مؤتمر "منبر الأقصى للخطباء والدعاة"
مؤتمر "منبر الأقصى للخطباء والدعاة"

اختتمت مؤسسة منبر الأقصى الدولية يوم السبت الماضي الموافق 2018/07/29 في مدينة إسطنبول المؤتمر الدولي الثاني لـ"منبر الأقصى للخطباء والدعاة" بمشاركة علماء من تركيا ودول عدة من العالم، وحضر المؤتمر، الذي استمر يومي الجمعة والسبت الماضيين، الأمين العام للاتحاد العالمي لعلماء المسلمين علي محيي الدين القرة داغي وأكثر من 400 عالم وخطيب وداع من أكثر من 50 دولة، ونوقشت في اليوم الأول مواضيع متعددة منها مؤسسة العمل المقدسي وتطويعه لخدمة القدس، وأما اليوم الثاني فقد شهد ورشات تدريبية للمشاركين ناقشوا فيها مهارات وتقنيات التواصل الإلكتروني في خدمة قضية القدس والدراسات الشرعية المتعلقة ببيت المقدس إضافة إلى فقرات فنية.  

0:00 0:00
Speed:
July 31, 2018

مؤتمر "منبر الأقصى للخطباء والدعاة"

مؤتمر "منبر الأقصى للخطباء والدعاة"

الخبر:

اختتمت مؤسسة منبر الأقصى الدولية يوم السبت الماضي الموافق 2018/07/29 في مدينة إسطنبول المؤتمر الدولي الثاني لـ"منبر الأقصى للخطباء والدعاة" بمشاركة علماء من تركيا ودول عدة من العالم، وحضر المؤتمر، الذي استمر يومي الجمعة والسبت الماضيين، الأمين العام للاتحاد العالمي لعلماء المسلمين علي محيي الدين القرة داغي وأكثر من 400 عالم وخطيب وداع من أكثر من 50 دولة، ونوقشت في اليوم الأول مواضيع متعددة منها مؤسسة العمل المقدسي وتطويعه لخدمة القدس، وأما اليوم الثاني فقد شهد ورشات تدريبية للمشاركين ناقشوا فيها مهارات وتقنيات التواصل الإلكتروني في خدمة قضية القدس والدراسات الشرعية المتعلقة ببيت المقدس إضافة إلى فقرات فنية.

التعليق:

لا شك أن للعلماء دوراً عظيماً في حياة الأمة، وقد جعل الإسلام من العلماء بوصلة للأمة، فإن زاغت أو انحرفت أو شاع الجهل فيها أو احتُلّت بعض بلادهم، كان العلماء لها بالمرصاد، يعلمون الناس دين ربهم ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويحيون فيهم روح الجهاد في سبيل الله، والعلماء الربانيون سابقا لم يكن أمرهم بالمعروف ونهيهم عن المنكر مقتصرا على فرادى المسلمين، بل وقفوا أيضا في وجه الحكام وقصروهم على الحق قصرا، ولأجل ذلك مدحهم النبي عليه الصلاة والسلام بقوله: «الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ»، وهم الذين قال الله فيهم: ﴿إنّما يَخشَى اللهَ مِن عِبادِهِ العُلَماءُ﴾، وقال فيهم عليه الصلاة والسلام: «إن مثل العلماء في الأرض كمثل النجوم في السماء يُهتدى بها في ظلمات البر والبحر، فإذا انطمست النجوم أوشك أن تضل الهداة»، هكذا كان العلماء يقولون الحق ولا يخشون في الله لومة لائم، ووقوف الإمام سعيد بن جبير في وجه الحجاج خير شاهد على ذلك مع أنه كان يعرف أن وقفته تلك ستؤدي به إلى القتل لا محالة، وأما سلطان العلماء العز بن عبد السلام بائع الأمراء فمواقفه العظيمة لا تنسى أبدا.

إلا أنه قد خلف من بعد هؤلاء العلماء الربانيين خلف، ليسوا بعلماء بل أشباه علماء، آثروا المناصب والمال على قول الحق، ورضا الحكام الفجرة على رضا رب العالمين، وتعلقوا بدنيا زائلة فانية ونسوا دار القرار الباقية، فأفتوا لهم بما يحبون وما يشتهون، ما لم ينزل الله به سلطانا، وتقربوا منهم زلفى، ونسوا أن التقرب من هؤلاء الطواغيت العملاء إنما هو مهلكة ما بعدها مهلكة، وها قد اجتمع 400 من أشباه العلماء من بلاد إسلامية شتى في إسطنبول للحديث عن القدس والأقصى، وعن مأساة فلسطين، ومعاناة أهلها مع يهود، وتحدث بعضهم عن فضل المسجد الأقصى وعن وجوب شد الرحال إليه، وتحدث بعضهم عن الوحدة دون أن يبين ما هي الوحدة المقصودة وكيف تتحقق، إلا أن موضوعا واحدا لم يتطرق إليه أحد منهم لا من قريب ولا من بعيد، ألا وهو تحرير المسجد الأقصى والقدس وسائر الأرض المباركة فلسطين من براثن يهود عن طريق تحريك جيوش الأمة، فكان دور الجنود غائبا كالعادة وكأن وظيفة هذه الجيوش الوحيدة هي حماية الطواغيت، لا بل إن مفتي السودان السابق الشيخ عصام البشير تحدث عن أنواع شتى من الجهاد، إلا أنه لم يعرج على الجهاد بمعنى القتال في سبيل الله لتحرير الأرض المباركة فلسطين، ولم نسمع منه ولا منهم الحديث عن جهاد الدفع الذي يوجب على جيوش الأمة التحرك لتحرير ما احتل يهود، إنه لأمر عجيب، فإن لم يطالب المجتمعون بهذا فعلامَ اجتماعهم إذن؟! وكيف تكون نصرة الأقصى إذن؟ هلا جلسوا في بيوتهم بدل أن يشغلوا الأمة فيما لا طائل منه، لقد نددوا بممارسات يهود ضد المسجد الأقصى ودعوا إلى التضامن مع أهل بيت المقدس إلا أنهم تناسوا أنهم يجتمعون في بلد يعترف بكيان يهود ويقيم معه علاقات دبلوماسية واقتصادية وعسكرية!!

ألا فليعلم هؤلاء المجتمعون في إسطنبول أن أمرهم مكشوف وأن خداع الأمة بهكذا مؤتمرات لم يعد ممكنا، فالأمة تدرك من أنتم وأنكم لا تتكلمون إلا بما يسمح به حكامكم، والأمة لم تعد لقمة سائغة يخدعها معسول كلامكم، بل أصبحت الأمة على درجة كبيرة من الوعي وتدرك أنكم مجرد علماء سلاطين، وباتت تدرك أن طريق تحرير فلسطين والأقصى لا يكون بالمفاوضات ولا بجمع التبرعات ولا بالمؤتمرات ولا الندوات وإنما بحشد جيوش الأمة فتنطلق مزمجرة مكبرة ومهللة تتلوا قول الله عز وجل: ﴿وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا * فَإِذَا جَاء وَعْدُ أُولاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَا أُوْلِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُولاً * ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا * إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاء وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيرًا﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أبو هشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست