نَفائِسُ الثَّمَراتِ
حقیقتِ توبہ
پس حقیقت (توبہ) اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے اس چیز کے کرنے کے التزام کے ساتھ جو اسے پسند ہے اور اس چیز کو چھوڑنے کے ساتھ جو اسے ناپسند ہے۔ پس یہ ناپسندیدہ سے پسندیدہ کی طرف رجوع کرنا ہے۔ پس پسندیدہ کی طرف رجوع کرنا اس کے نام کا ایک حصہ ہے اور ناپسندیدہ سے رجوع کرنا دوسرا حصہ ہے۔ اور اسی لیے اللہ سبحانہ نے مطلق کامیابی کو مامورات کے کرنے اور محظورات کے ترک کرنے پر معلق کیا ہے۔ پس فرمایا: {وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون} پس ہر توبہ کرنے والا کامیاب ہے اور کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ وہ کرے جس کا حکم دیا گیا ہے اور چھوڑ دے جس سے منع کیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} اور مامور کو چھوڑنے والا ظالم ہے جیسا کہ محظور کو کرنے والا ظالم ہے۔ اور اس سے (ظلم) کے نام کا زائل ہونا صرف اس توبہ سے ہوتا ہے جو دونوں چیزوں کو جامع ہو۔ پس لوگ دو قسم کے ہیں: توبہ کرنے والے اور ظالم، بس۔ پس توبہ کرنے والے وہ ہیں {الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ} پس اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا: توبہ کا ایک حصہ ہے اور توبہ ان تمام امور کا مجموعہ ہے۔ اور اس کو توبہ کرنے والا اس لیے کہا جاتا ہے: اس کے اللہ کے حکم کی طرف اس کی نہی سے اور اس کی اطاعت کی طرف اس کی نافرمانی سے رجوع کرنے کی وجہ سے۔
مدارج السالکین حصہ سوم
وَصَلِّ اللَّهُمَّ عَلَىْ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَىْ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ
وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ