام ووصفهم بالإرهاب

الخبر:تحدثت بوابة الأهرام الجمعة 3/12/2021م، عن بدء انطلاق أولى الورش التدريبية التي نظمتها مؤسسة ماعت للسلام والتنمية وحقوق الإنسان في إطار مشروع "بناة السلام في مصر - مناهضة خطاب الكراهية باسم الدين"، خلال شهر كانون الأول/ديسمبر 2021، وتستهدف الورش رفع وعي 150 طالبا وطالبة من كليات وجامعات مختلفة على مستوى الجمهورية، ويهدف المشروع إلى مناهضة ظاهرة خطاب الكراهية باسم الدين والتداعيات التابعة له، بالإضافة إلى تعزيز دور الشباب وبناء قدراتهم وتمكينهم لتفعيل دورهم الإيجابي داخل المجتمع المصري في هذا الصدد، ويشارك في الورش التدريبية مجموعة خبراء من رجال الدين والسياسة والفن والإعلام، وتنقسم الورش إلى مرحلتين متكاملتين، الأولى تتضمن التعريف بمفهوم خطاب

0:00 0:00
Speed:
December 09, 2021

مصر بين محاولات التدجين وحرب العاملين لتطبيق الإسلام ووصفهم بالإرهاب

مصر بين محاولات التدجين وحرب العاملين لتطبيق الإسلام ووصفهم بالإرهاب


الخبر:


تحدثت بوابة الأهرام الجمعة 2021/12/3م، عن بدء انطلاق أولى الورش التدريبية التي نظمتها مؤسسة ماعت للسلام والتنمية وحقوق الإنسان في إطار مشروع "بناة السلام في مصر - مناهضة خطاب الكراهية باسم الدين"، خلال شهر كانون الأول/ديسمبر 2021، وتستهدف الورش رفع وعي 150 طالبا وطالبة من كليات وجامعات مختلفة على مستوى الجمهورية، ويهدف المشروع إلى مناهضة ظاهرة خطاب الكراهية باسم الدين والتداعيات التابعة له، بالإضافة إلى تعزيز دور الشباب وبناء قدراتهم وتمكينهم لتفعيل دورهم الإيجابي داخل المجتمع المصري في هذا الصدد، ويشارك في الورش التدريبية مجموعة خبراء من رجال الدين والسياسة والفن والإعلام، وتنقسم الورش إلى مرحلتين متكاملتين، الأولى تتضمن التعريف بمفهوم خطاب الكراهية والأسباب الجذرية وراء الظاهرة والتداعيات الاجتماعية بالإضافة إلى مناقشة دور الفن والإعلام في محاربة الفكر المتطرف، والآليات الممكنة والجهود المبذولة لمكافحة خطاب الكراهية، أما المرحلة الثانية تكون تحت عنوان بصمتك الإيجابية في مجتمعك، وتتضمن مناقشة الدافع للتغيير والبساطة وراء المبادرات الناجحة، وأيضا مهارات تصميم وإعداد مبادرات مجتمعية، وضمان نجاح المبادرة.

التعليق:


هجمات شرسة على الإسلام عقيدته وأحكامه، ومؤامرات تتوالى فتناً كقطع الليل المظلم كما أخبر النبي ﷺ يبيت الحليم فيها حيران، في يوم الجمعة هذا نفسه ومع انطلاق تلك الورش التدجينية التي تستهدف شباب الأمة وتعمل على تثقيفهم بثقافة الغرب وأفكاره، في اليوم نفسه يتكلم المفتي لجريدة المصري اليوم عن وأد الكراهية وإحياء السلام والمحبة بعد أن وصف الجماعات الإسلامية والتي وصفها بالإرهابية بأنها أساءت للمسلمين وللعرب وللإسلام بفهمهم السقيم وأفعالهم الدنيئة برغم أن عددهم لا يتجاوز مطلقاً 1% من المسلمين، وأتلفوا النبات والجماد وآذوا الحيوان بخلاف الإنسان؛ فهؤلاء ليس فيهم خير للمسلمين فضلاً عن غيرهم، ولو كان إيمانهم قوياً كما يدّعون لكان محفزاً لهم في إقبالهم على الحوار وقبول الآخر، رغم افترائه عليهم وكأن الآخر الذي يدعو لقبوله لم يدمر قارة كاملة ويقتل غالب أهلها ليسرق ثروتهم، وكأن هذا الآخر ليس هو المتسلط على شعوب بلادنا ناهبا لثرواتنا! واللافت للنظر هنا أن استهداف الأمة وخاصة شبابها هو محاولة لإيجاد جيل من الشباب يكون درعا جديدا للغرب يحول به بين الأمة وبين تطبيق دينها.


مع الحرب الشرسة التي يقودها النظام بعد الثورات على أبناء الحركات الإسلامية التي كانت تملأ الساحة وتشغل الحيز الفكري، كان لزاما وجود إطار فكري وثقافي يتلقف الشباب ويفرغ طاقاتهم حتى لا يتلقفهم المخلصون من أبناء الأمة ويعيدوا بهم إنتاج حركات إسلامية مخلصة لا يستطيع النظام مستقبلا التغلب عليها، ولهذا أطلق يد الجمعيات والمؤسسات التي يشرف عليها الغرب لاستقطاب هؤلاء الشباب في ظل تغييب متعمد لكل فكر إسلامي ومنعه من التواصل مع الشباب بأي شكل من الأشكال، في محاولة ضمن محاولات مستمرة لإيجاد جيل من أبناء الأمة يقبل الغرب بأفكاره ويقبل بقاء هيمنته على بلادنا ونهبه لثروات الأمة ومقدراتها، بل وحراسته وحمايته أثناء سرقة هذه الثروات بعد تمكينه منها.


إن الغرب يحاول أن يهزم الأمة في صراع الأفكار ويحاول أن يمحو أفكار الإسلام وعقيدته السياسية من قلوب أبنائها، غير أن هذه الساحة لا يملكها ولا يستطيع فيها منازلة الأمة بعقيدتها الراسخة القوية وما تملكه من أدلة شافية وحلول كافية توافق فطرة الناس وتقنع عقولهم وتريح قلوبهم، فالإسلام وحده بكتابه قوة قادرة على اختراق العقول والقلوب فكيف إذا وجد في الأمة مخلصون واعون على أحكامه عاملون على تطبيقه يواصلون ليلهم بنهارهم حتى يعيدوا مجد أمتهم من جديد؟ وهؤلاء من يخشاهم الغرب ويخشى تلقفهم لشباب الأمة وتلقف شباب الأمة لأفكارهم، فهو يعلم أنهم وحدهم القادرون على ملء أي فراغ فكري موجود وهم وحدهم القادرون على هزيمته في صراع الأفكار بما يحملون من مشروع إسلامي كامل يعالج كل مشكلات الناس في كل جوانب الحياة بلا استثناء، ما لا يملكه أي نظام وضعه البشر أو عرفه البشر غير الإسلام.


يا معاشر شباب الأمة! دونكم حزب التحرير رائد لا يكذبكم بل يعمل لعزكم في الدنيا والآخرة حاملا لكم أفكار الإسلام غضة كما ينبغي أن تكون، يدعوكم لحملها عوضا عن أفكار الغرب التي لا تنسجم معكم ولا توافق فطرتكم، يدعوكم لحملها وصراع الغرب بها حتى يخرج من بلادنا بنفوذه وعملائه إلى غير رجعة، ولتعلموا أن سبب الحقد والكراهية والغضب الكامن في نفوس الناس هو الرأسمالية وقوانينها ونهبها للثروات ونفعيتها التي تبيح للغرب قتل الشعوب واستعبادها من أجل التمكن من نهب ثروتهم ومنعهم من الانتفاع بخيرات بلادهم. ونظرة بسيطة لشعوب أفريقيا التي تنهبها شركات الغرب تكفي؛ فشعوب تملك كل هذه الثروة تعيش البؤس والفقر بينما يتنعم اللصوص بثرواتهم التي تتدفق على بنوك أوروبا وأمريكا بل ويصبحون هم حراسا لمن ينهبون ثروتهم أو وقودا لصراعاتهم على تلك الثروة، هذا هو سبب الحقد والكراهية والغضب الكامن في النفوس تجاه الغرب وما أنتجته الرأسمالية من قهر للشعوب، ولا علاج له إلا بالإسلام وعدله ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فهي وحدها القادرة على مجابهة الغرب ووقف نهبه لثروات الشعوب وسرقته لخيراتهم ومقدراتهم وضمان عودتها إليهم وتوزيعها بينهم توزيعا عادلا يضمن حقوقهم ورفاهية عيشهم، تلك الدولة التي يحمل مشروعها كاملا بينكم حزب التحرير ويدعوكم لحملها معه وتحريض المخلصين من أبناء الأمة في الجيوش على نصرتها علها تقام بكم فينجو بها العالم من تلك الرأسمالية التي تغرق وتُغرق العالم معها فتكون بكم نجاة مصر والأمة وكل المقهورين والمظلومين من قهر الرأسمالية وتوحشها. فيا عزكم حينها. نسأل الله أن يفتح بكم فتقام دولة عزكم الخلافة الراشدة على منهاج النبوة اللهم آمين.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست