مؤتمر الخلافة والتعليم: إحياء العصر الذهبي
مؤتمر الخلافة والتعليم: إحياء العصر الذهبي

الخبر: أنهت شابات حزب التحرير مؤتمر الخلافة والتعليم الذي عقدنه في إندونيسيا يوم السبت الماضي 2017/3/11 والذي تحدثت فيه أخوات من مختلف بلدان العالم عن فساد التعليم الممارس في البلاد الإسلامية وقدمن شرحا للتعليم في دولة الخلافة على منهاج النبوة القائمة قريبا بإذن الله.

0:00 0:00
Speed:
March 13, 2017

مؤتمر الخلافة والتعليم: إحياء العصر الذهبي

مؤتمر الخلافة والتعليم: إحياء العصر الذهبي

الخبر:

أنهت شابات حزب التحرير مؤتمر الخلافة والتعليم الذي عقدنه في إندونيسيا يوم السبت الماضي 2017/3/11 والذي تحدثت فيه أخوات من مختلف بلدان العالم عن فساد التعليم الممارس في البلاد الإسلامية وقدمن شرحا للتعليم في دولة الخلافة على منهاج النبوة القائمة قريبا بإذن الله.

فقد افتتحت الأخت أم فضيلة من إندونيسيا المؤتمر بكلمة ترحيبية. ثم توالت الكلمات من الأخوات؛ فكانت الكلمة الأولى بعنوان "ما هي الغاية من التعليم؟" حيث قدمتها الأخت فيكا قمارة من إندونيسيا.

وقدمت الأخت أم عبادة من فلسطين الكلمة الثانية بعنوان "أسباب أزمة التعليم في العالم الإسلامي".

أما الكلمة الثالثة فقدمتها الأخت الدكتورة نسرين نواز مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير بعنوان "رؤية التعليم في دولة الخلافة إحياء الجيل والحضارة الذهبية".

وقدمت الأخت نداء سعادة الكلمة الرابعة بعنوان "بناء تعليم متميز على مستوى العالم في ظل دولة الخلافة".

ومن تركيا كانت الكلمة الخامسة التي قدمتها الأخت زهرة مالك وكانت بعنوان "أهمية تعليم الفتيات والنساء في ظل الحكم الإسلامي".

أما كلمة الأردن (الكلمة السادسة) بعنوان "التعليم ما قبل المدرسة في الإسلام"، فقد قدمتها الأخت نسرين بوظافري بعد منع النظام الأردني صاحبة الكلمة من السفر.

وقدمت الأخت الدكتورة إسلام ديانا سلامات من ماليزيا الكلمة السابعة بعنوان "صفات التدريس لتخريج مفكرين مميزين وشخصيات إبداعية".

وقدمت الأخت شادية الصيادي من تونس الكلمة الثامنة بعنوان "اللغة العربية بين عز الإسلام ومكر الاستعمار".

وقدمت الأخت ياسمين مالك من هولندا الكلمة التاسعة بعنوان "الإرشاد للتربية والتعليم الإسلامي في غياب دولة الخلافة".

ثم قدمت الدكتورة نسرين نواز الكلمة الختامية للمؤتمر.

وبعد ذلك اختتم المؤتمر أعماله بعقد مؤتمر صحفي حضره عدد من الصحفيات والصحفيين.

وقد حضر المؤتمر جمع كبير من النساء القياديات والمثقفات في مجتمعاتهن، إضافة إلى متابعة الألوف عبر الإنترنت.

التعليق:

رغم ضخامة المؤتمر وعالميته وأهميته في تناوله لقضية مهمة من قضايا العالم الإسلامي التي يعيشها المسلمون في كل ساعة من ساعات أيامهم، إلا أن المؤتمر لم يجد الاهتمام الإعلامي الذي يجب أن يحصل عليه في عالمنا العربي.

ذلك أن دول العالم كله بما يتبعها من وسائل الإعلام قد أجمعت أمرها على المقاطعة الإعلامية لنشاطات حزب التحرير، وتواصى كبراء الإجرام العالمي على التعتيم الإعلامي على حزب التحرير بحيث لا يذكرونه لا سلبا ولا إيجابا، لأنهم يدركون أن الإعلام وسيلة مهمة في صناعة فكر الناس ومفاهيمهم وقيمهم وقناعاتهم.

لا يريدون للبشر الانعتاق من هيمنة القذارة الرأسمالية على العقول البشرية، ولا يزالون يصرون على استعباد البشرية بأسرها لهُبل العصر أمريكا ومن يستن بسنتها من الآلهة الصغرى اللات والعزى وبقية الأصنام.

وكما توافق قوم نوح على الإصرار على عبادة أصنامهم إذ عقدوا مؤتمرا اتخذوا فيه قرار الإبقاء على عبادة آلهتهم الباطلة وعدم الاستجابة لدعوة نوح عليه السلام الإصلاحية ﴿وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ [نوح: 23]، فقد توافق الإعلام العالمي على البقاء تحت هيمنة الدول الرأسمالية الإجرامية التي قادت البشرية نحو الهاوية ونشرت الفساد في البر والبحر.

من أجل ذلك أهيب بشاباتنا وشبابنا أن يعملوا على خرق التعتيم الإعلامي وأن يكونوا هم الأداة الفعالة في نشر أخبار المؤتمر وأعماله خاصة وأخبار الحزب وأميره العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة، وشبابه عامة على جميع وسائل التواصل بنشاط كبير وبذل أقصى ما لديهم من جهد حتى نخرج من الشرنقة التي تسعى دول العالم بلا استثناء لإبقائنا فيها محاولين إطفاء كلمة الحق...

إن علينا إفشال خططهم، ولا يقال هنا إننا يجب أن نركز على الفكرة ونترك الأشخاص، فالأشخاص هم حملة الفكر ولا بد من التركيز على الفكرة وحاملها حتى يعرف الجمهور أنه يتعامل مع شخصيات حقيقية لا شخصيات معنوية فحسب، وأنه يتعامل مع واقع حقيقي لا واقعاً افتراضياً، وأن نشد العزم بإصرار أكبر على مواصلة بيان التعليم الحقيقي في ظل دولة الخلافة، وكذلك كافة جوانب الحياة والتناقض الكبير بين الحياة في ظل الخلافة على منهاج النبوة والحياة البائسة التي يعيشها المسلمون اليوم.

﴿وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾ [الصف: 8]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست