مودي المجرم يضع حجر أساس لبناء معبد مكان مسجد بابري
مودي المجرم يضع حجر أساس لبناء معبد مكان مسجد بابري

الخبر:   وضع رئيس الحكومة الهندية ناريندرا مودي حجر الأساس لمعبد هندوسي على أنقاض مسجد بابري في أيوديا شمالي الهند. وكانت مجموعات من الغوغاء الهندوس قد هدمت في عام 1992م المسجد التاريخي الذي كان قائما هناك بدعوى أنه بني فوق أنقاض لمعبد إلههم رام. وقال مودي إن الموقع "قد تحرر"، وإنه سيتم تشييد "صرح عظيم" للإله رام فيه، مضيفا أن الإله رام كان يقيم في خيمة في السنوات العشر الأخيرة. وكان مودي يشير إلى البناء المؤقت الذي كان يحوي تمثال رام لالا (أو رام الرضيع) لأكثر من ثلاثة عقود بينما كان القضاء ينظر في الدعوى ...

0:00 0:00
Speed:
August 08, 2020

مودي المجرم يضع حجر أساس لبناء معبد مكان مسجد بابري

مودي المجرم يضع حجر أساس لبناء معبد مكان مسجد بابري

الخبر:

وضع رئيس الحكومة الهندية ناريندرا مودي حجر الأساس لمعبد هندوسي على أنقاض مسجد بابري في أيوديا شمالي الهند. وكانت مجموعات من الغوغاء الهندوس قد هدمت في عام 1992م المسجد التاريخي الذي كان قائما هناك بدعوى أنه بني فوق أنقاض لمعبد إلههم رام. وقال مودي إن الموقع "قد تحرر"، وإنه سيتم تشييد "صرح عظيم" للإله رام فيه، مضيفا أن الإله رام كان يقيم في خيمة في السنوات العشر الأخيرة. وكان مودي يشير إلى البناء المؤقت الذي كان يحوي تمثال رام لالا (أو رام الرضيع) لأكثر من ثلاثة عقود بينما كان القضاء ينظر في الدعوى.

وقد أصدرت المحكمة العليا في الهند بإجماع الآراء قراراً بمنح الأرض التي أقيم عليها مسجد بابري للهندوس من أجل بناء معبد. واستندوا في قرارهم لتقرير أعدته الهيئة الهندية للآثار يثبت وجود آثار لصرح "غير إسلامي" تحت أنقاض مسجد بابري المهدم. وقالت المحكمة إنها قررت، بناء على "الأدلة المتوفرة"، بوجوب منح الأرض للهندوس لبناء معبد عليها بينما ينبغي منح المسلمين أرضا أخرى لتشييد مسجد. وأمرت المحكمة الحكومة الاتحادية بتأسيس صندوق لإدارة مشروع بناء المعبد والإشراف عليه. (بي بي سي، 2020/08/04م)

وقد ذكر المتطرف مودي في خطابه المرتجل أن المعبد سيكون "رمزا للهند الحديثة" واعتبر الاحتفال بالتدشين "يوما تاريخيا" وقال "نهنئ جميع المخلصين لرام والهند جميعها تحت رحمة رام اليوم، بعد أن ضحت أجيال كثيرة من أجله"... ولم يخل الخطاب من عبارات تحريضية واستفزاز لمشاعر المسلمين.

التعليق:

جاء في كتاب "البداية والنهاية" لابن كثير في حوادث سنة 418هـ، وفي "الكامل" لابن الأثير في حوادث 416هـ، عن فتوحات السلطان محمود بن سبكتكين (محمود الغزنوي) في الهند أن السلطان محمود كلما فتح من الهند فتحاً وكسر صنماً يقول الهنود: "إن هذه الأصنام قد سخط عليها (سومنات)، ولو أنه راضٍ عنها لأهلك من تقصدها بسوء".

قصد السلطان محمود بن سبكتكين الصنم "سومنات" ليدمره بعد أن تكرر على مسامعه أن أهل البلاد يعتقدون بأنه يحجب الضرر عنهم وينصرهم على عدوهم. وقد علم بأن سومنات أعظم أصنام وآلهة الهنود، ويعتقد الهنود فيه أن الأرواح إذا فارقت الأجساد اجتمعت إليه على عقيدة التناسخ فيعيدها فيمن شاء، ويعتقدون أن المد والجزر إنما هو عبادة البحر له. ولهذا الصنم جيش من الكهنة وخدام المعبد، والصنم مبني على ست وخمسين سارية من الصاج المصفح بالرصاص، ومن حجر طوله خمسة أذرع، وليس له هيئة أو شكل بل هو ثلاث دوائر وذراعان.

خرج السلطان في 10 شعبان سنة 416هـ، في جيش ضخم يضم المجاهدين والمتطوعين وتخطى الصعاب ليصل لمعبد الصنم ويفتح المدينة، واصطدم بالعديد من الجيوش الهندية وهو في طريقه إلى سومنات وقد أعلم الجميع بوجهته وهدفه ليرى الهنود إن كان سومنات سيدافع عن نفسه أو غيره شيئاً. بلغ السلطان محمود بجيوشه مدينة دبولواره على بعد مرحلتين من سومنات وقد تقدم الهندوس للدفاع ظانين أن إلههم سومنات سيدافع عنهم ولكن المسلمين ببسالة تقدموا لتكون كلمة الله هي العليا واستولوا على المدينة.

وصل السلطان في يوم 15 ذي القعدة سنة 416هـ، للمعبد فرأى حصناً حصيناً على ساحل النهر، وحوله الهندوس يتفرجون على المسلمين واثقين أن معبودهم سيهلك الغزاة. وفي يوم الجمعة 16 ذي القعدة وعند وقت الزوال زحف السلطان محمود ومن معه، وقاتلوا الهنود بمنتهى الضراوة، بحيث إن الهنود صعقوا من هول الصدمة القتالية، ونصب المسلمون السلالم على أسوار المدينة وصعدوا عليها وأعلنوا كلمة التوحيد والتكبير وانحدروا كالسيل الجارف داخل المدينة، واشتد القتال بينما هرع الكثيرون للصنم يتوسلون إليه ويستغيثون به فلا مغيث! وقد قتل في ذلك اليوم خمسون ألفاً من الهندوس حماة المعبد على باب المعبد. وما إن يئس المقاتلون الهندوس من حماية إلههم المزعوم حاولوا الهروب فأدركهم المسلمون فما نجا منهم أحد، وأمر السلطان محمود بهدم الصنم سومنات وأخذ أحجاره وجعلها عتبة لجامع غزنة الكبير.

وفيما ذُكر عن هدم السلطان لصنم الهندوس أن بعض الهندوس أتوا للسلطان بعد أن اشتد القتال وعرضوا عليه أموالا هائلة وكنوزا عظيمة مقابل أن يترك الصنم ظناً منهم أن المسلمين ما جاءوا إلا لأجل الأموال والكنوز فجمع السلطان محمود قادته، واستشارهم في ذلك، فأشاروا عليه بقبول الأموال للمجهود الضخم والأموال الطائلة التي أنفقت على تلك الحملة الجهادية، فبات السلطان محمود طول ليلته يفكر ويستخير الله عز وجل، ولما أصبح قرر هدم الصنم سومنات، وعدم قبول الأموال وقال كلمته الشهيرة: "وإني فكرت في الأمر الذي ذكر، فرأيت إذا نوديت يوم القيامة أين محمود الذي كسر الصنم؟ أحب إلي من أن يقال: الذي ترك الصنم لأجل ما يناله من الدنيا!!"

رحم الله السلطان محمود وغيره من السلاطين الذين حافظوا على الجهاد ذروة سنام الإسلام وعملوا لتكون كلمة الله هي العليا... لم تغرهم دنيا فانية ولم يهملوا الجهاد في سبيل الله.

إن مصاب الأمة اليوم عظيم في حكامها الخونة الذين يظهرون الود للعدو ويدعمون اقتصاده ولا يرون ضيرا في هدم بيوت الله وتدنيس المقدسات وترويع إخوانهم المستضعفين في أصقاع الأرض.

﴿قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاء وَتُعِزُّ مَن تَشَاء وَتُذِلُّ مَن تَشَاء بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست