مصطلح أهل السنة والجماعة الحلقة الحادية والعشرون ثانيا: حديث تفترق أمتي
مصطلح أهل السنة والجماعة الحلقة الحادية والعشرون ثانيا: حديث تفترق أمتي

حديث أبي هريرة رضي الله عنه: أخرجه التّرمذي في جامعه (رقم 2640)، وأبو داود (رقم 4596) في سننه ومن طريقه البيهقي في السّنن الكبرى 10/208 رقم (20901)، وابن ماجه في سننه (رقم 3991)، وابن حبّان في صحيحهِ 14/140 رقم (6247) وفي 15/125 رقم (6731)، والحاكم في المستدرك (رقم 10 و441 و442)، وأحمد 14/124 رقم (8396) كلّهُم من طُرُقٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ r: «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً». 

0:00 0:00
Speed:
January 16, 2017

مصطلح أهل السنة والجماعة الحلقة الحادية والعشرون ثانيا: حديث تفترق أمتي

مصطلح أهل السنة والجماعة

الحلقة الحادية والعشرون

ثانيا: حديث تفترق أمتي

حديث أبي هريرة رضي الله عنه: أخرجه التّرمذي في جامعه (رقم 2640)، وأبو داود (رقم 4596) في سننه ومن طريقه البيهقي في السّنن الكبرى 208/10 رقم (20901)، وابن ماجه في سننه (رقم 3991)، وابن حبّان في صحيحهِ 140/14 رقم (6247) وفي 125/15 رقم (6731)، والحاكم في المستدرك (رقم 10 و441 و442)، وأحمد 124/14 رقم (8396) كلّهُم من طُرُقٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ r: «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفَرَّقَتِ النَّصَارَى عَلَى إِحْدَى أَوْ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً».

رواية راشد بن سعد عن عوف: أخرجها ابن ماجه في سننه (رقم 3992)

عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ r: «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ»، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: «الْجَمَاعَةُ» وعبّاد هو ابن يوسف الكِندي وقد وثّقه ابن ماجه، وقال الذّهبي في الكاشف (رقم 2582): "صَدوقٌ يغرُب". وقال في المغني (رقم 3059: لَيْسَ بِالْقَوِيّ)

رواية قتادة عن أنس:

أخرجها ابن ماجه في سننه (رقم 3993) قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ r: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ: الْجَمَاعَةُ».

وقد قوّى هذا الإسناد بعض الحفّاظ، فقال الضّياء المقدسي: "إِسْنَادهُ حَسنٌ". وقال الحافظ ابن كثير في البداية والنّهاية 37/19: "وَهَذَا إِسْنَادٌ قَوِيٌّ عَلَى شَرْطِ الصَّحِيحِ".

قال الدكتور حاكم المطيري[2]: وغمز في قوة صحته (أي الحديث برواياته) شيخ الإسلام ابن تيمية ـ مع أنه يصححه ـ فقال "فمن كفر الثنتين والسبعين فرقة كلهم فقد خالف الكتاب والسنة وإجماع الصحابة والتابعين لهم بإحسان، مع أن حديث "الثنتين والسبعين فرقة" ليس في الصحيحين، وقد ضعفه ابن حزم وغيره، لكن حسنه غيره أو صححه، كما صححه الحاكم وغيره"[3].

وقال الشوكاني "زيادة "كلها في النار" لا تصح مرفوعة ولا موقوفة"[4]

وخلاصة دراسة الدكتور المطيري للحديث نتيجتها:

نتائج البحث

وبعد جمع كل طرق هذا الحديث المشهور، ودراسته دراسة نقدية إسنادية، وصل الباحث إلى ما يلي:

1 ـ ثبت أن حديث عوف بن مالك منكر لضعف عباد بن يوسف، ولتفرده بهذا الحديث، ومخالفته الثقات الذين رووا الحديث عن صفوان، حيث خالفوه في إسناد وجعلوه من حديث معاوية بن أبي سفيان ليثبت بذلك أنه لا أصل له عن عوف بن مالك، وأنه خطأ من عباد بن يوسف ولم يتابع عليه.

2 ـ كما ثبت ضعف حديث معاوية لأن مداره على أزهر بن أبي عبد الله، وهو ناصبي غال، يسب عليا رضي الله عنه، وقد طعن فيه أبو داود وذكره ابن الجارود في الضعفاء، وقد تفرد بهذا الحديث عن معاوية، مما يقضي بأنه منكر وأحسن أحواله أنه حديث ضعيف.

3 ـ وكذلك ثبت ضعف حديث عبد الله بن عمرو وأنه حديث منكر، لأن مداره على عبد الرحمن بن زياد الأفريقي وهو شديد الضعف منكر الحديث، وقد تفرد بهذا الحديث ولم يتابع عليه، وقد اشتهر برواية الغرائب والمناكير، ورواه بالعنعنة، وهو مشهور بالتدليس بل شر أنواعه وهو التدليس عن المتروكين مما يدل على أنه حديث منكر، ولا أصل له عن عبد الله بن عمرو.

4 ـ كما ثبت أيضا أن حديث سعد بن أبي وقاص حديث منكر، إذا مداره على موسى بن عبيدة، وهو منكر الحديث لا يكتب حديثه، وقد تفرد بهذا الحديث ولم يتابع عليه من حديث سعد مما يقضي على حديثه هذا بالنكارة.

5 ـ وكذا ثبت أن حديث عمرو بن عوف المزني باطل لا أصل له، إذا مداره على كثير بن عبد الله، وهو منكر الحديث جداً، يروي عن أبيه عن جده نسخة موضوعة وهذا الحديث منها.

6 ـ وثبت أيضاً أن حديث أبي أمامة في الافتراق مداره على أبي غالب، وقد ضعفه النسائي، وقال عنه ابن سعد وابن حبان: "منكر الحديث"، وقد اختلف عليه الرواة الذين ذكروا حديث الافتراق عنه، وقد كشفت رواية حماد بن زيد وداود بن أبي السليك أن حديث الافتراق موقوف على أبي أمامة من كلامه لم يرفعه إلى النبي r، فوهم عليه بعض الرواة وجعلوه مرفوعاً، وعلى كل حال فتفرده بهذا الحديث مع ضعفه يجعل حديثه هذا في عداد المناكير على فرض ثبوت الرواية عنه مرفوعة، فكيف وقد جاءت أيضاً موقوفة وهو الصحيح؟

7 ـ كما ثبت أيضا أن حديث أنس مع كثرة طرقه عنه ليس فيها إسناد واحد صحيح ولا حسن بل ولا ضعيف، بل مدارها كلها على المتروكين كيزيد بن أبان الرقاشي، وقد قال عنه مسلم "متروك الحديث"، ومبارك بن سحيم وهو "متروك"، وزياد النميري وهو "منكر الحديث" كما قال ابن حبان، وابن لهيعة وهو "متروك بعد اختلاطه" وقد رواه بالعنعنة وهو مشهور بالتدليس، وسليمان بن طريف وهو "منكر الحديث" ومتهم بالوضع، ونجيح بن عبد الرحمن وقد قال عنه البخاري: "منكر الحديث"، وسعد بن سعيد وهو "متروك الحديث" كما قال النسائي، وهذه كل طرقه عن أنس، لا يصح منها شيء، فبان خطأ قول الشيخ الألباني بأنه صحيح قطعا عن أنس اغترارا برواية قتادة المعلولة المدلسة عن الرقاشي.

8 ـ كما ثبت أن حديث أبي هريرة هو أحسنها حالاً - وإسناده حسن - وليس في حديثه زيادة: "كلها في النار إلا واحدة"، ومداره على محمد بن عمرو الليثي وهو صدوق له أوهام، وقد تفرد بهذا الحديث عن أبي سلمة عن أبي هريرة، ولهذا تجنب مسلم تخريج حديثه هذا، مع أنه أخرج له أحاديث أخرى في المتابعات،

وعلى كل فكل طرق هذا الحديث مناكير وغرائب ضعيفة ومنكرة، وأحسنها حالا حديث أبي هريرة وهو حديث حسن، مع تساهل كبير في تحسينه لتفرد محمد بن عمرو به، وهو صدوق له أوهام خاصة في روايته عن أبي سلمة عن أبي هريرة، ولهذا كان القدماء يتقون حديثه كما قال يحيى بن معين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الفقير إلى رحمة الله تعالى: ثائر سلامة – أبو مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست