موقف المسلمين من انتهاك مقدساتهم انتكاسٌ واستسلامٌ! أم وعيٌ وتحفُّزٌ لعملٍ مُجدٍ؟
موقف المسلمين من انتهاك مقدساتهم انتكاسٌ واستسلامٌ! أم وعيٌ وتحفُّزٌ لعملٍ مُجدٍ؟

الخبر:   انتشر خبر حرق نسخة من المصحف في السويد يوم السبت 2023/1/21 وما تبعه من حرق نسخة أخرى بعد ذلك بيومين في لاهاي بهولندا، وكان الأمر في الحالتين بموافقة حكومتَيِ البلدين. وقد كانت ردود فعل المسلمين على العملين باهتة. أما دور الفتوى والمنظمات الإسلامية الرسمية فقد وصفت هذا العمل بالاستفزازي وبأنه جريمة كراهية. وأما حكام المسلمين فقد تركزت مواقفهم على التحذير مما قد يؤدي إليه إحراق المصحف من تأجيج مشاعر المسلمين ومن كراهية وصدامات.

0:00 0:00
Speed:
January 29, 2023

موقف المسلمين من انتهاك مقدساتهم انتكاسٌ واستسلامٌ! أم وعيٌ وتحفُّزٌ لعملٍ مُجدٍ؟

موقف المسلمين من انتهاك مقدساتهم

انتكاسٌ واستسلامٌ! أم وعيٌ وتحفُّزٌ لعملٍ مُجدٍ؟

الخبر:

انتشر خبر حرق نسخة من المصحف في السويد يوم السبت 2023/1/21 وما تبعه من حرق نسخة أخرى بعد ذلك بيومين في لاهاي بهولندا، وكان الأمر في الحالتين بموافقة حكومتَيِ البلدين. وقد كانت ردود فعل المسلمين على العملين باهتة. أما دور الفتوى والمنظمات الإسلامية الرسمية فقد وصفت هذا العمل بالاستفزازي وبأنه جريمة كراهية. وأما حكام المسلمين فقد تركزت مواقفهم على التحذير مما قد يؤدي إليه إحراق المصحف من تأجيج مشاعر المسلمين ومن كراهية وصدامات.

التعليق:

إنها ليست المرة الأولى التي تنتهك فيها المقدسات الإسلامية، سواء بالاعتداء على القرآن الكريم، أو بالإساءة للنبي محمدٍ ﷺ، أو بهدم المساجد، ناهيك عن الاعتداء على الدماء والأعراض والأموال وسائر ضروب الظلم والقهر. والأمر اللافت في مواقف هذه الجهات الثلاث هو موقف عموم المسلمين.

فموقف حكام المسلمين لا يستحق التوقف عنده، فهم أعداء للأمة ويوالون أعداءها، وتبغضهم ويبغضونها. ولا يعنيهم القرآن الكريم ولا أي شيءٍ من مقدسات المسلمين. ولذلك لم تكن مواقفهم استنكار الاعتداء على القرآن، بل كانت استنكار الأعمال التي قد تثير المسلمين وتؤدي إلى ردود فعل خارجة عن السيطرة، أي أنها كانت دفاعاً عن استقرار حكمهم وأنظمتهم، وليس عن القرآن الكريم.

أما مواقف دور الفتوى والمنظمات الإسلامية التابعة للأنظمة، فكانت بين صامت لا حِسَّ له ولا مسؤولية، ودسيسةِ تافهٍ لا يصدر عنه إلا المخادعة والتضليل، أو ساذج لا رأي له، فلا يملك أكثر من أن يفتي بمقاطعة البضائع! ولم يكن بين هذه الجهات من يطالب الحكام بقطع العلاقات مع هذه الدول، أو يُصدر للعالم بياناً بضلالها وكفرها وفساد مناهجها، ويدعوها إلى الإسلام. ولذلك خرج هؤلاء بتفاهة التحذير من الإسلاموفوبيا وإثارة الكراهية بين الأديان.

ولذلك، لا تستحق مواقف حكام المسلمين ودور الفتوى والمنظمات الدينية الرسمية كثير وقوف عندها، وبخاصةٍ بعد أن تكررت مواقفهم، وتبين أنهم صنائع الكافر وأدواته، ووظيفتهم تكريس خضوع الأمة وجهلها، وإشغالها بتوافه التطلعات وسفاسف الأمور. ولكن الذي يستحق المراقبة والدراسة هو الموقف الباهت من الأمة بعد أن كانت منها سابقاً مواقف أضخم وأعظم تجاه أعمال مماثلة. فهل هو يأس من النتائج بسبب الفشل المتكرِّر؟ هل هو شعور بالهزيمة؟ أم أن الغرب قد نجح بترويض المسلمين على رؤية مقدساتهم تنتهك؟ أم أنه شيءٌ آخر؟

يستحق هذا الأمر الوقوف عنده والفهم الدقيق له، لأن الأمة هي موضع العمل، وطاقاتها هي موارد قوى التغيير، وما تدل عليه الوقائع المتعاقبة تاريخياً وحديثاً، أن اليأس لا محل له في الأمة. وإذا تسرب إلى أفرادٍ أو جماعات من المسلمين فهو لا يصيب عموم الأمة. وقد أظهرت وسائل التواصل الحديثة - رغماً عن وسائل إعلام الأنظمة - حجم غضب المسلمين الممزوج بالحيرة والألم بسبب انغلاق سُبُل الردود الفعالة لديهم.

وأما أنَّ تكرُّر انتهاك مقدسات الإسلام وأحكامه قد أشعر المسلمين بعدم جدوى المواجهة فاستسلموا للأمر مُحْبَطين، فهو أيضاً غير صحيح. فالإسلام عقيدة حية ومؤثرة بشكل دائم، ولا يكاد المسلم يسقط حتى ينهض من جديد ﴿إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإذَا هُمْ مُبْصِرُون﴾. ولو تسرب الإحباط إلى بعض المسلمين أو إلى أي مجموعةٍ منهم، فلن يتعدى الأمر ساعةً من زمن ثم سرعان ما يتلاشى. وإنما الأمر عجز عموم المسلمين أو حيرتهم إزاء كيفية القيام بعملٍ يؤدب المنتهِكين ودولِهم ويشفي الصدور. وقد دل على هذا الأمر ردود فعل كثيرة متفرقة هنا وهناك. ومع أنها ليست الرد اللازم والمُجدي، فهي علاماتٌ على أنه لا يمكن ترويض الأمة الإسلامية على انتهاك دينها.

والحقيقة والله أعلم أن هذه المواقف من الأمة دليلٌ على استفادتها من التجارب الكثيرة التي استجابت فيها لدعوات ضالة أو تائهة إلى التحرر والتغيير. فقد تكرر منها الخروج بالملايين، في بلدان كثيرة، وقدمت كل أنواع التضحيات في مناسبات وقضايا كثيرة. ثم اكتشفت أنها لطالما انقادت لعملاء وتجار قضايا، ولخطابات كاذبة، ولطالما سارعت في مشاريع بغير تفكير جاد، واندفعت في أعمال تزيدها ضعفاً وتقييداً. ولذلك، فإن ما نجده من الأمة ليس يأساً من إمكانية التغيير، ولا استسلاماً لهيمنة الكفر، ولا رضا بالحكام العملاء، ولا تعايشاً مع انتهاك مقدسات الإسلام وأحكامه، وإنما هو تريث ونظر لاستيضاح الطريق وإلى أين يوصِل قبل السير فيه، أي أنه تفكير في العمل لمعرفة جدواه قبل القيام به. وهذا هو التفكير الذي ينبغي أن يتوسط ما بين الإحساس والعمل. لذلك، فإن ردود الفعل الباهتة دليل وعي، لأنها تريثٌ بحثاً عن عمل مجدٍ يحقق النكاية، فيُخزي الكافرين ويشفي الصدور.

نعم، إن هذا الموقف دليلُ وعيٍ ورقيٍّ وليس العكس. وتحريك الأمة اليوم للقيام بأي عمل، أو للسير في منهج تغييري، يستلزم تقديم رؤية مقنعة لمستوى التفكير العام فيها، بأن هذا العمل أو هذا المنهج يحقِّق الهدف والتغيير المنشود، ويتغلَّب على قوى الأعداء ويجهض مكرها الكبير. ولا يكفي أن يكون المشروع في حقيقته ناجحاً ومُوْصِلاً، بل يجب أن يكون مقنعاً للأمة بحيث تراه مجدياً ويستحق تكاليف السير فيه.

وعلى أية حال، فإنه لا يمكن لوم الأمة أو الشعوب على مواقفها، لأنها لا تستطيع السير في مشروع واحد ما لم يكن هناك متصدر للمشروع. فالمسؤولية تقع على من يتصدر للتغيير ولقيادة الأمة أو سَوْقِها لتفعيل طاقاتها في طريق الهدف المنشود. وإنَّ الأمة اليوم لتترقَّب مجيء القائد بمشروعه المجدي والمقنع، بشوق وأملٍ كبيريْن.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست