موقف بريطانيا من ضرب إيران
موقف بريطانيا من ضرب إيران

الخبر: حث وزير خارجية بريطانيا ديفيد كاميرون، الاثنين، (إسرائيل) على عدم التصعيد، مشيراً إلى أن "هجوم إيران على (إسرائيل) كان فاشلا". (العربية نت، 2024/04/15م)

0:00 0:00
Speed:
April 16, 2024

موقف بريطانيا من ضرب إيران

موقف بريطانيا من ضرب إيران

الخبر:

حث وزير خارجية بريطانيا ديفيد كاميرون، الاثنين، (إسرائيل) على عدم التصعيد، مشيراً إلى أن "هجوم إيران على (إسرائيل) كان فاشلا". (العربية نت، 2024/04/15م)

التعليق:

أولاً: إن العداء التاريخي كبير بين بريطانيا وإيران بعد الثورة التي أطاحت بنفوذ الإنجليز لمصلحة الولايات المتحدة، فقد كشفت وثائق أمريكية "أن مؤسس نظام ولي الفقيه في إيران الخميني كان على صلة بالحكومة الأمريكية منذ الستينات من القرن الماضي حتى قبل أيام من وصوله إلى طهران، قادماً من باريس وإعلانه الثورة عام 1979، بحسب ما نقلت صحيفة الشرق الأوسط".

وتوضح وثيقة نشرتها وكالة الاستخبارات الأمريكية سي آي أيه، أن الخميني "تبادل رسائل سرية مع الرئيس الأمريكي الأسبق جون كيندي بعد أشهر من الإفراج عنه من السجن في إيران مطلع تشرين الثاني/نوفمبر 1963"، وأنه طالب خلالها بألّا "يفسر هجومه اللفظي بطريقة خاطئة، لأنه يحمي المصالح الأمريكية في إيران"، فقد خرجت إيران من النفوذ الإنجليزي إلى العلاقة مع الولايات المتحدة.

ثانيا: لقد قامت إيران - خاصة في عهد الخميني - وما زالت، بمحاولات كبيرة ضد النفوذ الإنجليزي في المنطقة العربية وخاصة في الخليج، فبريطانيا تنظر إلى إيران أنها سهم أمريكي ضد نفوذها ومصالحها في المنطقة، وقد قدمت إيران الكثير من الخدمات للولايات المتحدة باعتراف ساستها في أفغانستان والعراق والشام؛ فقد أكد رفسنجاني "لو لم تساعد قواتنا في قتال طالبان لغرق الأمريكيون في المستنقع الأفغاني".

وبريطانيا كانت شديدة الحرص على إعادة نفوذها هناك وكانت تفتعل المشاكل لإيران محاولة على الأقل حماية نفوذها ومصالحها أمام ثور هائج، وقد وجدت ضالتها في كيان يهود برئاسة نتنياهو الذي كان حريصا على ضرب إيران والوقوف بوجهها ووقف بشدة ضد الاتفاق النووي بين إدارة أوباما وإيران، وأزعج نتنياهو الإدارة الأمريكية آنذاك وتوترت العلاقات بينهما.

وفي ظل إدارة ترامب الحميمة أدرك نتنياهو أن مواقف ترامب "سياسية مغلفة بتهديدات عسكرية وتوتير للأجواء في الخليج لغرضين: لإزعاج أوروبا بإخافتها على سفنها ثم إهانتها عن طريق إيران، وبخاصة بريطانيا لتسير مع أمريكا في سياستها... ثم لابتزاز دول الخليج مالياً بحجة حمايتها من خطر إيران! وليس توتير الأجواء في الخليج مقصوداً منه حرب أمريكا لإيران..."، من جواب سؤال أصدره أمير حزب التحرير العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة بتاريخ 2019/09/13. ثم جاءت إدارة بايدن بنفس نهج إدارة أوباما.

كما جاء في جواب السؤال نفسه: "أدركت أمريكا خطورة السياسة البريطانية بدفع كيان يهود للحرب ضد إيران وأذرعها في المنطقة، فهذه الحرب لا يقتصر ضررها على إيران وأذرعها بل سيصيب كيان يهود ولا يمكن لأمريكا أن تبقى فيها متفرجة وكيان يهود يخوض حرباً...

فلما علمت أمريكا بزيارة رئيس وزراء الكيان لبريطانيا التي غلب عليها طابع التخطيط العسكري فقد (صاحب نتنياهو كل من رئيس مجلس الأمن القومي مئير بن شابات وقائد سلاح البحرية عميكام نوركين ورئيس قسم العمليات في جيش الدفاع الميجر جنرال أهرون حليوا).

والتخطيط العسكري مع بريطانيا يعني استخدام كيان يهود لمرافق القواعد العسكرية الإنجليزية "أكروتيري" و"ديكليا" في قبرص أو مشاركة الطائرات والبحرية البريطانية في القاعدتين في الحرب بشكلٍ خفي، وهذا غير مستبعد على الإطلاق في ظل الصفعات التي توجهها إيران لبريطانيا... لما علمت أمريكا ذلك قامت بإفشال هذه الزيارة، وذلك عن طريق إرسال وزير دفاعها إلى لندن للاجتماع مع نتنياهو ودراسة الحاجات الأمنية لكيان يهود، والموافقة على الاستماع لهواجسه الأمنية بخصوص إيران، وذلك لتطمين كيان يهود بحفظ أمن الكيان والدفاع عنه أمام أي تهديدات، ولكن في المحصلة ثنيه عن شن الحرب، وعن التنسيق مع بريطانيا".

ثالثا: وبالنظر إلى الكلام السابق نجد اختلافا جوهريا بين الموقفين (موقف مسعر الحرب السابق وموقف الداعي إلى عدم التصعيد الحالي) والسبب في ذلك يعود إلى:

1- الضعف الإنجليزي بشكل كبير داخليا وخارجيا والأزمات التي تعصف ببريطانيا.

2- حرب أوكرانيا وأثرها على أوروبا وبريطانيا وانشغالهم فيها وعدم القدرة على فتح جبهة أخرى. وخطورة الموقف وخشية عودة ترامب والتهديد بالخروج من الناتو أو تراخي المساعدات الأمريكية لأوكرانيا بوجود الجمهوريين في الكونغرس.

3- ضعف كيان يهود بشكل كبير الذي لم يستطع حماية نفسه فضلا عن الذهاب لضرب إيران بدون غطاء، والأزمات التي تعصف به، وعدم وجود طريق لضرب إيران بعد المصالحة بين السعودية وإيران.

4- وقوف أمريكا بحزم ضد ضرب إيران وخشية الإنجليز من فتح ملفات شائكة لهم في مناطق نفوذهم أو داخل بريطانيا أو مصالحها.

5- الضعف الأوروبي المساعد للإنجليز سابقا وظهور عجز أوروبي ملفت، وقد قال الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون: "إن فرنسا ستبذل كل ما بوسعها لتجنب المزيد من التصعيد في الصراع بين (إسرائيل) وإيران في الشرق الأوسط".

لهذه الأسباب، والله أعلم، لم تعد بريطانيا تفكر بدعم كيان يهود في محاولته ضرب إيران، لذا كانت التصريحات الأخيرة تعبر عن حقيقة العجز والضعف البريطاني بشكل مذل، وهي أيضا متناغمة مع الأمريكان في منع يهود من توجيه ضربة لإيران خشية توسعة الحرب في الوقت الذي تعمل فيه أمريكا على التهدئة في المنطقة والتفرغ لاحتواء الصين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست