مواجهات الشعوب وحكامها الأمة صحت ووعت ولن تهدأ أو تستقر إلا تحت قيادة دولة الخلافة
مواجهات الشعوب وحكامها الأمة صحت ووعت ولن تهدأ أو تستقر إلا تحت قيادة دولة الخلافة

الخبر: قام المجلس العسكري في السودان، 25 تشرين الأول، بقيادة رئيسه عبد الفتاح البرهان بانقلاب على الحكم الذي يرأس هو قيادته العسكرية واعتقل معظم أركان الحكم في الدولة، ومن بينهم رئيس الوزراء حمدوك، وأعلن حالة الطوارئ. وفي 25 تموز الفائت أعلن الرئيس التونسي قيس سعيد، بتأييدٍ من الجيش، تجميد عمل مجلس النواب ورفع الحصانة عن أعضائه وإقالة رئيس الحكومة، وأصدر قرارات تُعّدُّ انقلاباً على الحكم القائم الذي هو رئيسه.

0:00 0:00
Speed:
October 27, 2021

مواجهات الشعوب وحكامها الأمة صحت ووعت ولن تهدأ أو تستقر إلا تحت قيادة دولة الخلافة

مواجهات الشعوب وحكامها
الأمة صحت ووعت ولن تهدأ أو تستقر إلا تحت قيادة دولة الخلافة


الخبر:


قام المجلس العسكري في السودان، 25 تشرين الأول، بقيادة رئيسه عبد الفتاح البرهان بانقلاب على الحكم الذي يرأس هو قيادته العسكرية واعتقل معظم أركان الحكم في الدولة، ومن بينهم رئيس الوزراء حمدوك، وأعلن حالة الطوارئ. وفي 25 تموز الفائت أعلن الرئيس التونسي قيس سعيد، بتأييدٍ من الجيش، تجميد عمل مجلس النواب ورفع الحصانة عن أعضائه وإقالة رئيس الحكومة، وأصدر قرارات تُعّدُّ انقلاباً على الحكم القائم الذي هو رئيسه. وقد لقي الانقلابان في تونس والسودان معارضات سياسية وشعبية برهنت على وجود صراعات في كل من البلدين فيما بين الحكام وفيما بينهم وبين الشعب. وتدخلت أمريكا وبريطانيا وفرنسا وغيرها في البلدين باهتمام ومتابعة حثيثة، وقامت بتوجيهات للحكام الفعليين من القيادات العسكرية والسياسية. ولا يزال النزاع مستمراً في البلدين وينذر بتصعيد وتطورات في أكثر من اتجاه.

التعليق:


إن أوّل ما يُلاحظ في هذه الانقلابات، أنها ليست انقلابات مفاجِئة لجهات تعمل بالسر ضد الحكم القائم، ولا هي ثورات شعبية تسقط الحكم والحكام، ولكنها انقلابات يقوم بها الحكام أنفسهم على بعضهم وعلى تحركات الشعوب وثوراتها. ومن نافلة القول إن هذه الأحداث هي من تداعيات ما بعد الثورات العربية التي اندلعت أواخر عام 2010 في تونس وانتشرت بعد ذلك في غيرها. أي أنها من تداعيات الثورات المضادة التي حاصرت الثورات الشعبية وقضت عليها بالخداع والقوة، ما يدل على أن الشعوب التي انتفضت وثارت تدرك أنها قد خُدعت واستُثمِرت تضحياتها في تمثيليات خداعة وخطابات مشاعرية وشعارات جوفاء. ويدل أيضاً على أن الشعوب ما زالت تمتلك طاقة التحرك مرةً أخرى لرفع الظلم عنها وتحقيق الأهداف التي تتطلع إليها، والتي سبق أن ظهرت جلية، وهي استعادة كرامتها وعزتها واستقلالها بتطبيق الإسلام والتخلص من هيمنة الغرب وظلمه، ومن أفكاره وسياساته القذرة. وهذا يعني أن قناعات الشعوب وميولها وخياراتها التخلص من النفوذ الغربي. وهذا ما يثير دول الغرب المذكورة في الخبر، ويجعلها تنتفض خشية أن تُطرد من بلاد المسلمين، أو أن تفقد نفوذها وتخسر مصالحها. ولذلك نرى هذه التحركات الغربية الكثيفة والمتلاحقة، والاتصالات بالسلطات الفعلية في البلاد، والتداول بشأن ما يجري فيها على أرفع المستويات في الولايات المتحدة وبريطانيا والاتحاد الأوروبي والأمم المتحدة.


تجدر الإشارة هنا إلى الكذب المفضوح لدى هذه الدول، حيث إنها تتحرك وتتصل وتتدخل على مدار الساعة بقلق واضح، موجِّهةً السلطات العميلة والعلمانية لمحاصرة تحركات الناس وتقييدها، والإمساك بالأوضاع عن طريق الجيش وبالقوة، خشية أن تفلت من يدها، ثم تصرح بعكس ذلك وبادعاء الحرص على سيادة القانون وأمن الناس، وحريتهم في التظاهر والاختيار. وإن أدنى نظرة إلى ما يجري في بلاد المسلمين كليبيا واليمن وسوريا وغيرها يؤكد حجم كذب هذه التصريحات، وعِظَمَ فجور هذه الدول وسياسييها. بل إنه قد صار يُخشى أن ينفِّذَ المجلس العسكري السوداني، امتثالاً لأوامر أسياده الغربيين، مجازر بالشعب كما فعل السيسي في ميدانَيْ رابعة والنهضة.


إن ما يريد هذا التعليق الإشارة إليه، هو أن شعوب الأمة الإسلامية قد انتفضت نتيجة صحوتها على عقيدتها بوصفها عقيدة سياسية، حيث أخذ الوعي فيها حجمه الكافي لرفض نظم الفساد التي تكبلها، الغربية والغريبة عن عقيدتها وقناعاتها، ولتقرير نظام العيش والخيار السياسي الذي تريده، وقد بلغ هذا الوعي حد الدافع للعمل والتغيير الكبير المنشود. ولذلك فإذا فشلت التحركات أو الثورات في العقد الماضي، فإن الوعي على الأفكار والمفاهيم السياسية الإسلامية كفيل بالتحريك والدفع المرة تلو المرة إلى أن يتحقق الهدف بإقامة النظام الإسلامي، والتحرر من هيمنة الكفر، والتخلص من العملاء والخونة وتفاهاتهم.


يذهب بعض المراقبين إلى مجادلات حول الثورات العربية التي اندلعت في العقد الماضي، وكانت نتيجتها الفشل مع تكاليف باهظة: هل انتهت أم أنها مستمرة تخبو ولا تلبث أن تشتعل؟ ويذهب بعضهم إلى أنها لم تنتهِ، وأنها مستمرة ولا تنتهي إلا بانتصار الشعوب. ويذهب صاحب هذه السطور إلى أن الثورات كالمعارك، قد تنتهي إلى فشل وخسائر، ولكنها ليست نهاية التحركات، لأنها ليست الحرب، ولكنها معركةً فيها أو معارك. والواقع أن هذه الثورات انتهت، وأقيمت على أنقاضها أنظمة فاجرة استمرت لسنوات واستقرت كما في مصر وتونس. وقد كلفت خسائر كبيرة وإبادات كما في سوريا. ولكن الشعوب التي قامت بالثورات ما زالت حية، ومشحونة بطاقة الفكر الإسلامي ومفاهيمه الدافعة، والمحرِّكة نحو التغيير والقضاء على الحكم بالكفر، والتخلص من الحكام العملاء. والطاقة الفكرية هي أساس الطاقات، وأمُّها ومُفجِّرتُها، فإذا فشلت ثورة أو ثورات، فهي معركة فقط أو معارك وأحداث، تنتهي ولكن الحرب تستمرّ، وستعود الشعوب لتنتفض هنا وتثور هناك وتنفجر هنالك. ولن تهدأ الأمة التي وعت وصحت، إلى أن تتهيّأ لها الفرصة الحاسمة والقاضية، بأن تتوفر لها القيادة الواعية والحكيمة التي تستطيع احتواء هذه الطاقات ونَظْمَها في مشروع أو استراتيجية عمل مدروسة ومرسومة بخبرة ودقة، وبوعي سياسي على المعنى الحقيقي لغاية الأمة، وعلى حجم العقبات وقوى الأعداء ومكرهم. وهذا هو عمل، ومحل اهتمام، وتخطيط، كلِّ منظِّرٍ للتغيير والنهضة، ساعٍ إليهما، ومتصدِّرٍ لهما، بل هو مسؤوليته الكبرى وواجبه المحتَّم. ولا بد لهذا الأمر من العمل بموجب القاعدة الماسيَّة وهي وجوب العمل ﴿وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالمُؤمِنون﴾ [سورة التوبة: 105]، ولزوم وحتمية أن يرتبط العمل بالفكر، أي بتفكير سياسي هادف يسبقه، وأن يكون الفكر والعمل كلاهما لأجل الغاية المقررة والمرسومة، وهي دولة الخلافة. الأمر الذي يقضي بأن يوطّد كلُّ قادرٍ من العاملين نفسَه، على أن يكون من المتصدّرين. ﴿وَفِي ذَلِكَ فَلْيِتَنافَسِ المُتَنَافِسون﴾ [سورة المطففين: 26].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست