مصر تتلظى بنار النظام وإعلامه المضبوع بثقافة الغرب
مصر تتلظى بنار النظام وإعلامه المضبوع بثقافة الغرب

الخبر:   قالت بي بي سي عربي على موقعها الجمعة 5/11/2021 إن تصريحات الإعلامي المصري إبراهيم عيسى حول منظومة التعليم العالي في مصر، وعما وصفها بـ"مواجهة الفكر المتطرف"، أثارت جدلا واسعا عبر مواقع التواصل في مصر، واعتبر الإعلامي إبراهيم عيسى في تعليق ببرنامج حديث القاهرة الذي يقدمه عبر قناة القاهرة والناس أن "منظومة التعليم العالي في مصر تدار بعشوائية وحان الوقت لدراسة ربط التخصصات التي تقدمها الجامعات باحتياجات سوق العمل"، وأضاف: "عندنا في مصر 429 كلية ومقررات الكليات النظرية في الجامعات المصرية تقوم على الحفظ والتلقين ولا تواجه الفكر المتطرف، وهناك سوء تخطيط واضح في توزيع طلاب مرحلة التعليم العالي على الكليات"، قبل أن يستطرد قائلا: "ليه أدخل أجزخانة (الصيدلية) ألاقي الشاب الصيدلي قاعد بيقرأ قرآن.. من باب أولى يقرأ مرجع أدوية".

0:00 0:00
Speed:
November 07, 2021

مصر تتلظى بنار النظام وإعلامه المضبوع بثقافة الغرب

مصر تتلظى بنار النظام وإعلامه المضبوع بثقافة الغرب

الخبر:

قالت بي بي سي عربي على موقعها الجمعة 2021/11/5 إن تصريحات الإعلامي المصري إبراهيم عيسى حول منظومة التعليم العالي في مصر، وعما وصفها بـ"مواجهة الفكر المتطرف"، أثارت جدلا واسعا عبر مواقع التواصل في مصر، واعتبر الإعلامي إبراهيم عيسى في تعليق ببرنامج حديث القاهرة الذي يقدمه عبر قناة القاهرة والناس أن "منظومة التعليم العالي في مصر تدار بعشوائية وحان الوقت لدراسة ربط التخصصات التي تقدمها الجامعات باحتياجات سوق العمل"، وأضاف: "عندنا في مصر 429 كلية ومقررات الكليات النظرية في الجامعات المصرية تقوم على الحفظ والتلقين ولا تواجه الفكر المتطرف، وهناك سوء تخطيط واضح في توزيع طلاب مرحلة التعليم العالي على الكليات"، قبل أن يستطرد قائلا: "ليه أدخل أجزخانة (الصيدلية) ألاقي الشاب الصيدلي قاعد بيقرأ قرآن.. من باب أولى يقرأ مرجع أدوية".

التعليق:

تصريحات عيسى وغيره وأمثاله من العلمانيين المضبوعين بثقافة الغرب ليست الأولى ولن تكون الأخيرة طالما بقي هذا النظام الذي يوجد المناخ الخصب لكل عداء وتطاول على الإسلام ومقدساته وتبجح على الأمة وأفكارها وعقيدتها وحتى شخصياتها التاريخية.

حقيقة الأمر أن المشكلة ليست في هذا القيء الذي يخرج من فم عيسى وأمثاله وإنما في هذا النظام نفسه الذي أعطاهم حرية التطاول على الإسلام ومنحهم منابر إعلامية ينثرون من خلالها قيأهم على الناس، فما يقولون حقا لا يتجاوز ذلك وإلا فما مشكلته مع هذا الصيدلي الذي يقرأ القرآن غير عداء وحقد على القرآن وأهله!

عيسى لا يمثل نفسه وإنما يعبر عن النظام الذي منحه حرية خطاب الناس التي منعها عن الكثير من أبناء الأمة وخاصة المخلصين الواعين منهم، فعندما يطالب المضبوع بمواجهة الفكر المتطرف فهو حتما يقصد أفكار الإسلام وإلا لما هاجم ذلك الصيدلي لمجرد أنه يقرأ القرآن، ويقصد هذا الفكر الذي يدعو لتطبيق الإسلام في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة وإن لم يصرح بذلك وإن زعم غير ذلك، ومطالبته بالنظر في المقررات وتطويرها حتى تواجه الفكر الذي أسماه بالمتطرف تعبر حتما عن توجه النظام الذي يعمل ليل نهار وفي كل محفل على احتكار الخطاب الديني بدعوى تجديده حتى يتحكم في ما يصل للناس من أفكار الإسلام وحتى يحجب عنهم أفكاره السياسية التي تدعوهم للتحرر من هيمنة الغرب وسيطرته ونهبه للثروات والخيرات.

فالنظام في مصر يقوم مقام الناطور وكيلاً عن المستعمر في رعاية مصالحه في بلادنا، والتهديد الحقيقي لمصالح الغرب هو في أفكار الإسلام التي ترفض الذل والمهانة وتأبى على المسلم أن يرضى بالظلم أو أن يستكين للظالمين، وتضع قوانين حازمة وصارمة تحدد علاقات الناس وتبين تعاملاتهم وتوضح لهم كيفية تصرفهم في الثروات كسبا وإنفاقا، وتجعل مخالفة هذه الأحكام إثما وجريمة يجب البعد عنها، وهذا يعني أن المسلم لن يقبل بشركات البترول عابرة القارات التي تنهب نفط مصر وغيرها في حراسة وحماية النظام وصمت ورضا العلمانيين المضبوعين المنتفعين من بقاء النظام واستمرار عمالته، بل وسيعمل المسلمون حتما على طرد تلك الشركات وغيرها من شركات نهب ثروات الأمة الرأسمالية، وإذا كان الإسلام وأفكاره وعقيدته وأحكامه هو سبب يقظة الناس حاليا ومستقبلا لذا كانت الحرب على هذه الأفكار لتشويهها وتنفير الناس منها وصرفهم عنها قدر المستطاع.

يا أهل الكنانة: إن الغرب يعلم قوة دينكم وقوة ما فيه من أفكار قادرة على اختراق العقول والقلوب وأن بإمكانها تغيير مصائر الشعوب، لهذا يعمل على صرفكم عنها حتى يمنعكم من إقامة دولة عزكم التي تطرده وشركاته التي تنهب خيراتكم من مصر والأمة بعمومها، فلا تسمعوا له ولا لنظام العمالة الذي وضعه فوق رؤوسكم ولا لأبواق الإعلام المأجورة التي تشوه أفكاركم وتتطاول على دينكم ومقدساتكم، واسمعوا لمن يريدون الخير لكم حقا واعملوا معهم لتستأنفوا حياتكم الإسلامية من جديد في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، اللهم عجل بها واجعل مصر حاضرتها ودرة تاجها. اللهم آمين

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست