نظام الحصص الوظيفية والقوانين المماثلة في ظل أنظمة الحكم الوضعية مصممة للحفاظ على الفساد
نظام الحصص الوظيفية والقوانين المماثلة في ظل أنظمة الحكم الوضعية مصممة للحفاظ على الفساد

الخبر:   ألغت المحكمة العليا في بنغلادش معظم الحصص في الوظائف الحكومية التي أشعلت فتيل اشتباكات عنيفة في جميع أنحاء البلاد أسفرت عن مقتل أكثر من 100 شخص. وكان ثلث الوظائف في القطاع العام محجوزاً لأقارب قدامى المحاربين في حرب البلاد من أجل الاستقلال عن باكستان عام 1971. ويأمر حكم المحكمة العليا بأن يتم توظيف 93٪ من وظائف القطاع العام على أساس الجدارة، وترك 5٪ لأفراد أسر قدامى المحاربين في حرب "الاستقلال" في البلاد. ويتم حجز 2٪ المتبقية للأشخاص من الأقليات العرقية أو ذوي الإعاقة. (بي بي سي)

0:00 0:00
Speed:
July 29, 2024

نظام الحصص الوظيفية والقوانين المماثلة في ظل أنظمة الحكم الوضعية مصممة للحفاظ على الفساد

نظام الحصص الوظيفية والقوانين المماثلة في ظل أنظمة الحكم الوضعية

مصممة للحفاظ على الفساد

(مترجم)

الخبر:

ألغت المحكمة العليا في بنغلادش معظم الحصص في الوظائف الحكومية التي أشعلت فتيل اشتباكات عنيفة في جميع أنحاء البلاد أسفرت عن مقتل أكثر من 100 شخص. وكان ثلث الوظائف في القطاع العام محجوزاً لأقارب قدامى المحاربين في حرب البلاد من أجل الاستقلال عن باكستان عام 1971. ويأمر حكم المحكمة العليا بأن يتم توظيف 93٪ من وظائف القطاع العام على أساس الجدارة، وترك 5٪ لأفراد أسر قدامى المحاربين في حرب "الاستقلال" في البلاد. ويتم حجز 2٪ المتبقية للأشخاص من الأقليات العرقية أو ذوي الإعاقة. (بي بي سي)

التعليق:

كثفت الأنظمة في بلاد المسلمين حملاتها لقمع أي صوت يتحدى ظلمها، ولا تعد بنغلادش استثناءً. فقد اندلعت الاحتجاجات بعد 5 حزيران/يونيو 2024 عندما أمرت المحكمة العليا بإعادة العمل بحصة 30% لأحفاد الضباط الذين شاركوا في حرب الانفصال عن باكستان عام 1971. وكان نظام الحصص قائماً منذ عام 1972، وألغته حسينة في عام 2018، نتيجة لاحتجاجات الطلاب، قبل أن تعيده المحكمة في حزيران/يونيو 2024.

لقد تحولت الاحتجاجات السلمية التي بدأت في الجامعات إلى اضطرابات على مستوى البلاد. وقالت الدكتورة سامينا لوثفا، الأستاذة المساعدة لعلم الاجتماع في جامعة دكا: "لم يعد الأمر يتعلق بالطلاب، بل يبدو أن الناس من جميع مناحي الحياة انضموا إلى حركة الاحتجاج". وبدلاً من الخضوع للضغوط العامة، استخدم نظام حسينة القوة، وتعرض المتظاهرون لهجمات من نشطاء رابطة بنغلادش تشاترا، الجناح الطلابي لحزب رابطة عوامي بزعامة رئيسة الوزراء الشيخة حسينة، وهذا ما جعل الاحتجاجات عنيفة. لقد استخدمت الحكومة قوات الشرطة بوحشية وأطلقت الرصاص المطاطي وألقت قنابل الصوت لتفريق المتظاهرين، ولقي أكثر من 115 شخصاً حتفهم، منهم أكثر من 50 شخصاً قُتِلوا يوم الجمعة 19 تموز/يوليو وحده.

أما بالنسبة لنظام حصص الوظائف نفسه، فقد تم تخصيص ثلث الوظائف في القطاع العام لأقارب ضباط الجيش القدامى، وشمل معظمه مجموعات مثل أسر "المقاتلين من أجل الحرية"، حيث حصلت النساء وأولئك القادمون من المناطق المتخلفة على حصة 10% لكل منهما، مع تخصيص 5% للسكان الأصليين، و1% لذوي الإعاقة. الواقع هو أن نظام الحصص يعمل على تقليص عدد الوظائف الحكومية المفتوحة للجميع، الأمر الذي يضر بالطامحين الذين يريدون شغلها على أساس الجدارة. وقد أثار هذا النظام غضب الطلاب الذين يعانون من ارتفاع معدلات البطالة بين الشباب، حيث أصبح ما يقرب من 32 مليون شاب عاطلين عن العمل أو التعليم من بين سكان يبلغ عددهم 170 مليون نسمة. لقد أصيب الاقتصاد، الذي كان في يوم من الأيام من أسرع الاقتصادات نمواً في العالم، بالركود. وتُرجم النمو إلى وظائف لخريجي الجامعات، ويتراوح التضخم حول 10٪، وتتقلص احتياطيات الدولار. وتشير التقديرات إلى أن حوالي 18 مليون شاب بنغالي يبحثون عن عمل. ويواجه خريجو الجامعات معدلات بطالة أعلى من أقرانهم الأقل تعليماً. إن حقيقة أنظمة الحصص هذه هي أنها مطلوبة دائماً لصالح النخبة الحاكمة، خاصة عندما يصاب الاقتصاد بالركود. يتعرض حكام بنغلادش بشدة لتهم الفساد، وما زالوا يريدون إطالة حكمهم. حسينة هي ابنة الشيخ مجيب الرحمن، الأب المؤسس لبنغلادش، الذي قاد حركة "الحرية". ويعد نظام الحصص هذا واحدا من بين العديد من الأدوات التي تمكنت من خلالها من الحكم لولاية رابعة على التوالي. وترتبط الاضطرابات أيضاً بالركود في نمو الوظائف في القطاع الخاص، ما يجعل وظائف القطاع العام، مع زيادات الأجور والامتيازات المنتظمة المصاحبة لها، جذابة للغاية.

نظام الحصص هذا هو نتيجة للقومية الفاسدة التي فصلت الأخ المسلم عن أخيه على أساس البنغالية والباكستانية! لقد زرع الحكم البريطاني بذرة الانقسام هذه في البلاد الإسلامية. كما استخدم البريطانيون التكتيك الشنيع المتمثل في قمع مجتمع واحد فقط لصالح حكمهم. ونتيجة لذلك، عندما تتاح للمجتمع المحروم فرصة النهوض مرة أخرى ويجد مساحة خاصة في ظل إرث الاستعمار، فإنه يسلك أي طريق للقيام بذلك. كان سراج الدولة، حاكم البنغال، هو الذي شن المقاومة ضد شركة الهند الشرقية البريطانية. ونتيجة للخونة في صفوفه، تمكن البريطانيون من قتله وهزيمة جيشه. وبعد هذه الحادثة، لم يسمح البريطانيون للبنغاليين بشكل عام بالوصول إلى مناصب بيروقراطية أو عسكرية عليا، ما أوجد الاستياء. وبعد أن غادر البريطانيون شبه القارة، بقي النظام البريطاني وغذى الاستياء على يد عملاء الاستعمار في باكستان. وقد استغلت الأنظمة في بنغلادش هذا الاستياء بعد الانفصال عن باكستان عام 1971، على أساس العنصرية. هذا الاستياء هو الذي أدى إلى نظام الحصص، الذي استخدمته كل طبقة حاكمة في بنغلادش لحماية حكمها.

على النقيض من ذلك، فإن الإسلام لا يسمح بمثل هذه السلطات الامتيازات التقديرية والتمييزية للحاكم لمجرد إطالة حكمه. وحتى في حالة الأحكام الخاصة لتأمين أفراد معينين، فإنها تكون وفقاً لأوامر الإسلام ولمصلحة جميع المسلمين. انظر إلى الزكاة فيما يتعلق بالمؤلفة قلوبهم، فهؤلاء هم القادة أو الرؤساء أو الأشخاص المؤثرون أو الأبطال الذين لم تترسخ عقيدتهم بعد، حيث يرى الخليفة أو ولاته أنه من المناسب إعطاءهم من الزكاة لتأليف قلوبهم، وإصلاح معتقداتهم، واستخدامهم لصالح الإسلام والمسلمين أو للتأثير على مجتمعاتهم. وهذا على غرار ما أعطاه الرسول ﷺ لأبي سفيان، وعيينة بن حصن، والأقرع بن حابس، وعباس بن مرداس وغيرهم. قال عمرو بن تغلب: "أَتَى النبيَّ ﷺ مَالٌ فأعْطَى قَوْماً ومَنَعَ آخَرِينَ".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد مالك – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست