نظام الأسد يمول أعماله القاتلة بابتزاز عائلات المعتقلين في مسالخه البشرية
نظام الأسد يمول أعماله القاتلة بابتزاز عائلات المعتقلين في مسالخه البشرية

الخبر: نشرت جمعية المعتقلين والمفقودين في سجون صيدنايا، في الرابع من كانون الأول الماضي، تقريراً كشف عن قيام نظام الأسد بابتزاز بأكثر من 100 مليون دولار حصلها من عائلات الذين تعرضوا للاختفاء القسري على يد قوات الأمن السوري. تلقى حراس سوريون ومسؤولون حكوميون وقضاة ومحامون وأفراد من الجيش وضباط مخابرات وشبيحة اقتطاعات من المدفوعات التي تدفعها العائلات للحصول على معلومات أو زيارات أو لإطلاق سراح أحبائهم المحتجزين في زنازين الأسد. ...

0:00 0:00
Speed:
January 11, 2021

نظام الأسد يمول أعماله القاتلة بابتزاز عائلات المعتقلين في مسالخه البشرية

نظام الأسد يمول أعماله القاتلة بابتزاز عائلات المعتقلين في مسالخه البشرية

(مترجم)

الخبر:

نشرت جمعية المعتقلين والمفقودين في سجون صيدنايا، في الرابع من كانون الأول الماضي، تقريراً كشف عن قيام نظام الأسد بابتزاز بأكثر من 100 مليون دولار حصلها من عائلات الذين تعرضوا للاختفاء القسري على يد قوات الأمن السوري. تلقى حراس سوريون ومسؤولون حكوميون وقضاة ومحامون وأفراد من الجيش وضباط مخابرات وشبيحة اقتطاعات من المدفوعات التي تدفعها العائلات للحصول على معلومات أو زيارات أو لإطلاق سراح أحبائهم المحتجزين في زنازين الأسد. واستند التقرير إلى مقابلات مع أكثر من 500 عائلة للمختفين قسرا. وأشارت إلى أن المبلغ الحقيقي الذي تم ابتزازه يمكن أن يكون 900 مليون دولار بناءً على أرقام من اعتقلهم النظام وأفرج عنهم منذ انتفاضة 2011. وكانت المدفوعات "مصدراً كبيراً للتمويل" لجهاز أمن النظام القاتل. وفقاً للصحيفة التي أعدتها ADMSP، فقد حولت الحكومة السورية "الاختفاء القسري والاعتقالات" إلى صناعة لصالح الدولة. وذكر دياب سارية، الشريك المؤسس ومنسق المنظمة: "تُظهر البيانات والمعلومات التي قدمها التقرير أن النظام في سوريا لا يمارس الاختفاء القسري ضد المعارضين السياسيين فحسب، بل يستهدف أيضاً الأفراد الذين يعتقد أن بإمكانه جمع المال من عائلاتهم". وفقاً للشبكة السورية لحقوق الإنسان، وُثِّق اختفاء 100 ألف سوري قسرياً في سوريا، ولا يزال 130 ألفاً محتجزين أو مختفين قسرياً (ذكورا وإناثا)، وقد تم اعتقال أو احتجاز حوالي 1.2 مليون في وقت ما منذ بدء الاحتجاجات في عام 2011. لطالما استخدم الأسد ووالده الإخفاء القسري للخصوم السياسيين كاستراتيجية رئيسية ومنهجية للسيطرة على المجتمع وترهيبه ومنع المعارضة ضد حكمهم الديكتاتوري.

التعليق:

إن الحجم المروع من القمع والاستبداد الذي عانى منه مسلمو سوريا في ظل هذا النظام المجرم لا ينتهي أبداً. إن نظام الاعتقال مع الاستغلال المادي سيئ السمعة للأسد، معروف بأبشع أشكال التعذيب والقتل ضد أولئك الذين يعارضون حكمه. وقد تعرض عشرات الآلاف للتعذيب وقتل الآلاف أثناء احتجازهم في سجن صيدنايا سيئ السمعة وحده الذي وصفته منظمات حقوق الإنسان الدولية بأنه "مسلخ بشري". ذكرت منظمة العفو الدولية في وقت سابق عن عمليات إعدام جماعية نُفذت بين عامي 2011 و2015 في سجن صيدنايا، حيث يتم شنق ما بين 20 إلى 50 نزيلاً في منتصف الليل بمعدل مرتين في الأسبوع. وذكر تقرير صدر عام 2019 عن الشبكة السورية لحقوق الإنسان أن هناك أكثر من 14000 حالة موثقة لأشخاص تعرضوا للتعذيب حتى الموت في مراكز الاحتجاز التابعة للنظام منذ عام 2011، لكن يُعتقد أن الأرقام الحقيقية أعلى من ذلك بكثير. كما وصفت 72 نوعاً من التعذيب الذي يتعرض له المعتقلون، بما في ذلك الحرق بالماء المغلي، وبتر أجزاء من الجسد، والاغتصاب وأشكال أخرى من الاعتداء الجنسي، وحتى السماح للأطباء المبتدئين بالتدرب على السجناء للتدريب على الجراحة. بل كانت هناك تقارير عن استخدام مثاقب كهربائية على جثث المعتقلين. وفقاً لحركة الضمير الدولية، وهي منظمة غير حكومية، تم أيضاً سجن أكثر من 13000 امرأة كسجينات سياسيات منذ بدء النزاع، مع وجود أكثر من 7000 امرأة رهن الاحتجاز حيث يتعرضن أيضاً للتعذيب والاغتصاب وأشكال أخرى من العنف الجنسي. كثيرات حملن نتيجة لهذه الأعمال الإجرامية. حسبنا الله ونعم الوكيل!

والآن نرى أن هذا النظام الوحشي كان يتربح ويمول جرائمه الوحشية من كل هذه الهمجية. لكن الأمر الأكثر إثارة للاشمئزاز هو أنه لا توجد دولة في العالم اليوم لديها الحس الأخلاقي والإرادة السياسية للرد على هذا النطاق غير المفهوم من المعاناة الإنسانية والقمع؛ لا توجد دولة لاقتلاع هذا النظام الآثم والوقوف في وجه حلفائه الشائنين. لا توجد دولة توفر ملاذاً كريماً لضحايا هذه الحرب التي دامت 10 سنوات، فتعتني بهم بالرحمة واللطف وتزودهم بجميع احتياجاتهم. ﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ [الحج: 40]

أيها المسلمون: متى ندرك أنه لن تكون هناك نهاية لهذه الهمجية والذبح لأمتنا في سوريا وفي جميع أنحاء العالم، ولا نهاية لدموع أخواتنا المسلمات اللاتي تعرضن للإهانة، ولا ملاذ حقيقي للمظلومين ولا نهاية لهذه الجرائم ضد الإنسانية؛ إلا بإقامة النظام الذي شرعه الله سبحانه وتعالى ليكون درع المسلمين وحاميهم والوصي عليهم؛ الخلافة على منهج النبوة. قال الرسول ﷺ: «وَإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ». وقد أوضح الإمام النووي رحمه الله أن الدرع كَالسِّتْرِ لما ورائه، لأن الإمام هو الساتر الذي يمنع العدو من إيذاء المسلمين؛ وذلك بقيادة الجيش وحماية الحدود وتنظيم الجهاد. في ظل الخلافة، تمكن المسلمون من هزيمة الإمبراطورية البيزنطية العظيمة وضم سوريا التي كانت تحت حكمها إلى الحكم الإسلامي في غضون سنوات قليلة. في الواقع، في معركة اليرموك عام 636م، التي كانت في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنه، تمكن الجيش الإسلامي من تحقيق نصر حاسم على الجيش البيزنطي الذي فاق عدد المقاتلين المسلمين بشكل كبير وكان أفضل تجهيزاً وأفضل تدريباً. وكان هذا بسبب نصر الله الذي أعده لمن يقاتلون طاعة لأمره. والحقيقة، هي أن الخلافة كانت قادرة على تركيع اثنتين من أكبر الإمبراطوريات في ذلك الوقت؛ الروم والفرس، على الرغم من أن الدولة الإسلامية كانت جديدة نسبياً على الساحة العالمية، وجيشها صغير مقارنة بهذه القوى العالمية. إن إقامة نظام الله هذا سيقتلع كل هؤلاء الطغاة والظالمين من بلادنا إلى الأبد، وسيحقق الأمن والشرف لأمتنا، وسيحقق الظفر لدين الله تعالى في المستقبل.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست