نتيجة قمة الاتحاد الأوروبي الاتحاد الأوروبي يكلف تركيا بدور الوصاية (مترجم)
نتيجة قمة الاتحاد الأوروبي الاتحاد الأوروبي يكلف تركيا بدور الوصاية (مترجم)

انتهت القمة الأوروبية التركية. وقد قرر الاتحاد الأوروبي تقديم دعم مالي لتركيا بقيمة 3 بليون يورو.

0:00 0:00
Speed:
December 05, 2015

نتيجة قمة الاتحاد الأوروبي الاتحاد الأوروبي يكلف تركيا بدور الوصاية (مترجم)

نتيجة قمة الاتحاد الأوروبي الاتحاد الأوروبي يكلف تركيا بدور الوصاية (مترجم)

الخبر:

انتهت القمة الأوروبية التركية. وقد قرر الاتحاد الأوروبي تقديم دعم مالي لتركيا بقيمة 3 بليون يورو.

في أعقاب القمة الأوروبية التركية في بروكسيل، عقد رئيس الوزراء أحمد داوود أوغلو، ورئيس المجلس الأوروبي دونالد توسك ورئيس المفوضية الأوروبية كلود يونكر مؤتمرا صحفيا مشتركا. وفيما أشار رئيس الوزراء داوود أوغلو إلى أن إجراءات الانضمام للاتحاد الأوروبي ستكتسب زخما أكبر عام 2016 فقد قال أيضا بأن الهدف هو وقف تدفق المهاجرين إلى أوروبا. (المصدر: تلفزيون آي إم سي)

التعليق:

فيما تحولت عملية انضمام تركيا للاتحاد الأوروبي إلى ما يمكن اعتباره فوضى دون حل، وفيما تم انتهاج الكثير من الممارسات وسن قوانين تشريعية مخالفة لمعايير الاتحاد الأوروبي خاصة خلال السنوات الثلاث الماضية، فإني أقول بأن الحديث عن أن عملية الانضمام للاتحاد الأوروبي ستشهد زخما أكبر، كما ورد في الأخبار أعلاه، هو بمثابة جهل سياسي، وعجز عن فهم السياسة. وبعيدا عما ذكر آنفا، فإنه وطوال الفترة التي وصل فيها حزب العدالة والتنمية إلى السلطة ما بين عامي 2002 و2010، وعلى الرغم من تحقيق تركيا في تلك الفترة لغالبية معايير الاتحاد الأوروبي إلا أنها لم تمنح العضوية. وعلاوة على ذلك، فلم يتم حتى الشروع في مفاوضات العضوية الكاملة. وفي ظل هذه الظروف إضافة إلى أحداث Gezi عام 2013، فضلا عن فضائح الفساد الضخمة التي هزت تركيا وأدت إلى انتقادات كبيرة فيما يتعلق بحرية الصحافة والتعبير، فإنه ليس منطقيا ولا حقيقيا التفكير بأن هذه الأمور مجتمعة ستؤدي إلى إعطاء دفعة قوية وزخما لعملية نيل تركيا العضوية الكاملة في الاتحاد الأوروبي. وحتى ذلك الحين، دعونا نتأمل ونحلل ما تمت مناقشته وإقراره في القمة الأوروبية التركية:

  1. التعاون في مكافحة الإرهاب: اتفقت تركيا مع الاتحاد الأوروبي على الأسس التالية: "فيما يتعلق بالمحاكمات الجدية المتعلقة بالقضايا الأمنية، ولا سيما التهديدات المتزايدة للإرهاب، فمن الضروري تبادل الملاحظات بانتظام وتعزيز التعاون في مجالات السياسة الخارجية والأمن من أجل مكافحة جميع أشكال وأنواع الإرهاب". لقد جعلت الهجمات الإرهابية التي وقعت في تركيا خلال العام الماضي ومع ارتفاع عدد الوفيات والإصابات فضلا عن أحداث باريس التي حصلت مؤخرا، جعلت هذه الأحداث جميعا من تركيا والاتحاد الأوروبي حلفاء، ولكن حلفاء ضد من؟ طبعا ضد الإسلام والمسلمين. وما هي ذريعة هذا التحالف؟ تنظيم الدولة و"الإرهاب الإسلامي". ولذلك فإن هذا القرار متعلق مباشرة بسوريا. ففي وقت لاحق بعد انتهاء هذه القمة، وبحجة قصف تنظيم الدولة ستطلق فرنسا وبريطانيا طائراتها المقاتلة العسكرية لقصف تنظيم الدولة من القواعد الجوية التركية. وقد استطاعت هاتان الدولتان تمرير قرار إرسال قوات إلى سوريا عبر البرلمان.
  2. اتفاقيات إعادة القبول وأزمة لاجئي سوريا: لقد توصلت تركيا والاتحاد الأوروبي إلى اتفاق بشأن قبول وتوظيف المهاجرين من سوريا. فمن الآن فصاعدا ستعمل تركيا على خفض تدفق المهاجرين إلى أوروبا ووفقا لاتفاقات إعادة القبول فسيُعمل على إعادة لاجئي سوريا بعد فترة معينة من الزمن. وفي المقابل، فقد منح الاتحاد الأوروبي تركيا 3 مليار يورو. ومن المعروف بأن الاتحاد الأوروبي يعمل جاهدا على حل أزمة اللاجئين فعليا منذ ما يقرب من 4-5 أشهر. وفي الوقت نفسه فقد سعت الولايات المتحدة إلى إقناع بريطانيا وفرنسا على وجه الخصوص بخطتها في سوريا من خلال استغلال مشكلة تدفق لاجئي سوريا إلى أوروبا. وخلال هذه الفترة، ادعت تركيا بأنها تعاني اجتماعيا وماليا نظرا لاستضافتها وبشكل مفرط أعدادا كبيرة من اللاجئين. والآن وقد قدم الاتحاد الأوروبي قدرا معينا من المعونة لتركيا فإنها مطالَبة بالقيام بدور الحارس الذي يمنع تدفق اللاجئين من سوريا إلى أوروبا بل وقد وقعت تركيا اتفاقية لاسترداد أولئك الذين وصلوا بالفعل إلى أوروبا حتى يومنا هذا.

وبإلقاء نظرة على هاتين النقطتين فإنه يظهر وبوضوح بأنهما ليستا منفصلتين عن القضية السورية. لقد استغلت الولايات المتحدة مسألة لاجئي سوريا والانفجارات التي هزت المدن الكبرى في أوروبا من أجل فرض خطة سياسية تنتهجها الدول الأوروبية، في حين استخدمت تركيا حرفيا كأداة لتنفيذ ذلك. ولفترة من الوقت، فقد امتنعت تركيا عن فتح أبوابها لاستضافة الشعب السوري. والحقيقة هي أن دول الكفر القاسية هذه سمحت بغرق مسلمي سوريا في مياه البحر العميقة. فيما كانت أجساد الأطفال تصل جثثا هامدة لتغسلها أمواج الشاطئ. أما الآن فقد انقلبت الأمور رأسا على عقب بسبب قرار الدول الأوروبية التعاون مع أمريكا في تنفيذ خطتها في سوريا.

ونتيجة لذلك، فإن تركيا حكمت على الشعب السوري بالإعدام تحت نير قصف الطائرات المقاتلة مقابل 3 مليار يورو. ألم تفعل الشيء ذاته عام 2004؟ ففي مقابل الحصول على مليار دولار، طُلب من تركيا موافقة برلمانية للسماح بتدخل الولايات المتحدة في العراق عبر تركيا.

الخلاصة، فإن أربع سنوات ونصف من السياسة التركية تجاه سوريا لم تتسم إلا بالخيانة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست