مؤتمر مكافحة الإرهاب والتطرف يعرب عن قلقه إزاء تطلعات المسلمين إلى الإسلام!
مؤتمر مكافحة الإرهاب والتطرف يعرب عن قلقه إزاء تطلعات المسلمين إلى الإسلام!

الخبر: في يومي 4 و5 أيلول/سبتمبر استضافت طشقند حدثاً آخر ذا سمعةً وهو المؤتمر العلمي والعملي الدولي العاشر للمنظمة الإقليمية لمكافحة الإرهاب التابعة لمنظمة شنغهاي للتعاون والمؤتمر الثاني لرابطة الدول المستقلة حول مكافحة الإرهاب والتطرف.

0:00 0:00
Speed:
September 13, 2024

مؤتمر مكافحة الإرهاب والتطرف يعرب عن قلقه إزاء تطلعات المسلمين إلى الإسلام!

مؤتمر مكافحة الإرهاب والتطرف يعرب عن قلقه إزاء تطلعات المسلمين إلى الإسلام!

الخبر:

في يومي 4 و5 أيلول/سبتمبر استضافت طشقند حدثاً آخر ذا سمعةً وهو المؤتمر العلمي والعملي الدولي العاشر للمنظمة الإقليمية لمكافحة الإرهاب التابعة لمنظمة شنغهاي للتعاون والمؤتمر الثاني لرابطة الدول المستقلة حول مكافحة الإرهاب والتطرف.

التعليق:

يذكر أن 20 دولة عضواً في رابطة الدول المستقلة ومنظمة شنغهاي للتعاون شاركت في المؤتمرات الدولية المشتركة (بما في ذلك الدول الأعضاء في منظمة شنغهاي للتعاون والدول الشريكة في الحوار) والهيئات المفوضة والهياكل العاملة لـ9 هيئات تابعة للكومنولث وهيكلان عاملان تابعان لهيئات منظمة شنغهاي للتعاون و22 منظمة للأبحاث العلمية. كما حضره حوالي 250 ممثلاً عن 10 هيئات مختصة من 6 منظمات دولية مثل الإنتربول والمجموعة الأوروبية الآسيوية لمكافحة غسل الأموال وتمويل الإرهاب ومؤتمر التفاعل وتدابير بناء الثقة في آسيا (47 وفداً في المجموع).

أولا: إن عقد مثل هذا المؤتمر الباطل تحت ستار محاربة الإرهاب والتطرف ضد الإسلام والمسلمين في بلادنا الإسلامية التي أخرجت علماء مثل البخاري والترمذي أمر مؤسف ومثير للغضب. وبطبيعة الحال فإن المسؤولية عن ذلك - حتى لو تم تنفيذ مثل هذه التدابير لإرضاء أسيادهم الكبار مثل روسيا - ستتحملها الحكومة الأوزبيكية بالكامل. هذه الحكومة لا تفكر في لعنة الله وغضبه على تضييفها بمثل هذه التدابير المليئة بالفتن على الإسلام والمسلمين.

وقال ميرزياييف في خطابه للمشاركين في هذا المؤتمر على وجه الخصوص: "... وفي الوقت نفسه نحن نعتبر حماية وتقديم حقوق الإنسان والحريات والمراعاة غير المشروط لسيادة القانون أساساً أساسياً لمكافحة الإرهاب والتطرف". غير أن تطلع المسلمين إلى إسلامهم وخاصة إلى إدراك الإسلام كعقيدة ونظام سياسي ليس سببه أن حقوق الإنسان والحريات وسيادة القانون غير مكفولة كما قال ميرزياييف بل هذا وضع طبيعي. أي أنه بعد أن يسيطر الإسلام على عقل الإنسان وقلبه يصبح من الطبيعي أن يتطلع الإنسان إليه ويعيش وفق أحكامه. وسيقتنع ويؤمن بأنه لا يوجد ولا يمكن أن يوجد مبدأ مساو للإسلام الذي ينظم حياته. فمثلا شعوب آسيا الوسطى التي عانت - منذ أن جاءتها نعمة الإسلام، الكثير من الاضطهاد والعنف ضد دينها. وعلى الرغم من ذلك لم يرتد أحد منها عن الإسلام بل زاد تطلعهم إليه ولم يقلّ على الإطلاق. واليوم تتجمع المنظمات المعادية للإسلام وغيرها تحت حكم روسيا والصين وتفكر جاهدة في إبعاد المسلمين عن إسلامهم.

ويجب أن يلاحظ أن الفريق عبد السلام عزيزوف وهو رئيس جهاز أمن الدولة في أوزبيكستان ألقى كلمة في الجلسة العامة للمؤتمر. كما أشار في كلمته إلى أن الحكومة الأفغانية تحارب الإرهاب الدولي اعتماداً على قدراتها ومواردها وأكد أهمية مساعدتها في محاربة تنظيم ولاية خراسان. إن هذا التصريح الصادر عن رئيس هذا الجهاز الذي يعتبر الأداة الرئيسية لسياسة الحكومة الأوزبيكية في إبعاد شعبنا المسلم عن الإسلام أمر خطير. لأن ذلك يعني إدخال حركة طالبان في الصراع الدولي الذي تخوضه الدول الاستعمارية الكافرة ضد وصول الإسلام إلى السلطة. وبطبيعة الحال فإن هذا العمل لا يقتصر على محاربة تنظيم ولاية خراسان فقط بل يهدف أيضا إلى تقييد أنشطة الجماعات الإسلامية أو حظرها تماماً. لأن الغرب بزعامة أمريكا وروسيا والصين يعارضون إقامة طالبان حكما إسلاميا خالصا بقدر ما يستطيعون، لأنهم لا يشعرون بالقلق من التهديدات الزائفة مثل تنظيم الدولة بل من تطبيق نظام الإسلام في أفغانستان وتأثيره على آسيا الوسطى.

الحمد لله أن حركات النهضة على أساس الإسلام اليوم في البلاد الإسلامية وفي جزء لا يتجزأ منه في آسيا الوسطى وخاصة في أوزبيكستان تتخذ اليوم أشكالاً أقوى من أي وقت مضى. وبالطبع لن ينزعج من ذلك إلا الدول الاستعمارية الكافرة والحكام العملاء لها. واليوم تقترب اللحظات التي ستقوم فيها دولة الخلافة الراشدة التي وعد الله بها وبشر بها رسوله ﷺ وستأتي الأيام التي ستحرر فيها جميع البلاد الإسلامية من هيمنة الدول الاستعمارية الكافرة وخاصة فلسطين والمسجد الأقصى المبارك. وهذا ما يعارضه أعداء الله ويحاولون تأخيره، لذلك نحذر حكومة أوزبيكستان تحذيراً شديداً من أن تصادقهم ثم تكون من الخاسرين والنادمين في يوم تشخص فيه الأبصار! ونتذكر مرة أخرى أن القرار الصواب والحكيم هو العودة إلى الله واختيار الطريق الذي يؤدي إلى مرضاته من خلال استخلاص النتائج الصحيحة مما يحدث في العالم اليوم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست