مؤشر الشريعة القشور إسلامية لكن الباطن لا يزال رأسماليًا (مترجم)
مؤشر الشريعة القشور إسلامية لكن الباطن لا يزال رأسماليًا (مترجم)

الخبر: في مؤتمر العلماء والأمراء الذي عقد في 28 آذار/مارس، عرض رئيس الوزراء الماليزي داتو سيري نجيب مؤشر الشريعة الماليزي (MSI) لعام 2015. جاء هذا التقرير نتيجة دراسة أجريت لمدة 6 أشهر بدأت من 15 تموز/يوليو 2015 وامتدت حتى 15 كانون الثاني/يناير 2016، قامت بها وحدة مؤشر الشريعة الماليزي التابعة لوزارة التنمية الإسلامية في ماليزيا (JAKIM) إلى جانب 133 باحثاً من خمس جامعات محلية.

0:00 0:00
Speed:
April 28, 2016

مؤشر الشريعة القشور إسلامية لكن الباطن لا يزال رأسماليًا (مترجم)

مؤشر الشريعة

القشور إسلامية لكن الباطن لا يزال رأسماليًا

(مترجم)

الخبر:

في مؤتمر العلماء والأمراء الذي عقد في 28 آذار/مارس، عرض رئيس الوزراء الماليزي داتو سيري نجيب مؤشر الشريعة الماليزي (MSI) لعام 2015. جاء هذا التقرير نتيجة دراسة أجريت لمدة 6 أشهر بدأت من 15 تموز/يوليو 2015 وامتدت حتى 15 كانون الثاني/يناير 2016، قامت بها وحدة مؤشر الشريعة الماليزي التابعة لوزارة التنمية الإسلامية في ماليزيا (JAKIM) إلى جانب 133 باحثاً من خمس جامعات محلية. وكان مجموع من أجري معهم الاستطلاع 7587 من واضعي السياسات ومنفذيها. ووفقًا للدراسة، فقد أظهر تقييم الحكم العام للحكومة الماليزية استنادًا إلى مؤشر الشريعة الماليزي في عام 2015 بأن 75،42% من الشريعة جاء متوافقًا مع ثمانية مجالات رئيسية تم رصدها وهي القانون الإسلامي، والسياسة، والاقتصاد، والتعليم، والصحة، والبنية التحتية، والبيئة، والثقافة، والاجتماع. وقد تم تصميم مؤشر الشريعة هذا بطريقة علمية لقياس مستوى الالتزام الحكومي في تنشيط المبادئ والقيم والنظم الإسلامية استنادًا إلى مقاصد الشريعة الخمسة في الحفاظ على الدين والنفس والعقل والنسل والمال. وإذا ما كان المؤشر مرتفعًا كان معنى ذلك أن الشريحة المشاركة في الاستطلاع لديها وجهة نظر أو تصور جيد للحكم قائم على مقاصد الشريعة.

التعليق:

من أجل فهم ماهية مؤشر الشريعة الماليزي، من الضروري جدًا أن نفهم تمامًا مصطلح مقاصد الشريعة. وبناءً على ما وضحه الشيخ تقي الدين النبهاني في كتابه الشخصية الإسلامية (حزب التحرير، ص357/ ج3) وكذلك في كتاب مقدمة الدستور (حزب التحرير، ج1 /ص57) فطالما أن مقاصد الشريعة أمر جدير بالاهتمام، فإن أربعة مبادئ رئيسية لا بد وأن تكون مفهومة بشكل واضح. وهذه المبادئ هي:

  1. المصلحة (المنفعة) هي حكمة (ونتيجة) نحصل عليها جراء تطبيق الشريعة الإسلامية. فقد كان مفهوما في نصوص القرآن الكريم بأن رسول الله r قد جاء رحمةً للعالمين. ولا بد من التأكيد على أن النفع ليس هو (العقل) أو الدافع للحكم، ولكنه النتيجة والحكمة التي خرجت نتيجة لتطبيق الشريعة. وبكلمات أخرى، يجب أن ينصب النقاش على تطبيق الشريعة الإسلامية، ومن ثم فإن المنافع سيتم جنيها.
  2. لا بد وأن تظهر مقاصد الشريعة بوصفها كلا، وليست طريقةً محددة. وبعبارة أخرى، فإن وجود المصالح كان نتيجة لتطبيق الشريعة ككل وليس نتيجة لتطبيق بعض الأحكام.
  3. الحكمة التي تنتج عن تطبيق الشريعة قد تظهر في بعض الأحيان، ولا تظهر في أحيان أخرى. وإذا ما أخبرنا الله بأننا إن طبقنا هذا الحكم الشرعي فإنه من الممكن أن نجني منفعة معينة، فإن هذا لا يعني بأن هذه الحكمة وهذه المنفعة هي سبب تطبيقنا لهذا الحكم الشرعي بعينه.
  4. إن الحكمة الناتجة عن تطبيق الشريعة لا يمكن إلا أن تكون واضحة في النصوص الإسلامية، لا أن تكون مما قدره العقل. وذلك لأن الله تعالى هو وحده واضع الأحكام وهو الذي يعلم الغرض الحقيقي من وراء تشريعه. ومن المستحيل علينا نحن مخلوقاته تعالى، أن ندرك وبشكل كامل الحكمة من وراء تشريع حكم معين ما لم يُعرف ذلك في القرآن والسنة.

إن حقيقة الأمر هي أن فهم مصطلح مقاصد الشريعة الذي بني مؤشر الشريعة على أساسه قد ذهب مذهبًا بعيدًا كل البعد عن المعنى الحقيقي لهذا المصطلح. وإن فهم مقاصد الشريعة بالطريقة التي تخدم فكرة مؤشر الشريعة ما هو إلا من باب استغلال وسيلة معينة للوصول إلى غايات منشودة، وهذا يعد من المفاهيم الأساسية في السياسة العلمانية. وما يجدر التركيز عليه هو مقاصد الشريعة وليس الأساليب المشروعة لتطبيق الشريعة.

واضح أن مؤشر الشريعة هذا لم يوضع لقياس مدى تطبيق الإسلام في ماليزيا حقيقةً، وإنما وضع ليكون مجرد مقياس لمعرفة ما إذا كانت الحكومة قد حققت أهدافها، وإن كان ذلك عن طريق تطبيق القوانين العلمانية. والحقيقة هي أنها باستخدامها لهذا المؤشر تحاول الحكومة في ماليزيا خداع المسلمين عبر جعلهم يظنون أن الحزب الحاكم يناصر تطبيق الشريعة في ماليزيا. إن المصطلحات التي تستخدمها الحكومة في مؤشر الشريعة ليست إلا حيلاً تهدف من ورائها إلى تضليل الناس لضمان بقائها في مقاعد السلطة.

أين هو المغزى والهدف الحقيقي من مؤشر الشريعة إذا كانت القوانين الحكومية قائمة على أساس نظام لم يأت به الله سبحانه؟ أين هو الالتزام بإحياء المبادئ والقيم والنظم الإسلامية إن لم يُجعل القرآن والسنة مرجعين أساسيين عند حكم البلاد؟ وما معنى وجود مؤشر الشريعة إذا كان النظام الحاكم يستخدم الدستور الاتحادي الذي هو نتاج لجنة "ريد" ويجعله فوق كل قانون في البلاد؟ إن مؤشر الشريعة في حقيقته ليس أكثر من مجرد وسيلة لتبرير جهود الحكومة العرجاء في "الحفاظ على مبادئ وقيم الإسلام" ضمن إطار الدستور الاتحادي. وغالبًا ما يستخدم حكامنا الشريعة الإسلامية لخداع المسلمين، في الوقت الذي يستمرون فيه بتطبيق أحكام الطاغوت. إن مثل مؤشر الشريعة هذا وقبله، فكرة المجتمع المدني، والوسطية، والإسلام الحضاري وغير ذلك وُضعت لتعود بالفائدة على وضع الحكومة الراهن. وهذا هو الفن الذي تستخدمه الحكومة لخداع المسلمين حيث توهمهم بالاستناد إلى أحكام الإسلام في حين إن الواقع أنها تظل على حالها متمسكة بالنظم القديمة الاستعمارية.

يقول الله تعالى في القرآن الكريم: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ [المائدة: 45]

وبالتالي، فهل من الممكن لأولئك الذين يرفضون شرع الله في الحكومة أن يستعدوا لتلبية مطالب الشريعة؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد - ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست