متى ستأخذ الثورة في قرغيزستان طريقها الصحيح؟
متى ستأخذ الثورة في قرغيزستان طريقها الصحيح؟

في 9 نيسان/أبريل، ذكرت خدمة إذاعة ليبرتي القرغيزية بأنه: "في 7 نيسان/أبريل 2010، حدثت ثورة في قرغيزستان، والتي أسفرت عن إقالة الرئيس كورمانبيك باكييف وأقربائه. قام ممثلو قيادة البلاد برئاسة الرئيس سورونباي جينبيكوف، وكذلك الرئيسة السابقة روزا أوتونباييفا، بزيارة مجمع أتا-بيت التذكاري، حيث كرموا ذكرى القتلى في تلك الأحداث.

0:00 0:00
Speed:
April 26, 2019

متى ستأخذ الثورة في قرغيزستان طريقها الصحيح؟

متى ستأخذ الثورة في قرغيزستان طريقها الصحيح؟

(مترجم)

الخبر:

في 9 نيسان/أبريل، ذكرت خدمة إذاعة ليبرتي القرغيزية بأنه: "في 7 نيسان/أبريل 2010، حدثت ثورة في قرغيزستان، والتي أسفرت عن إقالة الرئيس كورمانبيك باكييف وأقربائه.

قام ممثلو قيادة البلاد برئاسة الرئيس سورونباي جينبيكوف، وكذلك الرئيسة السابقة روزا أوتونباييفا، بزيارة مجمع أتا-بيت التذكاري، حيث كرموا ذكرى القتلى في تلك الأحداث.

أقيم الحدث المكرس لذكرى الضحايا في بيشكيك أمام مبنى المنتدى الإعلامي، وهو مقر الحزب الاجتماعي الديمقراطي في قرغيزستان. في هذا الاجتماع، انتقد الرئيس السابق ألمازبيك أتامباييف السلطات.

نتيجة لهذا الاجتماع، تم اعتماد حلول وتقديم عدد من المطالب إلى قيادة البلاد. وعلى وجه الخصوص، تم الإعلان عن تنظيم تجمع مماثل آخر خلال شهرين، وفي حالة عدم الامتثال للمطالب، ستحدث أحداث واسعة النطاق".

التعليق:

تشكلت قرغيزستان بحدودها الحديثة بعد ثورة 1917 في روسيا، ثم جمهورية قرغيزستان الاشتراكية السوفياتية داخل الاتحاد السوفياتي. بعد انهيار الاتحاد السوفيتي، في عام 1991، أعلنت قرغيزستان "الاستقلال" الرسمي عن موسكو، وأصبح أسكار أكاييف أول رئيس لقرغيزستان.

تميز حكم أكاييف، على عكس جيرانه، حكام آسيا الوسطى الطغاة (الذين تشربوا الطغيان القاسي وخلقوا طوائف شخصية)، بآراء أكثر ليبرالية. سمحت السلطات في البلاد بنظام متعدد الأحزاب. حصل بعضهم على حوافز مادية وتنوير ثقافي من الغرب. نظراً لاختراق أفكار "حقوق الإنسان" و"حرية التعبير"، شرع الشباب والنخبة في مسار من القيم الديمقراطية، وأصبحت قرغيزستان وكأنها جزيرة ديمقراطية في بحر من الطغيان والدكتاتورية.

في ربيع عام 2005، حدث ما يسمى بـ"ثورة الزنبق". تم طرد أكاييف باستخدام عدد قليل من الضحايا، وحل محله الرئيس الجديد كرمانبيك باكييف. عانى باكييف من مصير مشابه لأكاييف، بعد ثورة ربيعية أخرى في عام 2010. تم اختيار امرأة في منصب رئيس الدولة المؤقت، روزا أوتونباييفا، وفي خريف عام 2011 بعد الانتخابات، أصبح ألمازبيك أتامباييف رئيساً للبلاد. وفي الانتخابات التي تلتها في خريف عام 2017، أصبح سورونباي جينبيكوف رئيساً لقرغيزستان.

نرى أن شعب قرغيزستان قد فهم أن السلطة في أيدي الشعب، ويمكن للناس أن يمنحوا هذه السلطة لمن يشاؤون ويأخذوها بعيداً عمن يشاؤون. والدليل على ذلك هو أحداث السنوات العشر الأخيرة من عدم الاستقرار السياسي في البلاد، والتي لا تزال كذلك حتى يومنا هذا. في كل مرة يكون فيها الناس غير راضين عن سلطتهم، فإنهم يقومون بسهولة بإحداث ثورة ويزيحون حاكمهم. وبالتالي، ففي كل ربيع، يخاف السياسيون في قرغيزستان خوفاً شديداً من ثورة جديدة محتملة للشعب.

للأسف، تسمم شعب قرغيزستان، كونهم مسلمين، بالثقافة الغربية، ويرون حل جميع مشاكل حياتهم فقط من منظور التعليم العلماني الغربي، الذي يبعد الدين عن الحياة ولا يسمح للأفكار الإسلامية ولأحكام الله الخالق في حل مشاكل حياتهم.

الثقافة الغربية، مثل الورم السرطاني الذي يقتل المريض، فإنه يقتل ثورة شعب قرغيزستان. في كل مرة يخرج فيها الناس إلى الشوارع مع الرغبة في تغيير الواقع الشرير للأفضل، والأصلح، يقع الناس في فخ المستعمرين الغربيين. يبحث أصحاب النخبة والقوة، الذين تسمموا بالأفكار العلمانية، عن الخلاص من أعدائهم، المستعمرين الغربيين، الذين يتمثل هدفهم الوحيد في استعمار البلاد ونهب الموارد الطبيعية.

شعب قرغيزستان، الشعب المسلم، هو جزء لا يتجزأ من الأمة الإسلامية العظيمة. إن الحل الصحيح الوحيد لجميع المشاكل في حياة شعب قرغيزستان هو التخلي عن الأفكار الديمقراطية العلمانية الغريبة حول "حقوق الإنسان"، و"حرية التعبير"، وغيرها من الأفكار. شعب قرغيزستان هم مسلمون ويجب عليهم البحث عن حل في الإسلام!

حزب التحرير، كحزب سياسي إسلامي، درس بعمق مشكلة الأمة الإسلامية، وقد وجد حلاً في القرآن والسنة وقدم برنامجاً للحياة الإنسانية والمجتمع والدولة.

يجب أن ينضم شعب قرغيزستان إلى عمل حزب التحرير في إقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. حتى تصبح ثورتهم ثورة الأمة الإسلامية على أساس صحيح، وليس لإرضاء المستعمرين الكافرين، ولا على أساس الثقافة الغربية العلمانية، ولكن على أساس القرآن والسنة، في محاولة لنيل رضوان الله تعالى. عندها فقط سينجحون!

نسأل الله التوفيق والنصر. قال الله تعالى في كتابه العزيز: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست