مصر والسعودية عمودا خيبة الأمة ومحور التآمر عليها!!
مصر والسعودية عمودا خيبة الأمة ومحور التآمر عليها!!

الخبر:   نقل موقع 24 على الشبكة العنكبوتية الأحد 10 نيسان/أبريل 2016م، قول شيخ الأزهر إن زيارة الملك سلمان تأتي دعماً لمؤسسة الأزهر الشريف، وسنداً لفكره الوسطي المستقيم، وتصريحه لقطاع الأخبار في التلفزيون المصري أن هذه الزيارة تكشف عن مدى إدراك المسئولين في مصر والسعودية أن هذا وقت الالتقاء واتحاد الصف والوقوف معاً، لصد الهجمات والمخططات التي تستهدف أمن واستقرار الأمة العربية والإسلامية، وتأكيده أن الزيارة التاريخية لسلمان إلى مصر جاءت في وقت دقيق من تاريخ الأمة العربية، تعول فيه الأمة كلها على مصر والسعودية الكثير من الآمال باعتبارهما عمودي الخيمة العربية.

0:00 0:00
Speed:
April 17, 2016

مصر والسعودية عمودا خيبة الأمة ومحور التآمر عليها!!

مصر والسعودية عمودا خيبة الأمة ومحور التآمر عليها!!

الخبر:

نقل موقع 24 على الشبكة العنكبوتية الأحد 10 نيسان/أبريل 2016م، قول شيخ الأزهر إن زيارة الملك سلمان تأتي دعماً لمؤسسة الأزهر الشريف، وسنداً لفكره الوسطي المستقيم، وتصريحه لقطاع الأخبار في التلفزيون المصري أن هذه الزيارة تكشف عن مدى إدراك المسئولين في مصر والسعودية أن هذا وقت الالتقاء واتحاد الصف والوقوف معاً، لصد الهجمات والمخططات التي تستهدف أمن واستقرار الأمة العربية والإسلامية، وتأكيده أن الزيارة التاريخية لسلمان إلى مصر جاءت في وقت دقيق من تاريخ الأمة العربية، تعول فيه الأمة كلها على مصر والسعودية الكثير من الآمال باعتبارهما عمودي الخيمة العربية.

التعليق:

بلاد الحرمين منبع الوحي وقبلة المسلمين وموطن أعظم مقدساتهم، ووطأتها أقدام النبي e وصحابته رضي الله عنهم، وفي كل ناحية من جنباتها قصة من قصص العزة والكرامة التي نستنشق شذاها من عبق ثراها المختلط بدماء الشهداء من أصحاب رسول الله e، ومصر الكنانة درع الأمة وحصنها وسلة غذائها، مصر عمرو بن العاص وصلاح الدين وقطز.

مصر وبلاد الحرمين قبلة الأمة وأعظم مقدساتها ودرعها الحامي هكذا كانتا قوة للأمة فكرا ووعيا يحركها وجيشا يحرسها ويحميها ويرد كيد عدوها، نعم هكذا كانت عندما كانت بلاد المسلمين دولة واحدة يحكمها حاكم واحد هو خليفة المسلمين، فلما أصبحت الأمة بلا خلافة لم يعد في بلاد الحرمين وعي وفكر يقود الأمة بل تسمت بدولة لآل سعود عملاء أمريكا وصنيعة بريطانيا، وصارت راعية التآمر على الأمة لوأد ثوراتها وتمييع قضاياها ومنعها من إقامة الخلافة على منهاج النبوة، ولم تعد مصر درعا للأمة بل سيفا مسلطا على أبنائها حاصدا لأرواح الثائرين منهم، عونا لكل ظالم متجبر قاتل لهم، فأصبحتا بحق كما قال شيخ الأزهر عمودي الأمة إلا أنهما عمودا خيبتها التي ترعي التآمر وتحتضن المتآمرين عليها لا عمودَيْ خيمتها التي تظللها وتحميها.

نعم يا شيخ الأزهر، تحتاج الأمة إلى توحد يعيد لها استقرارا حقيقيا في ظل أحكام الوحي المنزل من رب العالمين والذي يزيل الحدود الوهمية المصطنعة ويعيد بلاد الإسلام دولة واحدة في ظل الخلافة على منهاج النبوة تحكم بالإسلام في الداخل وتحمله إلى العالم بالدعوة والجهاد، فتعيد للمسلمين عزتهم وهيبتهم وكرامتهم وتصون أعراضهم ودماءهم التي رخصها واستباحها حكام خونة أقزام، تقربوا للغرب بسفك دماء الثائرين المطالبين بالانعتاق من التبعية للغرب.

يا أهل الكنانة الكرام! هؤلاء هم حكامكم وتلك هي بطانتهم بطانة سوء على شاكلتهم لا تمل من تسويغ نفاقهم وتبرير إجرامهم، وتمييع قضاياكم وتقزيمها، وتصوير كل محاولة لإعادة خلافتكم على أنها ضرب لاستقرار بلادكم المزعوم، فالاستقرار يأتي من العدل، والعدل يأتي من تطبيق الإسلام، والإسلام لا يطبق إلا بدولة الخلافة على منهاج النبوة. ولا قرار لهم فقرارهم يملى عليهم من سيدهم في البيت الأبيض، فتلك هي قبلتهم، أما أنتم فقبلتكم البيت الحرام وقراركم واستقراركم يأتي من وحي الله لرسوله e ومن وجوب تطبيقه كاملا من خلال الخلافة على منهاج النبوة، فهذا دينكم الذي تدينون لله به والذي أكمله لكم وأتم به نعمته عليكم وارتضاه لكم دينا ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾، وليس هذا الدين الجديد الوسطي الذي تبشركم به أمريكا ودعاتها وشيوخها ومن لف لفيفها، فانفضّوا عنهم وعن دعواتهم للخنوع والركون والرضا بما يمليه الغرب، لا تسمعوا لهم وانظروا عمن تأخذون دينكم؛ فدينكم دين عزة دين قوة يأبى عليكم الخنوع والخضوع، واسمعوا لإخوانكم شباب حزب التحرير الذين ما كذبوكم بل حملوا هم الأمة وسعوا إلى نهضتها وإقالة عثراتها وغايتهم الكبرى هي وحدتها وتحقيق استقرارها في خلافة على منهاج النبوة، فكونوا معهم فهم الرائد الذي لا يكذب أهله وهم وحدهم من يحمل ما يوحد الأمة ويعيد استقرارها بإزالة تلك الحدود الوهمية والكيانات الكرتونية وإقامتها خلافة على منهاج النبوة تنهي عقود التبعية للغرب الكافر، وتعيد للأمة خيراتها وثرواتها المنهوبة فيكون العدل الذي تأملون وترجون ومن أجله خرجتم ثائرين، واعلموا أنه لا عدل لكم بغير أحكام الإسلام ولا تطبيق للإسلام بغير خلافة على منهاج النبوة ولن تقوم لمصر وللأمة قائمة ولن يستقر لها قرار بغير ذلك، وبينكم دعاتها وحاملو رايتها فكونوا لهم عونا وأنصارا لعل الله يفتح بكم وعليكم فتكونوا حملة الخير للعالمين، واعلموا أن الله متم نوره ومعلي كلمته ومعيد دولته بكم أو بغيركم، فدولة الإسلام عائدة، هكذا وعد الله وبشر رسوله e، فكونوا أنتم السابقين لرفع رايتها وحمل لواء عودتها، ولا يسبقنكم إليها أحد فيفوز بما أنتم أهله ومستحقوه، فكونوا أنتم السابقين الفائزين في الدنيا بعزها وفي الآخرة بنعيمها وطيب مقامها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست