موسكو لا تستبعد إقامة مناطق آمنة في سوريا
موسكو لا تستبعد إقامة مناطق آمنة في سوريا

الخبر: الجزيرة نت، 2017/1/30 - لم يستبعد وزير الخارجية الروسي سيرغي لافروف إمكانية إنشاء مناطق آمنة للنازحين داخل الأراضي السورية شريطة أن تكون بموافقة الحكومة السورية وبمشاركة الأمم المتحدة. وقال لافروف إنه إذا كانت الفكرة تهدف لتخفيف عبء أزمة الهجرة عن أوروبا فيمكن التفكير في تشكيل أماكن لإيواء المهاجرين الداخليين على الأراضي السورية بالتعاون مع إدارة المفوض السامي لشؤون اللاجئين في الأمم المتحدة والهيئات الدولية. ....

0:00 0:00
Speed:
January 31, 2017

موسكو لا تستبعد إقامة مناطق آمنة في سوريا

موسكو لا تستبعد إقامة مناطق آمنة في سوريا

الخبر:

الجزيرة نت، 2017/1/30 - لم يستبعد وزير الخارجية الروسي سيرغي لافروف إمكانية إنشاء مناطق آمنة للنازحين داخل الأراضي السورية شريطة أن تكون بموافقة الحكومة السورية وبمشاركة الأمم المتحدة.

وقال لافروف إنه إذا كانت الفكرة تهدف لتخفيف عبء أزمة الهجرة عن أوروبا فيمكن التفكير في تشكيل أماكن لإيواء المهاجرين الداخليين على الأراضي السورية بالتعاون مع إدارة المفوض السامي لشؤون اللاجئين في الأمم المتحدة والهيئات الدولية.

وأشار الوزير الروسي إلى أن تحقيق ذلك يتطلب اتفاقا عمليا على التفاصيل ومبدأ وضع أماكن المناطق مع الحكومة السورية.

وذكر موقع روسيا اليوم 2017/1/30 نقلاً عن لافروف (وأوضح، خلال مؤتمر صحفي مع نظيره الإريتري عثمان صالح، في موسكو، الاثنين 30 كانون الثاني/يناير: "فيما يخص فكرة إقامة مناطق آمنة في أراضي سوريا، فنحن سنستوضح حول هذا الموضوع، في إطار حوارنا مع الشركاء الأمريكيين". ولفت الوزير الروسي إلى أن الإدارة الأمريكية الجديدة تطرح هذه الفكرة بصيغة تختلف عن "الأفكار التي سبق أن طُرحت في المراحل الماضية للأزمة السورية، وأعني هنا الأفكار الخاصة بإنشاء منصة معينة في الأراضي السورية لإنشاء حكومة بديلة واستخدامها كمنصة انطلاق لإسقاط الحكومة".)

التعليق:

عندما يقول السياسيون بأن الدول التي تخدم غيرها تقدم على الانتحار فهم على حق! ومثال روسيا هذا أمامنا. فعندما كانت إدارة أوباما ترفض كل طلبات تركيا وأوروبا باقامة منطقة آمنة في سوريا، كانت روسيا تتحدث بحزم عن رفضها للمناطق الآمنة في سوريا! وقد ملأت الدنيا بالتصريحات الرافضة للمنطقة الآمنة خلال 2015 و2016، وكان بعض البسطاء يظنون ذلك موقفاً مستقلاً منها وتعبيراً عن سياستها في سوريا.

وعندما رحلت إدارة أوباما وجاءت إدارة ترامب، فقد أراد ترامب أن يظهر حسب شعاراته "أمريكا عظيمة من جديد" فأعلن عن مناطق آمنة في سوريا وأنه سيقيمها. وكان ذلك دون أي تشاور مع روسيا التي كانت إدارة أوباما قد كلفتها بالمهام الأمريكية القذرة (القتل والتدمير وإبادة الثورة) في سوريا. وعندما أحست روسيا بتبدل الآراء في واشنطن فقد سارعت أولاً بالتصريح بأن ترامب لم يتشاور معها، وكان المسؤولون الروس منشغلين بترتيب موعد مكالمة هاتفية بين بوتين وترامب، وكان انتظار الروس لتلك المكالمة يشبه "الحب من طرف واحد"، طبعاً الطرف الروسي لترامب. ولما أدركت روسيا بأن ترامب ماضٍ في سياسته لإقامة المناطق الآمنة دونما اعتبار لطائراتها وسيطرتها الجوية في سوريا، فقد صار لزاماً على روسيا أن توجد المبررات للموافقة على قرار ترامب، فكانت مبررات واهية، كأن يوافق النظام السوري على ذلك! وهي تعلم أنه عبد لأمريكا.

فروسيا تجد نفسها أمام ورطة كبيرة في سوريا، وهذه الورطة كانت في البداية أمام أهل سوريا والثورة السورية، ولكنها اليوم بالإضافة إلى ذلك ورطة أمام السياسة الأمريكية التي أنزلتها سنة 2015 الساحة السورية، وروسيا لا يمكنها الخروج الآن من سوريا إلا وفق شروط أمريكا، فدورها حبيس بين أتباع أمريكا، ورهين بقرارات البيت الأبيض، بل وبنوايا البيت الأبيض.

فلو كانت روسيا مستقلة في قرارها السوري لطالبت أمريكا على الأقل التفاوض بخصوص هذه المناطق الآمنة التي سيحظر على طيرانها الاقتراب منها، وإلا واجهت لعنة ترامب الباحث عن عظمة أمريكا من جديد.

فما أشبه الصغير بالكبير حين يقبل أن يكون صغيراً، فالدول العميلة لا تتصرف إلا كما يريد السيد، وهي ملزمة بذلك ولا يمكنها الانفكاك عن السيد، والدول التي تدور في فلك دولة كبرى قد ألزمت نفسها طواعية بالتصرف وفق ما يريد سيدها، وتظل قادرة على الانفكاك عنه، وإن كان ذلك بصعوبة. والدول المستقلة ومنها الدول الكبرى كروسيا حين تقبل بتنفيذ مهمات لغيرها كمهمتها الأمريكية في سوريا، فهي لا يمكنها التصرف في هذه المهمة إلا كما يريد السيد الأمريكي، وإن تراجعت لوحدها فقد خسرت كل مكاسبها التي لأجلها وافقت على الخدمة، أي أن روسيا لو خرجت منفردة من سوريا فإن كل مكاسب العظمة التي جنتها من سوريا ستعلق بأقدام ترامب في واشنطن، وحتى لا يحصل ذلك، وتبقى لها مكاسبها فإنها تلوك كلامها وتبدل مواقفها وتتكلم بكلام السيد الجديد، وتقف مواقفه بشكل محرج يجعل الفرق بينها وبين الدول العميلة والدائرة في فلك في زاوية المهمة التي كلفت بها فرقاً بسيطاً.

وإذا ما نجحت سياسة ترامب بجر روسيا ضد الصين فإن روسيا تكون متنقلة بين أقدام أمريكا من سوريا إلى الصين إلى غيرها، تحت عنوان "الشراكة الدولية"، فكما كانت بريطانيا تقاتل قديماً حتى آخر جندي فرنسي فإن أمريكا ستقاتل حتى آخر جندي روسي في القرن الواحد والعشرين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام البخاري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست