مؤتمر الرياض يفرض الحل الأمريكي للثورة السورية
مؤتمر الرياض يفرض الحل الأمريكي للثورة السورية

الجزيرة نت: اختتمت قوى المعارضة السورية اجتماعها في الرياض بإصدار بيان ختامي شدد على ضرورة التسوية السياسية للقضية السورية بناء على بيان جنيف والقرارات الدولية، وتشكيل هيئة عليا، وسط تحفظات حركة أحرار الشام.

0:00 0:00
Speed:
December 12, 2015

مؤتمر الرياض يفرض الحل الأمريكي للثورة السورية

 مؤتمر الرياض يفرض الحل الأمريكي للثورة السورية

الخبر:

الجزيرة نت: اختتمت قوى المعارضة السورية اجتماعها في الرياض بإصدار بيان ختامي شدد على ضرورة التسوية السياسية للقضية السورية بناء على بيان جنيف والقرارات الدولية، وتشكيل هيئة عليا، وسط تحفظات حركة أحرار الشام.

واتفق المجتمعون في العاصمة السعودية - بعد ثلاثة أيام من الجلسات النقاشية - على أن تكون الدولة مدنية ديمقراطية وغير مركزية، مؤكدين أن هدف التسوية هو تأسيس نظام سياسي جديد لا مكان فيه للرئيس بشار الأسد أو أي من أركان حكمه.

وأبدى بيان الرياض استعداد المشاركين للتفاوض مع ممثلين عن النظام السوري استنادا لبيان جنيف1 وبرعاية الأمم المتحدة وضمانتها وخلال فترة زمنية محددة.

كما طالب المشاركون في البيان - الذي صدر اليوم الخميس - النظام بخطوات حسن نية، منها وقف أحكام الإعدام، وإطلاق سراح كافة المعتقلين، وفك الحصار عن المناطق، وإدخال المساعدات، والامتناع عن إلقاء البراميل المتفجرة، ووقف القصف الروسي على المدنيين ومناطق المعارضة.

وشدد المشاركون - الذين يصل عددهم إلى نحو مئة ممثل عن الفصائل في الداخل والخارج - على تطبيق المرحلة الانتقالية وفق بيان جنيف1، وضرورة مغادرة الأسد وأركانه مع بداية تلك المرحلة.

التعليق:

انطلقت الثورة منذ اندلاعها عام 2011 انطلاقة سريعة في تقويض أركان النظام البعثي الحاقد على الإسلام والمسلمين، وكان المسلمون قاب قوسين أو أدنى من النصر لما رفعوا راية التوحيد وأجمعوا على إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، مما أزعج العالم كله الذي لا يريد لدين الله أن يظهر وخافوا من تحقق قوله تعالى ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾ [الصف: 9]، فما كان من دول الكفر والطغيان إلا أن عقدت المؤتمرات تلو المؤتمرات لإبعاد الثورة عن الإسلام ومسخها إلى الصورة الديمقراطية الكريهة والعلمانية البغيضة، فدخلت الدول العالمية والإقليمية بمخابراتها المجرمة وأسلحتها الفتاكة وأموالها السياسية القذرة وطعامها المسموم لشيطنة الثورة وحرف قتالهم المشروع ضد نظام بشار إلى قتال داخلي ضد بعضهم بعضا، فرفع النصر وحلت محله الهزائم والمذابح.

والآن وبعد أن شرد أكثر من نصف سكان سوريا خارج منازله، وقتل أكثر من مليون شخص، ودمر نحو 70% من البنى التحتية والمساكن في سوريا، ونحو نصف مليون بين غائب ومعتقل، ومثلهم من أصحاب العاهات الدائمة، غير الأرامل والأيتام الذين لا يمكن حصر تعدادهم بسبب الأوضاع الراهنة. يذهب الجميع للسعودية التي مدت مخالبها لتقويض الثورة وإطالة عمر النظام.

نستطيع أن نفهم ذهاب العلمانيين والديمقراطيين أذناب الغرب الكافر من الائتلاف الوطني وهيئة التنسيق الديمقراطي والمستقلين والإخوان فهم المسوقون للحل السياسي الغربي والدولة المدنية العلمانية الديمقراطية.

أما أن يذهب المجاهدون الذين ضحوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله، والذين رفعوا راية رسول الله في معاركهم وقاتلوا منذ خمس سنين لتحكيم شرع الله في أرض الله، أن يذهب هؤلاء إلى آل سعود الذين وضعوا أيديهم بيد الإنجليز وخانوا دولة الخلافة العثمانية وحاربوا مع الإنجليز حتى أسقطوها، هل يظن ظان أن دولة هذا تاريخها تعمل على إيجاد دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؟

ألم يرفض ثوارُ الخنادق ثوارَ الفنادق الذين قضوا معظم سني الثورة في السياحة والسفر من بلد لآخر ومن فندق لآخر وأثروا من الأموال التي تدفقت عليهم لمساعدة الشعب السوري في محنته فصرفوها على ملذاتهم وشهواتهم؟!

ما بال الثوار يقبلون بهم اليوم ممثلين عنهم يتحدثون باسمهم حتى إذا تم لهم ما يريدون من الوصول إلى السلطة تخلصوا منهم بتهمة الإرهاب؟!

ما بال الثوار اليوم يقبلون بمقررات جنيف التي رعتها دول الإجرام التي تآمرت على الشعب السوري؟!

ما بال الثوار يوافقون على التفاوض مع النظام الذي خرجوا عليه، لماذا قبلتم ببقاء النظام وبقاء أركانه ومؤسساته وهي التي سامتكم سوء العذاب على مدى 40 عاما، هل نسيتم المعتقلات والزنازين؟! هل نسيتم أنها لا زالت موجودة وأن عشرات الآلاف قتلوا تحت تعذيبها؟! هل تظنون أن رحيل بشار سينهي تلك الحقبة، ها أنتم ترون مبارك قد رحل فهل رحل جلاوزته وزبانيته، ألم تسمعوا أن التعذيب في المعتقلات المصرية زاد عما كان قبل رحيل مبارك؟!

لا زال رجال العهد البائد بينكم مصرين على بقاء مؤسسات الدولة كما هي، أليس رياض حجاج رئيس الوزراء السابق في الهيئة العليا للتفاوض؟ أليس عبدو حسام الدين معاون وزير النفط في الهيئة العليا للتفاوض؟

أما بقية الأعضاء فهم علمانيون وديمقراطيون موافقون على الحل السياسي الأمريكي الذي ينصاع لبقاء مؤسسات الدولة المدنية والعسكرية، وهذا يعني أن الجيش الذي دمركم سيبقى، المخابرات الجوية التي خبرتم جبروتها لا زالت وستبقى إن تنازلتم عن الخلافة وقبلتم بالدولة الديمقراطية العلمانية المدنية.

عجيب أمركم أيها الثوار!

ما بالكم قبلتم بالقرارات الدولية الصادرة عن هيئة الأمم المتحدة وهي الهيئة التي أعطت المهلة تلو المهلة لبشار ليقتل ويدمر ويحرق شعبه وهم يتفرجون، ولسان حال الأمم المتحدة يقول اذبح يا بشار واقتل ودمر ونحن معك ندعمك بالسلاح والعتاد والمال والسياسة حتى يركع الشعب السوري لأمريكا وأدواتها روسيا وإيران وتركيا والسعودية والأردن وغيرهم تعددت الآلهة.

ما بال الثوار تركوا طاعة الله الواحد الأحد وعبدوا آلهة لا تسمن ولا تغني من جوع؟

مقابل ماذا؟ لا شيء؛ مجرد ما يصل أزلام الائتلاف والتنسيق والمستقلين إلى الحكم سيركلونكم بأقدامهم، وستندمون ولات حين مندم.

إلى التمسك بشرع الله وبهوية الخلافة الراشدة على منهاج النبوة للدولة القادمة ندعوكم أيها الثوار. لا تتخلوا عنها فالنصر بيد الله لا بيد السعودية وأصنامها. العزة لله، الله المعز والمذل يعطي الملك من يشاء ويمنع من يشاء، لا تبتغوا العزة عند أحد من البشر، اطلبوا النصر من الله والعزة من الله والغنى من الله.

قال تعالى: ﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚأَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَفَإِنَّالْعِزَّةَلِلَّهِ جَمِيعًا﴾ [النساء: 139] وقال تعالى: ﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [آل عمران: 26]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست