نَفائِسُ الثَّمَراتِ - كنت أقرأ القرآن فلا أجد له حلاوة
نَفائِسُ الثَّمَراتِ - كنت أقرأ القرآن فلا أجد له حلاوة

احمد بن ثعلبہ نے کہا: میں نے سلمان الخواص کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں قرآن پڑھتا تھا لیکن مجھے اس میں کوئی مٹھاس نہیں ملتی تھی۔ تو میں نے اپنے آپ سے کہا: اسے اس طرح پڑھو گویا تم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: تو تھوڑی سی مٹھاس آئی، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا: اسے اس طرح پڑھو گویا تم نے اسے جبریل سے سنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہے ہیں، تو مٹھاس بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا: پھر میں نے اس سے کہا کہ اسے اس طرح پڑھو گویا تم نے اسے اس وقت سنا ہے جب وہ اسے بول رہے ہیں۔ تو ساری مٹھاس آ گئی۔

0:00 0:00
Speed:
June 14, 2025

نَفائِسُ الثَّمَراتِ - كنت أقرأ القرآن فلا أجد له حلاوة

نَفائِسُ الثَّمَراتِ

میں قرآن پڑھتا تھا لیکن مجھے اس میں کوئی مٹھاس نہیں ملتی تھی

احمد بن ثعلبہ نے کہا: میں نے سلمان الخواص کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں قرآن پڑھتا تھا لیکن مجھے اس میں کوئی مٹھاس نہیں ملتی تھی۔ تو میں نے اپنے آپ سے کہا: اسے اس طرح پڑھو گویا تم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ انہوں نے کہا: تو تھوڑی سی مٹھاس آئی، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا: اسے اس طرح پڑھو گویا تم نے اسے جبریل سے سنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہے ہیں، تو مٹھاس بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا: پھر میں نے اس سے کہا کہ اسے اس طرح پڑھو گویا تم نے اسے اس وقت سنا ہے جب وہ اسے بول رہے ہیں۔ تو ساری مٹھاس آ گئی۔ 

اے اللہ! ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تمام آل و اصحاب پر درود بھیج۔

اور تم پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں۔

More from null

نفائس الثمرات - حقيقٌ على مَن عَرَفَ أن الموتَ موردُهُ

نفائس الثمرات

حقيقٌ على مَن عَرَفَ أن الموتَ موردُهُ

حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص جانتا ہے کہ موت اس کا ٹھکانہ ہے، قیامت اس کی وعدہ گاہ ہے، اور خدائے جبار کے سامنے کھڑا ہونا اس کا منظر ہے، تو اس پر لازم ہے کہ دنیا میں اس کی حسرت لمبی ہو، اور نیک عمل میں اس کی رغبت ہو۔ 

آداب الحسن البصري وزهده ومواعظه

لأبي الفرج ابن الجوزي

وصل اللهم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نفائس الثمرات - حسم الأعمال في الحال

نفائس الثمرات

حسم الأعمال في الحال

نافع چیزوں میں سے یہ ہے کہ کاموں کو فوراً نمٹا لیا جائے، اور مستقبل میں فارغ رہا جائے کیونکہ اگر کام نہ نمٹائے گئے تو پچھلے کاموں کا بقیہ بھی تم پر جمع ہو جائے گا، اور اس کے ساتھ اگلے کام بھی شامل ہو جائیں گے، تو ان کی شدت بڑھ جائے گی، پس جب تم ہر چیز کو اس کے وقت پر نمٹا لو گے تو مستقبل کے کاموں کو قوتِ فکر اور قوتِ عمل کے ساتھ انجام دو گے۔ 

الوسائل المفيدة للحياة السعيدة

لابن سعدي

وصل اللهم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته