نكتة المناظرات الشكلية بين يدي وعي الأمة
نكتة المناظرات الشكلية بين يدي وعي الأمة

الخبر:   عقدت لجنة الانتخابات للجمهورية الإندونيسية المناظرات بين المرشحين لرئاسة الدولة للجولة الأولى يوم الخميس 2019/1/18 عن القضايا المتعلقة بإقامة القانون، وحقوق الإنسان، والفساد، و(الإرهاب). وعلى الرغم من أن لجنة الانتخابات قد أعطت لكل من المشرحين العناصر والنقاط الرئيسية التي تتضمنها المناظرات وحتى الأسئلة المعدة لهم من المحدثين وأعضاء اللجنة، لكن الرأي العام لدى الشعب الإندونيسي يدل على أن المناظرات قد فشلت في طمأنة المنتخِبين، ولا تزيد المناظرات عن عرض النظريات المملة والتعهدات الفارغة وإظهار عجز المرشحين حتى أصبحت هذه المناظرات مصدر نكتة وهزل ومزاح لدى الشعب، وهذا يدل على مدى خيبة الشعب الإندونيسي من أداء المرشحين كما هو ظاهر في وسائل الإعلام الإلكترونية. من ذلك الأسف الذي أبداه نائب رئيس مجلس النواب سيد فخري حمزة حيث قال: هل لجنة الانتخابات لا تستحيي من سير المناظرات مثل المسابقات بين التلاميذ في المدارس؟ بل الأمر أسوأ من ذلك، حيث كان المرشحون منشغلين بقراءة المذكرات الورقية لإعداد الجواب غير مهتمين بالبلاغات والاعتراضات من الفريق المنافس.. فعلى لجنة الانتخابات أن تكف عن هذه المناظرات الشكلية والمسرحية.. هذا تجهيل للشعب..! (ديتيك نيوز، 2019/1/18)

0:00 0:00
Speed:
January 21, 2019

نكتة المناظرات الشكلية بين يدي وعي الأمة

نكتة المناظرات الشكلية بين يدي وعي الأمة

الخبر:

عقدت لجنة الانتخابات للجمهورية الإندونيسية المناظرات بين المرشحين لرئاسة الدولة للجولة الأولى يوم الخميس 2019/1/18 عن القضايا المتعلقة بإقامة القانون، وحقوق الإنسان، والفساد، و(الإرهاب). وعلى الرغم من أن لجنة الانتخابات قد أعطت لكل من المرشحين العناصر والنقاط الرئيسية التي تتضمنها المناظرات وحتى الأسئلة المعدة لهم من المحدثين وأعضاء اللجنة، لكن الرأي العام لدى الشعب الإندونيسي يدل على أن المناظرات قد فشلت في طمأنة المنتخِبين، ولا تزيد المناظرات عن عرض النظريات المملة والتعهدات الفارغة وإظهار عجز المرشحين حتى أصبحت هذه المناظرات مصدر نكتة وهزل ومزاح لدى الشعب، وهذا يدل على مدى خيبة الشعب الإندونيسي من أداء المرشحين كما هو ظاهر في وسائل الإعلام الإلكترونية. من ذلك الأسف الذي أبداه نائب رئيس مجلس النواب سيد فخري حمزة حيث قال: هل لجنة الانتخابات لا تستحيي من سير المناظرات مثل المسابقات بين التلاميذ في المدارس؟ بل الأمر أسوأ من ذلك، حيث كان المرشحون منشغلين بقراءة المذكرات الورقية لإعداد الجواب غير مهتمين بالبلاغات والاعتراضات من الفريق المنافس.. فعلى لجنة الانتخابات أن تكف عن هذه المناظرات الشكلية والمسرحية.. هذا تجهيل للشعب..! (ديتيك نيوز، 2019/1/18)

التعليق:

أعلنت لجنة الانتخابات للجمهورية الإندونيسية في شهر أيلول/سبتمبر من العام الماضي الفريقين من المرشحين في الانتخابات لاختيار رئيس الدولة، الفريق الأول هو من الفئة الحاكمة بالمرشح الرئيس الحالي جوكو ويدودو مع نائبه الشيخ معروف أمين، والفريق الثاني هو الفئة المعارضة بالمرشح الجنرال برابوو سوبيانتو مع نائبه ساندياكا صلاح الدين..

وقد بدأت الحملات الانتخابية من شهر أيلول/سبتمبر من العام الماضي، ولم يتركز للشعب الإندونيسي ما هي رؤية المرشحين لمستقبل إندونيسيا وكيف تخرج هذه البلاد من أزماتها الاقتصادية والسياسية والاجتماعية والأمنية وغيرها، ولا سيما المتعلقة بسيطرة النفوذ الأجنبي الظاهرة في استغلالهم لثروات البلاد وتذرعهم بالديون لتثبيت هيمنتهم، التي سببت زيادة ثقل الحياة وفقر البلاد.

وإن كان هناك دعم من الشعب الإندونيسي لفريق المعارضة المتمثلة في ترشيح الجنرال برابوو ولكنه ما هو إلا بسبب تراكم غضب الشعب من الفئة الحاكمة التي يراها الشعب أنها فشلت في تحقيق الرفاهية، وأخلفت كثيرا من وعودها وتعهداتها، وأغرقت البلاد في الديون ومالت إلى المصالح الأجنبية، وأساءت للإسلام وعلماء المسلمين..

كيف لا، فقد ارتفعت قضية تسريح العمال الداخليين حتى بلغ عددهم أكثر من 15 ألف عامل في سنة 2018، في حين تزايد عدد العمال الأجانب، وبلغت ديون إندونيسيا 5.593 تريليون روبية (378.874 مليار دولار) فأثقلت تكاليف الدولة في سداد الديون واستنزفت ميزانية الدولة لأجلها، واستمرت باستيراد الاحتياجات الأساسية على الرغم من أن الإنتاج الداخلي متوفر، كما حصل خلال سنة 2018 استيراد مليوني طن من الأرز، واستيراد 100 ألف طن من الذرة، واستيراد 4.6 مليون طن من السكر، وغيرها من المواد الأساسية، التي سببت خسارة المزارعين من أهل البلاد. وكل ذلك حاصل، وقد أخلف الرئيس وعده في تجنب زيادة الديون، وتحديد العمال الأجانب، وتوفير مجال العمل، والكف عن استيراد المواد الأساسية، وتحقيق الاستقلال الغذائي وعدم رفع سعر الوقود، وغيرها وغيرها..

لأجل ذلك فقدْ فقدَ الشعب الإندونيسي الآمال من الانتخابات القادمة، ولكن الغضب كان على الفئة الحاكمة، ما جعل الفئة المعارضة تحصل على بعض التأييد الشعبي حتى ولو كان غير أصيل. فلا عجب إذا أصبحت المناظرات بين المرشحين موضوع هزل ومزاح لدى الشعب. ولكن الأمر سيتغير ما إذا تجرأ أحد الفريقين على إثارة الجدال حول الأمر الذي أصبح مرفوضا لدى الحكومة مثل قضية تحكيم أحكام الشرع، وفكرة الخلافة، التي هي آمال حقيقية لدى الشعب المسلم، عند ذلك ستحظى هذه المناظرات بقيمتها وشأنها. وهذا ما عبر عنه السيد فخري حمزة نائب رئيس مجلس النواب الحالي حيث قال: لم لا نتكلم في المناظرات شيئا يصبح اليوم موضوع جدال في الشعب مثل قضية تحكيم الشرع..؟ أليس الكلام عن الشريعة الإسلامية هو الكلام عن الحكم؟

هذا القول وجيه، فإن الأمة قد وعت قضيتها التي هي الإسلام، والشعب الإندونيسي هو شعب مسلم بلا شك، وهم قد مارسوا عصورا شتى تحت ظل النظام الديمقراطي وذاقوا فساده، وعرفوا خيانة سلطانه.. فمن أراد أن يحظى بدعم الأمة فعليه أن يتكلم عن الإسلام وتطبيقه، ومن وقف ضده خسر، ومن وقف ضده خسر...

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أدي سوديانا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست