موجة ارتفاع الأسعار الجديدة هي منتجات النظام الرأسمالي اللاإنساني
موجة ارتفاع الأسعار الجديدة هي منتجات النظام الرأسمالي اللاإنساني

الخبر:   استيقظت تركيا على أول صباح من العام الجديد مع موجة من ارتفاع الأسعار. في اليوم الأخير من العام، نحو منتصف الليل، تمت زيادة رسوم الكهرباء والغاز الطبيعي والوقود والجسور بمعدل مرتفع للغاية. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
January 12, 2022

موجة ارتفاع الأسعار الجديدة هي منتجات النظام الرأسمالي اللاإنساني

موجة ارتفاع الأسعار الجديدة هي منتجات النظام الرأسمالي اللاإنساني

(مترجم)

الخبر:

استيقظت تركيا على أول صباح من العام الجديد مع موجة من ارتفاع الأسعار. في اليوم الأخير من العام، نحو منتصف الليل، تمت زيادة رسوم الكهرباء والغاز الطبيعي والوقود والجسور بمعدل مرتفع للغاية. (وكالات)

التعليق:

وفقاً لارتفاع الأسعار المعلن عنه مؤخراً، ارتفعت أسعار الكهرباء ما بين 50٪ و127٪، والغاز الطبيعي المنزلي بنسبة 25٪، والغاز الطبيعي المستخدم في المباني التجارية بنسبة 50٪، ووقود الديزل بمقدار 1 ليرة و29 قرشاً، والبنزين بـ61 قرشاً، والغاز الآلي بـ78 قرش، وارتفعت رسوم الجسور والطرق السريعة بنسبة 25 في المائة. ولم تقتصر الارتفاعات على ذلك فقط، بل في جميع مجالات الحياة.

كانت هذه الزيادات في الأسعار التي قامت بها الحكومة أعلى ارتفاعات في تاريخ الجمهورية. الأشخاص الذين يواجهون صعوبات في الوقوف على أقدامهم، وقوتهم الشرائية تتناقص يوماً بعد يوم، والذين يعانون من الفقر ويواجهون صعوبة في تلبية حتى احتياجاتهم الأساسية، غرقوا في دوامة الأزمة الاقتصادية مع هذه الزيادات المفرطة. لقد سقطوا في بؤس كامل.

الحكومة تجعل العامة من الناس يدفعون فاتورة سد العجز الناتج عن مدفوعات الديون الخارجية. مرة أخرى، طبقت الحكومة أدوات ودائع بالليرة التركية محمية بالعملات الأجنبية من أجل تقليل حمى ارتفاع العملة الأجنبية والتخلص من الأزمة الاقتصادية التي كانت فيها. وفقاً لهذه الأداة، إذا كان الفرق بين أسعار الصرف الأجنبي في الافتتاح وتاريخ استحقاق الودائع لأجل بالليرة أعلى من سعر الربا، فسيتم تعويض الفرق بالليرة التركية لحساب الأفراد. ومع ذلك، سيتم تغطية الفارق من خزينة الحكومة. الخزانة هي المكان الذي يتم فيه الاحتفاظ بالذهب والعملات الأجنبية والسندات والنقود الحكومية. تتكون هذه الأصول في الخزانة من الضرائب التي يدفعها المجتمع والموارد التي هي ملك مشترك للمجتمع. إنها جريمة ووحشية كبيرة أن تجعل الحكومة هذه الموارد هدية لحفنة من الرأسماليين.

تدعم الحكومة بالفعل أباطرة المال وأنظمة البنوك التي تحصل على فوائد بهذه الأداة الجديدة التي وضعتها موضع التنفيذ. بمعنى آخر، ما حدث مرة أخرى حدث للفقراء. أيضاً، إذا لم يكن هناك أموال في الخزانة يتعين دفعها، فإن الحكومة تحاول سد هذا العجز بضرائب جديدة وزيادات هذه المرة. وقد تم القيام بهذه الزيادات الجديدة في الأسعار لسد هذه الفجوة وإطالة عمر النظام الرأسمالي العلماني الخرافي.

من ناحية أخرى، أعلن معهد الإحصاء التركي (TUIK)، الذي يتبع تعليمات الحكومة، أن معدل التضخم السنوي بلغ 36.08٪. تم تسجيل هذا المعدل كأعلى معدل تضخم في العشرين سنة الماضية. حقيقة أن معدل التضخم المعلن كان عالياً وارتفاع الأسعار جلبت مشكلة اقتصادية كبيرة للناس قد تسبب في انخفاض القوة الشرائية. هذا الوضع هو تدمير كبير للسياسات الاقتصادية التي تم تنفيذها بشكل خاطئ لحكم حزب العدالة والتنمية الذي استمر 20 عاماً. الحكومة دائما تجعل الناس يدفعون ثمن أخطائها. تلاشت الزيادة بنسبة 50 في المائة في الحد الأدنى للأجور في كانون الأول/ديسمبر 2021 قبل أن تذهب إلى جيوب الموظفين مع هذه الزيادات الجديدة في الأسعار. لقد استعادت الحكومة ما أعطته بملعقة صغيرة بمغرفة كبيرة. على الرغم من أن معدل التضخم السنوي كان 36.08٪، والتضخم الحقيقي في السوق والبازار كان أعلى من 80٪، إلا أن الزيادة بنسبة 27٪ في رواتب المسؤولين الحكوميين ظلت أقل من معدل التضخم. إن الوعد بـ"لن نظلم موظفينا في ظل التضخم"، والذي تصرخ فيه الحكومة دائماً، لم يتحقق أبداً. لقد فشلت الحكومة في الوفاء بهذا الوعد. لكن الحكومة، التي كانت سخية في العطاء للبنوك والرأسماليين، كانت دائماً بخيلة في العطاء لشعبها.

لقد تغيرت العشرات من الحكومات والقادة منذ قيام الجمهورية في تركيا. لكن كل واحد منهم فشل في حل المشاكل الاقتصادية للشعب. مع السياسات الخاطئة والفاشلة التي نفذوها، لم يتمكنوا من حل مشاكل الناس. في الواقع، بدلاً من السياسات الخاطئة، فإن المصدر الحقيقي للمشاكل والأزمات هو النظام الرأسمالي العلماني الذي تطبقه الحكومات، وهو النظام غير الإسلامي واللاإنساني. ومع ذلك، من خلال التلاعب بوجهة نظر المجتمع، وجه أصحاب النظام الرأسمالي انتباههم إلى السياسات الخاطئة التي تنفذها الحكومات بدلاً من هذا النظام الخرافي الذي هو مصدر كل الأزمات، وقد نجحوا إلى حد ما في ذلك. لكن بغض النظر عما يفعله سحرة النظام، فإن هذا النظام الرأسمالي الفاسد الخرافي سيستمر حتى الوقت الذي يشاؤه الله سبحانه وتعالى. وأخيراً، ستقام دولة الخلافة الراشدة، التي ستنقذ البشرية جمعاء من دوامة وظلم هذا النظام الرأسمالي الفاسد بإذن االله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز شيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست