نظام المعاشات التقاعدية في تنزانيا يكشف عن السياسات الرأسمالية (مترجم)
نظام المعاشات التقاعدية في تنزانيا يكشف عن السياسات الرأسمالية (مترجم)

الخبر:   وقعت الحكومة التنزانية على قانون الضمان الاجتماعي للخدمة العامة لعام 2018، والذي أدى إلى حالة من الفوضى والإحباطات والنداءات بين العمال. وينضم القانون الجديد إلى جميع صناديق المعاشات التقاعدية في كيانين رئيسيين؛ صندوق الضمان الاجتماعي للخدمة العامة وصندوق الضمان الاجتماعي الوطني، وقد تم تقديم استحقاقات جديدة خادعة مثل فوائد الباقين على قيد الحياة واستحقاقات البطالة. إن القانون يحدد أيضاً سن التقاعد بـ60 سنة للتقاعد الإلزامي بينما 55 سنة للتقاعد الاختياري.

0:00 0:00
Speed:
December 19, 2018

نظام المعاشات التقاعدية في تنزانيا يكشف عن السياسات الرأسمالية (مترجم)

نظام المعاشات التقاعدية في تنزانيا يكشف عن السياسات الرأسمالية

(مترجم)

الخبر:

وقعت الحكومة التنزانية على قانون الضمان الاجتماعي للخدمة العامة لعام 2018، والذي أدى إلى حالة من الفوضى والإحباطات والنداءات بين العمال. وينضم القانون الجديد إلى جميع صناديق المعاشات التقاعدية في كيانين رئيسيين؛ صندوق الضمان الاجتماعي للخدمة العامة وصندوق الضمان الاجتماعي الوطني، وقد تم تقديم استحقاقات جديدة خادعة مثل فوائد الباقين على قيد الحياة واستحقاقات البطالة. إن القانون يحدد أيضاً سن التقاعد بـ60 سنة للتقاعد الإلزامي بينما 55 سنة للتقاعد الاختياري.

التعليق:

جاء دمج صناديق التقاعد في كيانين كتعليم رأسمالي أجنبي من منظمة العمل الدولية مما يشير بوضوح إلى العلاقة الاستعمارية بين الدول النامية والمنظمات الاستعمارية الرأسمالية.


علاوة على ذلك، جاءت هذه التغييرات نتيجة للحجة القائلة بأن العديد من صناديق التقاعد تفتقر إلى قدرتها على تقديم خدمات عالية الجودة. ومع ذلك فإن الواقع هو أن هذا العجز كان سببه نهب الأموال من كيانات صناديق المعاشات التقاعدية. حيث تراكمت الديون الحكومية المستحقة لصناديق التقاعد إلى 8 تريليون شلن تنزاني. (The Citizen، 2018/11/20).

وقد تضمن نظام اللوائح الجديد 25٪ فقط بدلا من دفع 50٪ دفعات مقطوعة و75٪ حزماً شهرية مما أثارغضباً أكبر ومريراً بين الموظفين وجعلهم يحملون سيفاً حاداً وراء ظهورهم. كثير من العمال أعربوا صراحة عن استيائهم لأن معظمهم، إن لم يكن جميعهم، يعتمدون على دفع مبلغ مقطوع وسحب المنافع (التي تم إبطالها الآن) من أجل البقاء بعد التقاعد أو بعد فقدان وظائفهم.

كل هذا الإذلال المستمر والصعوبات اللامحدودة لأموال الأغلبية الفقيرة تحدث في الوقت الذي توجد فيه على الأقل جميع كوادر العمال في تنزانيا نقابات العمال التي تخدع أعضاءها من أجل الدفاع عن حقوق العاملين. بهذا الصدد أعربت بعض التعليمات وبعض الأفراد البارزين عن مخاوفهم واستيائهم الجديين بشأن هذه اللوائح الخاصة. بدا أن نقابات العمال هادئة ولا تفعل ما يكفي لحماية أعضائها. هذا يكشف النقاب عن حقيقة أن معظم النقابات العمالية تتآمر مع الحكومة ضد العمال وتتصرف كعامل تبريد للموظفين.

وجاءت خطط التقاعد هذه نتيجة للنظام الاقتصادي الرأسمالي الشرير مع مفهومه للحصول على المنفعة حتى باستغلال الضعفاء والمتقاعدين. حيث لا يستفيد الموظفون في ظل الرأسمالية من رواتبهم بسبب الكثير من الاستقطاعات.

في تنزانيا، يجب على أي عامل دفع 2٪ من راتبه لنقابات العمال، و3٪ للتأمين الصحي، و9٪ (على الأقل، وبعضهم يدفع أكثر من 20٪) لضريبة الدخل، ويدفع بعضهم 15٪ للحصول على قرض التعليم العالي 5٪ من صناديق التقاعد. هذه الخصومات تجبر العامل للعيش بمنزل صغير، محاطا بالفقر على الرغم من جهوده الضخمة وتعبه.

إن هذا التنظيم القانوني والقوي لصناديق التقاعد جلب أيضا ظروفاً صعبة للموظفين في الحصول على الأموال (حتى 55 أو 60 سنة)، في حين يتم إنفاق الاستقطاع في الاستثمار في معظم الحالات على أساس الربا الذي يستفيد منه الفئة القليلة من السياسيين والأثرياء بدلاً من العمال الفقراء الذين هم المساهمون الرئيسيون.

يتمتع النظام الاقتصادي الإسلامي بنظرة واضحة للغاية بشأن الملكية وحق التصرف وتوزيع الثروة، حيث لا ينبغي التدخل في الثروة الشخصية، مثل الراتب أو الأجور، دون موافقة المالكين. الطرف الثالث مثل النقابات العمالية وتدخل صناديق التقاعد على دخل العمال ليس له مكان في الإسلام.

سيعزز النظام الاقتصادي الإسلامي في ظل دولة الخلافة جميع وسائل الملكية ويحميها، مثل العمل والميراث، والدولة التي تمنح المال للرعايا والهدايا والتبرعات، وما إلى ذلك دون التدخل بها بشكل غير قانوني. سيؤدي ذلك إلى تحسين مستويات معيشة الموظفين وسيضمن أمن الحياة حتى في الأعمار الكبيرة. وقبل كل شيء، سيكون هناك تدبير صارم ومحاكم لحماية العلاقات بين أصحاب العمل والموظفين سواء في الخدمات العامة أو في القطاعات الخاصة، حيث لن يكون هناك مجال لوجود أي شكل من أشكال النقابات العمالية. من خلال القيام بما سبق، من المؤكد أنه سيتم توزيع الثروة بالتساوي بين الرعايا، بحيث لا يتم حرمان الأغلبية من تداول الثروة. ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ﴾ [الحشر: 7].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد بيتوموا

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست