میثاق جولائی ایک سیکولر منصوبہ ہے اور یہ اہل بنگلہ دیش سے غداری ہے
خبر:
قومی مفاہمت کمیٹی کی جانب سے جولائی میں جاری ہونے والے قومی میثاق (آئینی اصلاحات) پر عمل درآمد کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے اور اس کی بنیاد پر ریفرنڈم کرانے کی تجویز نے سیاسی جماعتوں میں شدید تقسیم اور آئینی بنیاد پر قانونی ماہرین کے درمیان اختلاف کو جنم دیا ہے۔ اختلاف دو سمتوں میں ہے: سیاسی طور پر کہ کیا یہ حکم صدر کی جانب سے جاری ہونا چاہیے یا نگران حکومت کے چیف ایڈوائزر کی جانب سے۔ اور قانونی طور پر کہ کیا اس طرح کا حکم اور ریفرنڈم موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر ممکن بھی ہیں یا نہیں۔
تبصرہ:
قومی مفاہمت کمیٹی جولائی میں جاری ہونے والے قومی میثاق کے حوالے سے اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اس نے اس کی بنیادی خامیوں کو بے نقاب کر دیا۔ یہ دستاویز بنگلہ دیش کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم اور اس کے عوام کی خواہشات سے غداری کا سبب بن گئی۔ میثاق جمہوری نظام اور حکمرانی میں ساختی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتا ہے، گویا حسینہ نظام کے خلاف بہنے والا لوگوں کا خون جمہوری اصلاحات کے لیے تھا!
میثاق کا دیباچہ عوامی بغاوت کے دوران عوام کی مرضی کو طلب کرتا ہے، لیکن یہ اسلام کا واضح طور پر ذکر کرنے سے گریز کرتا ہے جو بنگالی عوام کی شناخت کا جوہر ہے۔ یہ تاریخ کو مسخ کرنا ہے، کیونکہ یہ بغاوت کو مکمل طور پر ایک سیکولر منصوبہ کے طور پر پیش کرتا ہے، اور اس حقیقت کو دھندلا دیتا ہے کہ اس کے پیچھے بنیادی محرک نوجوانوں اور عوام کی جانب سے ایک اسلامی نقطہ نظر سے آمرانہ نظام کا خاتمہ تھا۔
یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ میثاق مغربی حمایت یافتہ نگران حکومت کے ہاتھ میں ایک آلہ کار کے سوا کچھ نہیں ہے تاکہ عوامی سطح پر کسی بھی اسلامی سیاسی وجود کو ختم کیا جا سکے۔ اور یہ ایک واضح اور خوفناک پیغام بھیجتا ہے: اگر آپ سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی اصل اسلامی شناخت کو ایک سیکولر ورژن کے حق میں چھوڑنا ہوگا جو مغرب اور ریاست کو منظور ہو!
موجودہ سیاسی اختلافات اس گہری ساختی خرابی کی علامات کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش میں سیکولر سیاست کی تقسیم اور ناکامی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس نے حکمرانی کو اقتدار کی کشمکش کے کھیل میں بدل دیا ہے، اور لالچیوں کے درمیان ایک تیز رفتار دوڑ میں، جہاں بحث حکمرانی کے مقصد یا اقدار کے بارے میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کے طریقہ کار اور شکل کے بارے میں ہوتی ہے۔ میثاق جولائی پر بحث ایک قومی وژن پر بحث نہیں ہے، بلکہ خود اس بوسیدہ میز پر بیٹھنے کے لیے اشرافیہ کے درمیان تنازع ہے۔
حسینہ کا خاتمہ ایک ضرورت تھی، لیکن نگران حکومت کی غداری، سابقہ سیاسی جماعتوں کا دھوکہ اور ان کی نااہلی ایک گہری حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ حکومت میں نہیں بلکہ خود نظام میں ہے۔ بنگلہ دیش کو ایک نئی حکومت کی نہیں، بلکہ ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ اور ہم ایک ایسے زخم پر ناکام جمہوری پٹی ڈالنا جاری نہیں رکھ سکتے جس کو بنیادی علاج کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش ایک متبادل سیاست، ایک متبادل نظام حکمرانی، ایک متبادل قیادت اور ایک متبادل طرز زندگی کا متمنی ہے۔ لوگ ان وضعی نظاموں کے کھوکھلے وعدوں سے تنگ آ چکے ہیں جو اصول پر اقتدار کو اور قوم پر پارٹی کو ترجیح دیتے ہیں۔
اب اس جمہوری فریب سے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے۔ وہ حقیقی تبدیلی جس کی ہم تلاش کر رہے ہیں وہ کسی فاسد میثاق کی شقوں میں یا کسی سیکولر پارلیمنٹ کے ہالوں میں نہیں آئے گی، بلکہ ایک ایسے نظام کو اپنانے میں آئے گی جو ہمیں اپنے عقیدے کے پرچم تلے متحد کرے، ایک ایسا نظام جو الہی انصاف، حقیقی رحمت اور ایسی قیادت پر مبنی ہو جو قوم کی خدمت کرے نہ کہ خود کی۔ بنگلہ دیش کسی اور سیکولر پارٹی کا انتظار نہیں کر رہا، بلکہ اس حقیقی تبدیلی کا انتظار کر رہا ہے جو صرف منہاج النبوۃ پر خلافت راشدہ کے قیام سے ہی ممکن ہے، یہ ہی حقیقی میثاق ہے، اور یہی وہ واحد مستقبل ہے جو آزادی اور وقار کا وعدہ کرتا ہے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی جانب سے لکھی گئی ہے
ارتضاء شودری – ولایہ بنگلہ دیش