"نحن لا نريد الموت في الغابة وتولد لدينا إحساس أن الجميع يريدوننا أمواتا"!
"نحن لا نريد الموت في الغابة وتولد لدينا إحساس أن الجميع يريدوننا أمواتا"!

الخبر:   لليوم الثاني على التوالي.. لاجئون سودانيون عالقون في غابات أولالا بإقليم أمهرة بإثيوبيا، يضربون عن الطعام للمطالبة بإعادتهم إلى المعسكرات، أو ترحيلهم إلى بلدهم. (الجزيرة السودان، 25 أيار/مايو 2024م).

0:00 0:00
Speed:
June 01, 2024

"نحن لا نريد الموت في الغابة وتولد لدينا إحساس أن الجميع يريدوننا أمواتا"!

"نحن لا نريد الموت في الغابة وتولد لدينا إحساس أن الجميع يريدوننا أمواتا"!

الخبر:

لليوم الثاني على التوالي.. لاجئون سودانيون عالقون في غابات أولالا بإقليم أمهرة بإثيوبيا، يضربون عن الطعام للمطالبة بإعادتهم إلى المعسكرات، أو ترحيلهم إلى بلدهم. (الجزيرة السودان، 25 أيار/مايو 2024م).

التعليق:

فر من فر من أهل السودان من ويلات المعارك الطاحنة، في رحلة اللجوء الغامضة، وهم يتجرعون البؤس والشقاء، خاصة من دخلوا الدول المجاورة دون أوراق رسمية، فمعظمهم قطع مسافات طويلة على الأقدام، أو على ظهر سيارات مكشوفة، يعانون الجوع والعطش، والمطاردات من سلطات الدول التي لجأوا إليها، وقد يرحلون قبل وصولهم، ووقع بعضهم في صدمات نفسية، وفقدوا أفراداً من عائلاتهم، وممتلكاتهم. وفي نموذج لاجئي إثيوبيا من أهل السودان، وضعوا في مخيمات بائسة مهينة، يعتمدون على سخاء البلدان المضيفة، التي تزهد فيهم، واستجابة ضعيفة من الوكالات المسماة إنسانية، التي لا تقيم لمعاناتهم وزنا.

فقد دخل 2843 من بين أكثر من 6000 عالق في غابات الأولالا بإقليم الأمهرة الإثيوبي، في إضراب طوعي تام عن الطعام منذ 23 أيار/مايو 2024م، بسبب نقص الغذاء.

ووفقا لمتحدث المعسكر لدى مداخلاته في منبر المغردين السودانيين، مساء الأحد، على منصة إكس فقد نفد معظم ما يملكون من غذاء ودواء، لذلك قرروا الدخول في إضراب تام عن الطعام، وتوفير ما تبقى للأطفال وكبار السن، والنساء "دون الحوامل، والمرضعات".

علماً بأن في المعسكر حوالي 2133 طفلا و76 حالة ذوي احتياجات خاصة، وعدد 1196 مريض و327 امرأة مرضع وحامل، إضافة إلى ذلك يُعاني اللاجئون من نقص الدواء، مع تخصيص المتوفر لذوي الاحتياجات الخاصة والحالات الحرجة.

وأكد العالقون في غابات الأولالا، أن المأساة التي عاشوها في الأيام الماضية وصلت إلى طرق مسدودة، حيث حُرموا من كل أشكال المساعدات الدولية، والمحلية، والمنظمات الطوعية، لافتاً إلى أن لديهم أكثر من 1851 بلاغاً مفتوحاً بخصوص سوء الأوضاع خلال العام المنصرم.

وأفاد بأن الحكومة الإثيوبية هددت باستخدام القوة، لإجبارهم على مغادرة غابات الأولالا، وذلك بحضور ممثلين عن تنسيقية اللاجئين الدولية.

وأضاف: "إن العالقين السودانيين، طالبوا حينها بإعادتهم إلى السودان، على أن تعتذر أديس أبابا للعالم عن التقصير في حماية حياتهم".

وقال المتحدث بصوت باكٍ عبر الهاتف، في ختام مداخلته التي انقطعت بسبب صعوبة الاتصالات: "نحن لا نريد الموت في الغابة وتولد لدينا إحساس أن الجميع يريدوننا أمواتا".

من جانبه كشف الكاتب والصحفي الإثيوبي، أنور إبراهيم أحمد، أن اللاجئين السودانيين عالقون بين الجيش، والمليشيات الإثيوبية، وأوضح أن الاشتباكات تدور على بعد 2 كيلومترا من المنطقة التي يقيمون فيها، وأشار إلى اعتمادهم على الخيران الواقعة على مسافة 3 كيلومتر في مياه الشرب، بينما يضطرون لقطع مسافات 45 كيلومترا للوصول إلى نقاط الاتصال بالإنترنت.

وأكد إبراهيم، أن اللاجئين يتعرضون للتضييق من المزارعين الإثيوبيين في المنطقة، كما يتعرضون للاعتداء من قبل مليشيا الفانو والشرطة الفيدرالية.

وأكد أن فكرة الإضراب جاءت بسبب الظروف القاسية للاجئين، الذين يبلغ عددهم 6080 شخصاً، بينهم 2000 طفلا، ونساء حوامل، وكبار سن، قرروا تقنين الغذاء المتوفر، الذي كان يكفي لخمسة أيام فقط، وتمكنوا من الاستمرار به لأكثر من ثلاثة أسابيع، وأضاف: "مع نفاد كمية الطعام بدأ الشباب في ترك وجباتهم للأطفال والنساء وكبار السن لتوفير الطعام الشحيح المتبقي".

ونوه أنور إلى أن اللاجئين يعانون من الإعياء بسبب المياه الملوثة، حيث ظهر مرض الكلى، والسكري ونقص الطعام، ما يفاقم أوضاعهم المتدهورة.

ووفقاً لحديث المشاركين في المنصة، فقد تمكنت قرية سكانها من المسلمين الإثيوبيين بالقرب من العالقين، من جمع التبرعات لدعم اللاجئين بالمواد الغذائية، والأدوية، إلا أن الشرطة الفيدرالية صادرتها!! بحجة أنهم لا يستحقون المساعدات.

صغار لا يجدون من ينقذهم من هذه الأوضاع المليئة بالمخاطر، كما لا يرفق أحد بالنساء ولا بكبار السن، في ظل خذلان حكومة آبي أحمد، يتركونهم لمصيرهم وهم يموتون في صمت، دون أن يجدوا ولو إعلاميا ينقل معاناتهم إلا قليل من الصحفيين.

نعم تركوا في العراء، يفترشون الأرض ويلتحفون السماء، في مشهد تجزع منه القلوب، ويذيبها كمداً، فمن يطعمهم؟ ومن يكسوهم؟ من يؤويهم؟ من يشعرهم بالدفء والأمان؟ من يعوّضهم فقدانهم أحبتهم وممتلكاتهم في السودان؟ ومن ومن؟

إنها المأساة التي يندي لها الجبين، بينما العالم يتفرج عاجزا عن تقديم أي مساعدة، فترك هؤلاء اللاجئون لمصير قاتم، قد لا ينجو منهم أحد، وحكومات بلاد المسلمين بالطبع عاجزة عن تحريك ساكن، وكذا المنظمات المسماة إنسانية لا تقيم لهم وزنا.

إنه لا خلاص حقيقي لكل مآسي الأمة، سوى بإقامة الخلافة على منهاج النبوة، يسوسها الرجال الرجال، يرعى أميرها الناس، ويحنو عليهم كما الأم على رضيعها، وينصر مستضعفيهم، وينتقم من أعدائهم ولا يقبل بأي انتهاك لحرمة ابن آدم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة عبد الجبار (أم أواب) – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست