نعمت شفيق… نموذج نراه كل يوم
نعمت شفيق… نموذج نراه كل يوم

الخبر: عرض برنامج "المخبر الاقتصادي" الذي يقدمه أشرف إبراهيم على يوتيوب حلقة عن نعمت طلعت شفيق رئيسة جامعة كولومبيا التي أشعلت المظاهرات ضد كيان يهود. ...

0:00 0:00
Speed:
May 15, 2024

نعمت شفيق… نموذج نراه كل يوم

نعمت شفيق… نموذج نراه كل يوم

الخبر:

عرض برنامج "المخبر الاقتصادي" الذي يقدمه أشرف إبراهيم على يوتيوب حلقة عن نعمت طلعت شفيق رئيسة جامعة كولومبيا التي أشعلت المظاهرات ضد كيان يهود.

وسرد أشرف إبراهيم كمّاً كبيرا من المعلومات عن نعمت شفيق المصرية الأصل التي انتقلت مع عائلتها في سن الرابعة إلى أمريكا هربا من تأميم عبد الناصر لممتلكات والدها الثري، لتحصل على الدكتوراه في 1999 من جامعة أكسفورد ثم لتتدرج في مناصب مهمة في مؤسسات دولية مهمة منها نائب المدير العام لصندوق النقد الدولي حتى وصلت إلى رئاسة جامعة كولومبيا.

يحاول مقدم البرنامج - بحسن نية - إلقاء الضوء على سبب انحيازها ضد الطلاب المتظاهرين والمطالبين بإيقاف مجازر دولة الكيان في غزة.

التعليق:

من العمل في البنك الدولي، ثم نائبة لرئيس البنك الدولي وهي في عمر 36 عاما فقط إلى العمل مع الحكومة البريطانية في 2004 كمديرة تنفيذية داخل وزارة التنمية الدولية لتصبح بعد أربع سنوات السكرتير الدائم للوزارة كأعلى منصب مدني في الوزارة.

في 11 نيسان/أبريل 2011 عينت نعمت شفيق نائبا للمدير العام لصندوق النقد الدولي، أي قبل بضعة أسابيع من إلقاء القبض على رئيسها دومينيك ستراوس الذي كان اتهم بمحاولة اغتصاب امرأة في الفندق، والذي كان مرشحا محتملا لرئاسة فرنسا، وكان يعد نفسه لرئاسة وفد الصندوق في اجتماع مع وزراء مالية منطقة اليورو الذي كان سيحسم فيه خطة إنقاذ البرتغال من الأزمة المالية حينها. فإذا بنعمت شفيق هي من تتولى رئاسة الوفد وتتم الموافقة بالإجماع على خطة إنقاذ للبرتغال قيمتها 78 مليار يورو، فإذا بنعمت شفيق "صدفة" تحت الأضواء قادتها لمركز الأحداث كما يقول أشرف إبراهيم في وقت حساس جدا لأوروبا.

بعد ثلاث سنوات تنتقل نعمت شفيق للعمل كنائبة لمحافظ بنك إنجلترا في منصب استحدث لأجلها، وإذا بها بعد عامين ونصف تنتقل لرئاسة كلية لندن للاقتصاد والتي تعتبر واحدة من أعرق المؤسسات الجامعية في العالم، لتكون أول شخص من أصل عربي يرأس كلية لندن للاقتصاد.

وصفتها الفايننشال تايمز في 2011 كشخص براغماتي وغير منحازة سياسيا، أي أنها بحسب تفسير أشرف إبراهيم لا تنحاز لأي رأي أيديولوجي أو سياسي بغض النظر عن مدى عدالة القضية ذات العلاقة. فهي شخص "تكنوقراط يؤدي وظيفته بالشكل الذي يضمن له أولا وقبل أي شيء بقاءه في منصبه"، فهي لا تبدي رأيا "سياسيا" وإن حوصرت بالسؤال يكون جوابها "دبلوماسيا ما يزعلش حد" كما يقول أشرف إبراهيم. والذي ساعدها على بناء سيرة ذاتية قوية ليس لها مثيل مكنها من التنقل بين تلك المناصب العالمية المهمة وتخرج منها من الباب الكبير، فهي التي تحمل جنسيات ثلاث بحسب الصحافة العالمية "مواطن عالمي" لا تغضب لأجل أحد ولا لدولة معينة، وهذا ما جعلها برأيهم المرشح المثالي لرئاسة جامعة كولومبيا الأمريكية في الرابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023، أي قبل ثلاثة أيام من طوفان الأقصى وما جرى بعده ولا يزال من قتل وذبح لأهل غزة. ولتنطلق تظاهرات في جامعة كولومبيا لمناصرة أهل غزة فوجدت نعمت شفيق نفسها "لا تستطيع الإمساك بالعصي من الوسط" بحسب إبراهيم و"مضطرة لتنحاز لطرف على حساب الطرف الآخر"، فإما أن تكون مع حرية الطلاب وتوفي حقهم في التظاهر السلمي وتندد بجرائم دولة الاحتلال في غزة فتنسجم مع قولها قبل ذلك بعامين ونصف بحسب صحفية ليزيكو الفرنسية "الشيء الأكثر استثنائية في إدارة أي جامعة، هو أنه يمكن التعبير عن جميع القضايا العالمية، داخل الحرم الجامعي"، أو أن تحاصر المتظاهرين وتلوم أهل غزة وأهل فلسطين كي ترضي أناسا مهمين جدا في أمريكا والعالم.

فهي تفهم بحسب تبرير أشرف إبراهيم "خريطة القوة داخل أمريكا في أي موضوع يتعلق بـ(إسرائيل) بالذات" وتدرك ثمن الانحياز لكل طرف من الاثنين، وعلى هذا الأساس اتخذت قرارها فاختارت لمن تنحاز إليهم بدءا من وصفها طوفان الأقصى في تشرين الأول/أكتوبر بأنها "هجوم مروع على (إسرائيل)" دون أن تدين كيان يهود أو تنتقده بشيء وقد ولغ في دماء المسلمين في غزة. ثم أقفلت حرم الجامعة أمام الجمهور لمحاصرة المظاهرات المنددة بالعدوان ما أشعل الغضب أكثر وأكثر. حتى وصل بها الحال أن تشهد أمام لجنة استجواب مجلس النواب الأمريكي في 2024/04/17 وتهاجم الطلاب وأعضاء هيئة التدريس المتظاهرين وتهددهم، لتضحي بحرية الطلاب التي تشدقت بها قبل ذلك وتطرد أساتذة من هيئة التدريس، كل ذلك لتنقذ نفسها من مصير رئيستي جامعتي بنسلفانيا وهارفارد اللتين اضطرتا لتقديم الاستقالة تحت ضغط الأثرياء ومؤيدي كيان يهود. كانت نعمت شفيق مستسلمة تماماً للجمهوريين وكانت تقريبا توافقهم في كل ما قالوه لدرجة أن نيويورك تايمز الأمريكية وصفت مقدار ما كانت تصالحية في جلسة الاستماع شك القاعدون بها أنها توافقهم ما يقولون ضحكا عليهم، إلا أنها بعد جلسة الاستماع بيوم استدعت شرطة نيويورك لداخل الجامعة لتطرد المؤيدين للفلسطينيين وتعتقل المئات وتفض اعتصامهم لتصدق قولها بفعلها. فإذا بها وبالرغم من انحيازها الواضح ضد قضية أقل ما يقال عنها إنها عادلة من وجهة نظر الكثيرين في الغرب فإن إقالتها أو استقالتها في نهاية المطاف أصبحت أمرا مفروغا منه.

سرد هذه الأحداث هنا ليس لمجرد نقل المعلومات المجردة وإنما الغرض منه السؤال عن عدد من يشبهون نعمت شفيق في بلاد المسلمين ويتبعون نهجها "البراغماتي" الذي يقدم نفسه ومصالحه الشخصية والمناصب والمزايا على اتخاذ الحد الأدنى من المواقف المشرفة والانحياز ولو جزئيا لقضايا الأمة؟

أشرف إبراهيم يبرر قائلا: "لا نستطيع اتهام نعمت شفيق أنها منحازة ضد الفلسطينيين… ولكنها في الغالب مجرد شخص يحاول أن يحافظ على منصبه بأي ثمن". وحتى لو أقيلت أو استقالت فقد نفت عن نفسها تهمة العصر "معاداة السامية" لتضمن لنفسها "مسيرتها المهنية الاستثنائية".

الطريف في كل ذلك هو تعليقات الناس على الفيديو والتي وصفت في بعضها نعمت شفيق بالطفيلية والمتسلقة والأنانية والانتهازية…

ويبقى السؤال مطروحا كم من مسلم جعل مقياسه في الحياة المصلحة والمنفعة الشخصية فقدمها على الانحياز للمبدأ ولشرع الله ولقضايا المسلمين المصيرية.

إن نموذج نعمت شفيق يتكرر كل يوم أمامنا، حكام عملاء مجرمون تلتف حولهم حاشية من أصحاب المناصب والأقلام الإعلامية والقامات والألقاب والعمائم أيضا تناصرهم وتجلد ظهر الأمة معهم وتنحاز للظالم من أجل عرض من الدنيا زائل.

فاختاروا يا هؤلاء وأضرابهم أي فسطاط تنحازون إليه فقد أوشك طوفان الأمة أن يجرف كل الزبد في الأرض!

قال تعالى: ﴿ألم * أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ * وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. حسام الدين مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست