نَفائِسُ الثَّمَراتِ
نصب الإمام واجب علينا سمعا
کہا عضد الدین الإیجی نے (في المواقف): "ہمارے نزدیک امام کو مقرر کرنا شرعاً واجب ہے... اور اس کے شرعاً واجب ہونے کی دو وجوہات ہیں: پہلی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدر اول میں مسلمانوں کا اس بات پر اجماع تواتر سے ثابت ہے کہ وقت امام سے خالی نہیں رہ سکتا، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: آگاہ رہو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور اس دین کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو اس کا انتظام کرے، تو سب نے اسے قبول کرنے میں جلدی کی اور سب سے اہم چیز یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کو چھوڑ دیا اور لوگ ہر زمانے میں اس پر قائم رہے، یہاں تک کہ ہمارے اس زمانے تک کہ ہر زمانے میں ایک متبع امام مقرر کیا جاتا ہے... دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک مظنون نقصان کو دور کرنا ہے اور یہ بالاجماع واجب ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم قریب بہ ضرورت علم سے جانتے ہیں کہ شارع کا مقصود معاملات، نکاح، جہاد، حدود، قصاص اور عیدوں اور جمعوں میں شعائر اسلام کو ظاہر کرنے میں وہ مصالح ہیں جو مخلوق کی معاش اور معاد کی طرف لوٹتی ہیں اور یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ شارع کی طرف سے ایک امام نہ ہو جس کی طرف وہ ان چیزوں میں رجوع کریں جو انہیں پیش آئیں...۔"
وَصَلِّ اللَّهُمَّ عَلَىْ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَىْ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ
وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ