نَفائِسُ الثَّمَراتِ
اے میرے بیٹے! اللہ سے ڈرو
علي بن الجعد نے کہا: ہمیں عبد الواحد بن سليم البصري نے عطاء بن ابی رباح کے حوالے سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ولید بن عبادہ بن الصامت سے پوچھا: آپ کے والد کی موت کے وقت کیا وصیت تھی؟ انہوں نے کہا: وہ کہنے لگے: اے میرے بیٹے! اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تم اللہ سے نہیں ڈر سکتے اور علم تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرو اور تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اس کی خیر اور شر پر۔ میں نے کہا: اے میرے والد! میں کیسے اس کی خیر و شر پر ایمان لاؤں؟ انہوں نے کہا: جان لو کہ جو مصیبت تمہیں پہنچی وہ تم سے چوکنے والی نہیں تھی اور جو چیز تم سے چوکی وہ تمہیں پہنچنے والی نہیں تھی، اگر تم اس کے سوا کسی اور چیز پر مرو گے تو جہنم میں داخل ہوگے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: (سب سے پہلے جو چیز اللہ نے پیدا کی وہ قلم تھی، پھر اس سے کہا: لکھو، تو اس نے کہا: میں کیا لکھوں؟ تو اسی وقت سے اس نے وہ سب کچھ لکھ دیا جو ہو چکا اور جو ہمیشہ تک ہونے والا ہے)۔ اسے مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
طريق الهجرتين و باب السعادتين
للإمام ابن قيم الجوزية
وَصَلِّ اللَّهُمَّ عَلَىْ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَىْ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ
وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ