نفائس الثمرات
لیس العجب
قال ابن القيم رحمہ اللہ
- تعجب اس غلام پر نہیں جو اللہ کے لیے عاجزی کرے اور اس کی عبادت کرے اور اس کی خدمت سے نہ اکتائے باوجود اپنی حاجت اور اس کی طرف فقر کے، تعجب تو اس مالک پر ہے جو اپنے غلام سے اپنی نعمتوں کے ذریعے محبت کرے اور اپنی انواع و اقسام کی احسانات کے ذریعے اس سے پیار جتائے باوجود اس سے بے نیاز ہونے کے۔
- تجھے عزت کے لیے یہی کافی ہے کہ تو اس کا بندہ ہے اور تجھے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ تیرا رب ہے۔
مثال فرمانبرداری کے پیدا ہونے، بڑھنے اور زیادہ ہونے کی
مثال فرمانبرداری کے پیدا ہونے، بڑھنے اور زیادہ ہونے کی، اس بیج کی مانند ہے جسے تو نے بویا، پس وہ ایک درخت بن گیا، پھر اس نے پھل دیا تو تو نے اس کے پھل کھائے، اور اس کے بیج بوئے، پس جب بھی اس سے کوئی چیز پھل لائی، تو نے اس کا پھل چنا، اور اس کا بیج بویا۔ اور اسی طرح گناہوں کا تسلسل ہوتا ہے، پس عقلمند کو اس مثال پر غور کرنا چاہیے۔ پس نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے، اور برائی کی سزا اس کے بعد برائی ہے۔
وصل اللهم على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته