نساء الشرق الأوسط مقيدات بالأنظمة الوضعية لا بأحكام الإسلام
نساء الشرق الأوسط مقيدات بالأنظمة الوضعية لا بأحكام الإسلام

أظهر تقرير صدر حديثاً عن «مجموعة البنك الدولي»، أن المعوقات القانونية أمام نهوض المرأة اقتصادياً لا تزال منتشرة على نطاق كبير في هذه المنطقة. وتناول التقرير الذي نشر بعنوان "المرأة وأنشطة الأعمال والقانون 2016"، القوانين المعوقة لتوظيف النساء وريادة الأعمال في 173 دولة، وأشار إلى أن المرأة في الشرق الأوسط وشمال أفريقيا تواجه أكثر أنواع القيود القانونية فيما يخص دورها الاقتصادي.

0:00 0:00
Speed:
October 10, 2015

نساء الشرق الأوسط مقيدات بالأنظمة الوضعية لا بأحكام الإسلام

خبر وتعليق

نساء الشرق الأوسط مقيدات بالأنظمة الوضعية لا بأحكام الإسلام


الخبر:


أظهر تقرير صدر حديثاً عن «مجموعة البنك الدولي»، أن المعوقات القانونية أمام نهوض المرأة اقتصادياً لا تزال منتشرة على نطاق كبير في هذه المنطقة.

وتناول التقرير الذي نشر بعنوان "المرأة وأنشطة الأعمال والقانون 2016"، القوانين المعوقة لتوظيف النساء وريادة الأعمال في 173 دولة، وأشار إلى أن المرأة في الشرق الأوسط وشمال أفريقيا تواجه أكثر أنواع القيود القانونية فيما يخص دورها الاقتصادي.


وذكر التقرير دولاً عدَّها الأكثر تضييقاً على النساء منها إيران والأردن والعراق وأفغانستان، ومن القيود المذكورة منع السفر دون إذن الزوج والعمل ليلاً.

التعليق:


رغم غياب تطبيق الإسلام عن واقع الحياة منذ أكثر من 90 عاماً، وغياب النظام الاقتصادي الإسلامي بالتالي عن الوجود، وتطبيق النظام الرأسمالي في كافة مناحي الحياة وما نتج عنه من أزمات كارثية في الاقتصاد والسياسة ورعاية الشؤون في حياة المجتمعات والأفراد وما نتج عنه من انتشار الملايين من المهمشين والفقراء والمعوزين في صفوف الرجال والنساء واحتكار القلة القليلة للثروات، حيث كانت منظمة "أوكسفام" البريطانية الخيرية لمكافحة الفقر قد كشفت في تقرير نشرته في كانون الثاني/يناير الماضي أن التفاوت في توزيع ثروات العالم سيؤدي إلى احتكار 1% من السكان لنصف ثروات الكرة الأرضية في العام المقبل. فقد نشرت المنظمة الخيرية تقريرها قبل المنتدى الاقتصادي السنوي الذي يُعقد في دافوس بسويسرا، حيث تؤكد أن ثروة الأثرياء زادت من 44% في عام 2009 إلى 48% في عام 2014.


ونوه القائمون على التقرير إلى أنه في حال تواصلت وتيرة جني الأموال من قِبل الأثرياء على النحو ذاته، فإن ذلك سيعني تحكم هؤلاء بأكثر من 50% من ثروات العالم في عام 2016.


بالرغم من هذه الحال المزرية التي أوصلت الرأسماليةُ لها البشرية، وما أنتجته من ظلم على النساء حيث أصبحن كالآلات مضطرات للعمل لأجل العيش فضلاً عما عليهن من متابعة الأعمال المنزلية ورعاية أسرهن، في ظروف عملٍ يُمارس فيها التحيز والتمييز في الأجور ومراتب العمل؛ ثم يأتي التقرير ليعيب على الشرق الأوسط تهميش النساء وعدم إعطائهن الفرص للوصول للمشاركة الاقتصادية الفعالة!


فمن القيود التي ذكرها التقرير منع المرأة من السفر دون إذن زوجها أو منعها من العمل ليلاً وفي المصانع والأعمال الخاصة بالرجال، في تلميح واضح عن أحكام النظام الاجتماعي في الإسلام وحفاظه على المرأة!


يركزون على المرأة المسلمة ويقيسون الشريعة الإسلامية حسب مقياسهم ووجهة نظرهم ليُظهروا الإسلام أنه ظالم للمرأة يقيدها ويمنعها الوجود الفعال في المجتمع! لكن لو نظرنا للمجتمعات الرأسمالية كأمريكا مثلاً لوجدنا أنه "تشغل النساء 17 في المائة من المقاعد في الكونغرس؛ الإجهاض قانوني، أكثر من 85 في المائة من المقاطعات في الولايات المتحدة ليس لديها معيل! مما يضطر المرأة للعمل خارج المنزل، وتقاضي حوالي 76 سنتا مقابل دولار واحد للرجل! وتشكل النساء الغالبية العظمى للفقراء في أمريكا." حسب ما كتبت جيسيكا فالنتي في مقال لها: لا تزال مساواة المرأة في الولايات المتحدة وهماً!


هذا فضلاً عن آلية التوظيف التي تركز على توظيف الرجال في المناصب العليا والحساسة في المؤسسات العامة والخاصة، وتبقي مجالاً أقل للإناث حيث يكون مجال توظيفهن هو المناصب الأدنى مرتبة والأقل فعالية.


فالواضح أنَّهم لا يسعون من خلف تقاريرهم هذه إلا لإيصال رسالة للمسلمات مفادها "الإسلام يمنعك النجاح ويضيق عليكِ فتحرري منه لتصبحي فعالة في المجتمع".


ولكنهم نسوا أنًّ الإسلام يوم طُبق أعطى النساء الحق في المشاركة السياسية في المجتمع وتولي أعلى المناصب الإدارية ومحاسبة الحكام والمشاركة في إدلاء الرأي إذ كانت تقف امرأة واحدة أمام الخليفة لتأمره وتنهاه فيبكي خوفاً من الله عزَّ وجل ليجيبها "أصابت امرأة وأخطأ عمر". وكانت توظف في وظائف الدولة حيث وظَّف عمر الشَفاءَ قاضية للحسبة.


وقد ورد في مسودة الدستور الذي أعده حزب التحرير للأمة "لكل من يحمل التابعية، وتتوفر فيه الكفاية رجلاً كان أو امرأة، مسلماً كان أو غير مسلم، أن يُعَيَّن مديراً لأي مصلحةٍ من المصالح، أو أية دائرة أو إدارة، وأن يكون موظفاً فيها." كما يحقُّ للمرأة المسلمة أن تكون عضواً في مجلس الأمة تحاسب وتنصح وتشارك في المشورة السياسية وإبداء الرأي كغيرها من الرجال مع الالتزام الكامل لكلٍّ منهما بأحكام الشرع فلا تخضع بالقول ولا تتبرج ولا تخالط الرجال.


بل إنَّ عملها لأجل بناءِ مجتمع فاضل تفيد فيه وتستفيد دون تعريضها للأذى أو العنت والحرج، في جوٍّ آمنٍ تُحفظ فيه كرامتها ونفسها وعِرضها من أي مساسٍ أو أذى. وتستطيع فيه أن تكون أمَّاً وربة بيت وعاملة أو سياسية ناجحة.


كلُّ ذلك بعيداً عن وهم المساواة والتمكين والعبارات البراقة، لا سراباً بل حقيقة واقعة كانت وستكون بإذن الله عمَّا قريب. لتنعم البشرية بالعدل وتأمن النساء على حياتهن، ويحصلن على حقوقهن كاملة ويُمكَّنَّ من العمل الفعال في المجتمع والأمة.


﴿مَنْ عَمِلَ صَـٰلِحًۭا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَنُحْيِيَنَّهُۥ حَيَوٰةًۭ طَيِّبَةًۭ ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ﴾ [النحل: 97].

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أختكم بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست