مصر والموازنة الجديدة والحياة الكريمة!
مصر والموازنة الجديدة والحياة الكريمة!

الخبر: نقلت جريدة الأهرام بتاريخ 5/1/2022م، تأكيد وزير المالية المصري، أنه تنفيذاً للتوجيهات الرئاسية، فإن مشروع موازنة العام المالي ٢٠٢٢/٢٠٢٣، سيشهد إنفاقاً بشكل أكبر على تحسين حياة الناس، وتيسير سبل العيش الكريم، وقال إن الأولوية في "الجمهورية الجديدة" للبرامج الفعَّالة في الصحة والتعليم؛ باعتبارهما الركيزة الأساسية لبناء الإنسان المصري،

0:00 0:00
Speed:
January 07, 2022

مصر والموازنة الجديدة والحياة الكريمة!

مصر والموازنة الجديدة والحياة الكريمة!

الخبر:

نقلت جريدة الأهرام بتاريخ 2022/1/5م، تأكيد وزير المالية المصري، أنه تنفيذاً للتوجيهات الرئاسية، فإن مشروع موازنة العام المالي 2023/2022، سيشهد إنفاقاً بشكل أكبر على تحسين حياة الناس، وتيسير سبل العيش الكريم، وقال إن الأولوية في "الجمهورية الجديدة" للبرامج الفعَّالة في الصحة والتعليم؛ باعتبارهما الركيزة الأساسية لبناء الإنسان المصري، وتعزيز دعائم الاستثمار في رأس المال البشرى، إضافة إلى تعظيم الجهود التنموية في مختلف المجالات، والتوسع في الاستثمارات العامة؛ بما يُسهم في رفع كفاءة الخدمات الأساسية، من خلال المضي في استكمال تنفيذ أضخم مشروع في تاريخ مصر لتنمية الريف "حياة كريمة"، والارتقاء بمستوى معيشة 60٪ من المصريين، وأضاف أن ذلك يُؤدي إلى تمكين المواطنين من الاستفادة من ثمار النمو الاقتصادي، بشكل عادل وشامل ومستدام، وخلق المزيد من فرص العمل المنتجة، مع الاستمرار في توسيع شبكة الحماية الاجتماعية؛ لتُصبح أكثر استهدافاً للطبقات الأشد فقراً.

التعليق:

أطلق السيسي منذ فترة ما أسماه "مبادرة الحياة الكريمة" والتي تهدف كما يدعي إلى التخفيف عن كاهل الناس في الأماكن الأكثر احتياجاً في الريف والمناطق العشوائية في الحضر، وتعتمد المبادرة على تنفيذ مجموعة من الأنشطة الخدمية والتنموية التي من شأنها ضمان "حياة كريمة" لتلك الفئة وتحسين ظروف معيشتهم. فما هي تلك الحية الكريمة التي يعد بها النظام وكيف تتحقق؟ وهل هي حقا حياة كريمة؟ وكيف سينفق النظام على الصحة والتعليم؟ وهل يهدف إلى رعاية الناس أم إلى جباية أموالهم أو ما تبقى من مدخراتهم بعد استهلاك كامل جهودهم؟

إن الأنظمة العميلة جميعها تشترك في كونها لا تعمل لرعاية مصالح شعوبها مطلقا وإنما وجودها مرتبط بكيفية ضمانها لمصالح الغرب وحمايتها والحفاظ عليها، أي بكيفية تطبيق الرأسمالية بشكلها الكامل الذي يضمن نهب سادتهم في الغرب لثروات الأمة وخيراتها ومقدراتها، ولهذا لا يوثق أبدا في أي مبادرة يطلقها النظام ولو بدت في ظاهرها أنها في صالح الناس، وحتى لو استفاد بعضهم من خلالها. فمثلا لو مهد النظام طريقا فهو حتما لم يمهده ولم ينشئه لرعاية الناس ولكن لفائدة ستعود على الرأسماليين الداعمين له أو النخب التي تثبت أركان حكمه دون النظر لرعاية مصالح الناس حتى لو استخدمه الناس وكان ذا فائدة لهم.

ولهذا فأي حديث عن إنفاق على الصحة والتعليم فهو بلا شك سيكون في الإطار نفسه الذي يخدم الغرب باستحداث مناهج جديدة تكرس الوطنية وتشوه صورة الإسلام عند الناس وتبتعد بهم عن أحكامه أو وسائل يوفرها النخب المتربحون من وجود النظام، أما في الصحة فغالبا سيكون الإنفاق في التوجه نفسه الذي يمهد له الرئيس المصري وسيكون جله في حدود وسائل تنظيم الأسرة وتحديد النسل والمنتجات الدوائية واللقاحات التي تنتجها الشركات الرأسمالية للدول المانحة وعلى رأسها أمريكا، وفي النهاية لن يكون إنفاقا في صالح الناس بل إنفاق في جيوب الرأسماليين الكبار.

وبغض النظر عن كل هذا، فحتى لو أنفق النظام على التعليم والصحة وتنمية الريف والعشوائيات كما يدعي فهو ينفق على بنية مهترئة ومن خلال نظام لا يؤدي حقوق الناس بل ينهبها نهبا، ولهذا فلا ضمانة لحصول أي نمو بل على العكس كل المؤشرات تؤكد أن مصر مقبلة على أزمات اقتصادية متلاحقة بين ركود وغلاء وتضخم تزيد حياة الناس بؤسا وتبتعد بهم عن الحياة الكريمة المزعومة، وقطعا ليس سببه النمو السكاني الذي يدعي النظام وإعلامه أنه يلتهم التنمية، فكيف يكون لدولة أن تنمو وتنهض وهي تعتبر الطاقة البشرية أزمة وتتغاضى عن ثرواتها الظاهرة والدفينة وتعتمد في معظم دخلها على ما تحصله من ضرائب؟! حتى صار ما يزيد عن 74% من دخل مصر من الضرائب! ورغم هذا يعتبر النظام دافعي تلك الضرائب أزمة ويسعى لتقليلهم!

إن أزمة مصر الحقيقية هي في هذا النظام الذي يفرط في ثرواتها ويهدر طاقاتها، ولو كان حقا يريد لمصر وأهلها حياة كريمة لاقتلع تلك الرأسمالية التي تنهب الناس نهبا وتمتص دماءهم وتأكل لحومهم، ولما كان همه جباية الضرائب، ولمنع تحصيلها وكل ما يحمل الناس أعباء إضافية كالجمارك ورسوم عبور الطرق وغيرها مما يفرض على الناس كالإتاوات التي لا يستطيعون الفكاك منها، ولما تربح منهم في الماء والكهرباء والغاز ومواد الطاقة الأخرى، ولكان أسرع في استغلال طاقتهم البشرية في استخراج النفط والغاز والذهب وكافة الثروات الأخرى بدلا من منحها للشركات الرأسمالية بلا ثمن، لو كان حقا يريد النهوض بمصر وأهلها ويريد لهم حياة كريمة لما كبل البلاد بقروض الصندوق الدولي المشروطة والتي تضمن مصالح شركات الغرب في بلادنا وتكبل البلاد لعقود مقبلة في ربقة التبعية للغرب الكافر.

لو كان حقا يريد للناس حياة كريمة لطبق عليهم الإسلام بنظامه الشامل الضامن للحقوق والواجبات والذي يحتوي العدل المطلق ويضمن كرامة الإنسان بوصفه إنساناً بغض النظر عن دينه ولونه وعرقه وطائفته.

أيها المخلصون في جيش الكنانة: إنكم وأهل مصر سواء فأنتم منهم وهم منكم؛ يصيبكم مصابهم ويؤلمكم ألمهم مهما حاول النظام تفريقكم عنهم ومهما أغراكم بمميزات ورواتب ومصالح كلها لا شيء ولن تغني عنكم أمام الله شيئا، فضلا عن كونها رشوة ورغم ما فيها من سحت أقل بكثير مما هو حق لكم من حلال الله الذي أوجبه لكم وللأمة من ثروات مصر، فما يلهيكم به النظام من فتات يسرق به باقي ثرواتكم وثروات كل أهل مصر المغلوبين، فلا تكونوا عونا له في ظلمه وانصروا العاملين لتطبيق الإسلام بنظامه الشامل الضامن للعدل والحياة الكريمة ورغد العيش في ظل الإسلام ودولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فهذا والله الفوز الذي ليس بعده فوز، وإن الإسلام بنظامه ومن خلال دولته تلك هو وحده القادر على تخفيف أعباء الناس جميعا وليس أهل الريف والعشوائيات فقط، هو وحده الضامن لكرامة الناس ورفاهيتهم ورغد عيشهم، فقط طبقوه كما ينبغي أن يطبق وأقيموا دولته كما كانت وكما يحملها لكم حزب التحرير، حينها فقط نقول إن مصر على طريق النهضة وإن أهلها في سبيلهم لحياة كريمة. نسأل الله أن تكون قريبا اللهم آمين.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست