مذكّرات الاعتقال الصادرة عن المحكمة الجنائية الدولية عدالةٌ أم أداة في يد القوى الغربية؟
مذكّرات الاعتقال الصادرة عن المحكمة الجنائية الدولية عدالةٌ أم أداة في يد القوى الغربية؟

الخبر:   أصدرت المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي، مؤخراً، مذكّرات اعتقال بحقّ رئيس وزراء كيان يهود بنيامين نتنياهو، ووزير الحرب السابق يوآف غالانت، والقيادي في حركة حماس محمد ضيف، متهمةً إياهم بارتكاب جرائم حرب وجرائم ضدّ الإنسانية.

0:00 0:00
Speed:
November 25, 2024

مذكّرات الاعتقال الصادرة عن المحكمة الجنائية الدولية عدالةٌ أم أداة في يد القوى الغربية؟

مذكّرات الاعتقال الصادرة عن المحكمة الجنائية الدولية

عدالةٌ أم أداة في يد القوى الغربية؟

(مترجم)

الخبر:

أصدرت المحكمة الجنائية الدولية في لاهاي، مؤخراً، مذكّرات اعتقال بحقّ رئيس وزراء كيان يهود بنيامين نتنياهو، ووزير الحرب السابق يوآف غالانت، والقيادي في حركة حماس محمد ضيف، متهمةً إياهم بارتكاب جرائم حرب وجرائم ضدّ الإنسانية.

التعليق:

رغم أنّ هذا قد يبدو وكأنه خطوةً نحو المساءلة، فإنّ القيود التي تفرضها المحكمة الجنائية الدولية والديناميكيات الجيوسياسية الأساسية تسلّط الضوء على حقيقة أعمق: فالمحكمة تعمل كأداة للقوى الغربية، وتركّز على الدول الضعيفة في حين تحمي الدول القوية. وعلاوةً على ذلك، فإنّ هذه القوى ذاتها غالباً ما تكون السبب الجذري والداعم للصّراعات التي تزعم أنها تعالجها. وقد تأسست المحكمة الجنائية الدولية عام 2002 لمحاسبة الأفراد على أخطر الجرائم، وتعمل على مبدأ أنّ لا أحد فوق القانون. ومع ذلك، فإنّ افتقارها إلى قوة التنفيذ والاعتماد على تعاون الدول يقوّض فعاليتها بشدة. فلم تصادق دول مثل كيان يهود وأمريكا وروسيا والصين على نظام روما الأساسي، ما يسمح لها بالعمل للإفلات من العقاب. ونتيجة لهذا، تستهدف المحكمة الجنائية الدولية بشكل غير متناسب قادة الدول الضعيفة، وخاصةً في أفريقيا والشرق الأوسط، في حين تتجنب قادة الدول القوية وحلفائها. وتعكس هذه العدالة الانتقائية التحيزات البنيوية للمحكمة، ما يكشف أنها أقلّ حيادية كمحكّم للعدالة وأكثر كأداة جيوسياسية للسيطرة على الدول الضعيفة. إنّ المحكمة الجنائية الدولية، من خلال حماية الدول القوية وحلفائها، تعمل على إدامة الظلم العالمي بدلاً من حلّه.

إنّ المحكمة الجنائية الدولية متشابكة بشكل عميق مع القوى الغربية، وخاصةً الدول الأوروبية، التي توفّر لها التمويل وتؤثر على عملياتها. وأمريكا رغم أنها ليست عضواً، تتدخل بنشاط لحماية مصالحها ومصالح حلفائها، مثل كيان يهود. وتكشف هذه الديناميكية عن دور المحكمة كأداة للحفاظ على الوضع العالمي الراهن بدلاً من تحديه. ومن السذاجة أن نتوقع العدالة من مؤسسة تشكل جزءاً من النظام ذاته الذي يغذي الصراعات ويدعمها، وخاصة في البلاد الإسلامية.

إنّ المحكمة الجنائية الدولية تدّعي الاختصاص القضائي على الجرائم في الأراضي الفلسطينية بسبب انضمام فلسطين إلى نظام روما في عام 2015. ومع ذلك، فإن تحالفات كيان يهود القوية، وخاصةً أمريكا، تجعلها غير قابلة للمساس تقريباً. ومن غير المرجّح أن تؤدي أوامر الاعتقال الصادرة بحق نتنياهو وغالانت إلى اتخاذ إجراءات ملموسة، حيث يواصل كيان يهود رفض سلطة المحكمة الجنائية الدولية مع الإفلات من العقاب.

إنّ هذا الموقف يسلّط الضوء على القضية الأوسع نطاقاً: فالمحكمة الجنائية الدولية وداعموها الغربيون ليسوا مراقبين محايدين أو وسطاء بل هم مشاركون نشطون في إدامة الأزمة الفلسطينية. فهم يُمكّنون كيان يهود من احتلاله وعدوانه في حين يكتفون بالخدمة الشفهية للعدالة.

وباعتبارها الدولة المضيفة للمحكمة الجنائية الدولية، فإن هولندا تجسّد نفاق النهج الغربي. ففي حين تصدر المحكمة أوامر اعتقال ضدّ قادة كيان يهود، تعمل هولندا في الوقت نفسه على قمع الانتقادات الموجهة إلى كيان يهود من خلال مساواة معاداة الصهيونية بمعاداة السامية. وهذه الخطوة تخنق المعارضة المشروعة لسياسات يهود وتسلّط الضوء على التطبيق الانتقائي للعدالة، الأمر الذي يقوض مصداقية المحكمة الجنائية الدولية.

إنّ اللجوء إلى مؤسسات مثل المحكمة الجنائية الدولية أو القوى الغربية من أجل العدالة ليس فقط عبثاً بل إنه أيضاً مضلّل. فهذه القوى هي مصدر المشكلة، وليس حلّها. والمحكمة الجنائية الدولية ليست أكثر من أداة في أيديهم، مصممة للسيطرة على الدول الضعيفة مع الحفاظ على هيمنة الأقوياء. وتوقع العدالة من مثل هذا النظام هو أمر ساذج.

إنّ الحلّ الحقيقي لمشاكل المسلمين، بما في ذلك تحرير فلسطين، يكمن في الأمة الإسلامية نفسها. ومن خلال الوحدة تحت راية واحدة هي الخلافة فقط يمكن للمسلمين استعادة كرامتهم وسيادتهم وأرضهم. إن الانقسام المستمر بين البلاد الإسلامية يضعف قوتنا الجماعية، ما يسمح للقوى الخارجية باستغلالنا والهيمنة علينا. إنّ تحرير فلسطين لن يأتي من خلال المحاكم الدولية أو المؤسسات الاستعمارية، بل من خلال الجهود الموحدة للأمة الإسلامية. لقد حان الوقت للاعتراف بهذه الحقيقة والعمل مع حزب التحرير نحو إحياء الأمة من خلال إقامة الخلافة، التي وحدها يمكن أن توفر الحلّ الشامل للتحديات التي يواجهها المسلمون في جميع أنحاء العالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست