نظام أردوغان يضطهد المسلمين من أوزبيكستان (مترجم)
نظام أردوغان يضطهد المسلمين من أوزبيكستان (مترجم)

الخبر:   تحدثت وكالة الأنباء "راديو ليبرتي" في 12 آب/أغسطس عن الاعتقالات الجماعية في إسطنبول التي يتعرض لها اللاجئون والمهاجرون من آسيا الوسطى: "اعتقل نحو 140 شخصًا من آسيا الوسطى خلال الأيام القليلة الماضية في إسطنبول. ووفقًا لما أورده "راديو ليبرتي" فإن معظم المعتقلين هم من أهل أوزبيكستان، ويجري تهديد المئات منهم حاليًا بالترحيل من تركيا".

0:00 0:00
Speed:
August 27, 2016

نظام أردوغان يضطهد المسلمين من أوزبيكستان (مترجم)

نظام أردوغان يضطهد المسلمين من أوزبيكستان

(مترجم)

الخبر:

تحدثت وكالة الأنباء "راديو ليبرتي" في 12 آب/أغسطس عن الاعتقالات الجماعية في إسطنبول التي يتعرض لها اللاجئون والمهاجرون من آسيا الوسطى: "اعتقل نحو 140 شخصًا من آسيا الوسطى خلال الأيام القليلة الماضية في إسطنبول. ووفقًا لما أورده "راديو ليبرتي" فإن معظم المعتقلين هم من أهل أوزبيكستان، ويجري تهديد المئات منهم حاليًا بالترحيل من تركيا".

التعليق:

بدأت الاعتقالات في صفوف المهاجرين من آسيا الوسطى بعد فشل "محاولة انقلاب" 15 تموز/يوليو. في البداية، كان عدد المعتقلين من مسلمي روسيا وطاجيكستان وأوزبيكستان وقرغيزستان قليلًا، وسيتم ترحيلهم إلى بلدانهم. وفي وقت لاحق، في أوائل آب/أغسطس، بدأت الاعتقالات الجماعية في صفوف المهاجرين من أوزبيكستان في بلدة كاياشاخير في إسطنبول، وقد جرى اعتقال نحو 60 عائلة.

وهم الآن يقبعون في معسكر السجن في كومبكاب في إسطنبول، ولم تتحدث الدوائر الرسمية التركية عن أسباب ودوافع الاعتقال والتفتيش، ومن الصعب فعلًا الاتصال بالمعتقلين، وقد أصبح معلومًا أنهم لم يتعرضوا للضرب والتعذيب، ولم يجر معهم أي استجواب أو تحقيق، فهم ببساطة محتجزون حتى يتم فرض عقوبة معينة عليهم. أما باقي اللاجئين، فيعيشون في حالة من الخوف بسبب عدم قدرتهم على معرفة ما سيحل بهم، وهم لا يعرفون أن الاعتقالات قد توقفت عند هذا الحد أم أن عليهم الانتقال إلى مدن أخرى، ثم سيقع على كاهل هؤلاء اللاجئين عبء إيجاد بلد آخر طلبًا للقمة العيش.

لقد جرت الاعتقالات في منازلهم وأماكن عيشهم، وهذا يشير إلى أن المخابرات التركية كانت تحتفظ بمعلومات دقيقة عن الأشخاص والأماكن المستهدفة. والحقيقة هي أنه في بداية الصيف، عرضت السلطات المحلية في كاياشاخير على المهاجرين بعض المساعدات المالية، وطلبت منهم قائمة بالأشخاص لحساب المساعدة المالية. وهكذا، حصلت السلطات من اللاجئين أنفسهم على معلومات كاملة حتى تقرر مصيرهم فيما بعد.

والمسلمون المعتقلون لاجئون يخافون الله وقد اضطروا إلى ترك بيوتهم جراء الاضطهاد الذي يتعرضون له على يد نظام الطاغية كريموف الإجرامي. وعندما اشتد بطش النظام، انتقل بعضهم إلى روسيا والغرب ومصر. ولكن نظام بوتين الذي يتنافس مع نظام كريموف في الإجرام لم يعطهم أية فرصة للعيش في سلام في روسيا وبدأ بملاحقتهم، وقام باعتقالهم وترحيلهم إلى أوزبيكستان. وقد شعر اللاجئون الذين يعيشون في الغرب أيضًا بضغط الهجوم العقائدي الذي تمارسه أنظمة الكفر. وبدافع الخوف على مستقبلهم ومستقبل أطفالهم الذين قد يتعرضون لخطر التسمم بالعقائد والأفكار العلمانية، قرروا الانتقال إلى تركيا. وأما الذين عاشوا في مصر، فقد جرى اعتقالهم وترحيلهم بعد اندلاع الثورة في مصر. ومن ثم انتقلوا أيضًا إلى تركيا أملا في حياة هادئة ومتواضعة.

وهكذا، فإن اللاجئين المسلمين من أوزبيكستان، الذين كانوا يعيشون في تركيا، لجأوا إليها أملًا في أن يشكل لهم نظام أردوغان ملاذًا أخيرًا وأن يخلصهم مما كانوا يتعرضون له. حتى إنهم أثناء "محاولة الانقلاب" خرجوا إلى الشوارع ضد "المتآمرين" دعمًا لحكومة أردوغان. ولكن على الرغم من حقيقة أنهم مسلمون ولاجئون وأنصار لنظام أردوغان، إلا أنهم ما زالوا يرزحون تحت الاعتقال، ويتعرض مستقبلهم للتهديد بالترحيل إلى أوزبيكستان، ليقعوا في يد الجلاد المجرم إسلام كريموف.

نعم، إن تركيا هي أرض المسلمين، فقد مثّل هذا البلد الإسلام في العالم على مدى مئات السنين، وكان بلدًا رائدًا على مستوى العالم. وقد كانت أوروبا كلها ترتجف خوفًا من الخلفاء الأبطال، الحكام المسلمين في دولة الخلافة العثمانية. وقد كان الخوف يلاحق المستعمرين الأوروبيين حتى في أحلامهم، فقد كانت تراودهم الكوابيس باستمرار عن قيام الخلافة العثمانية بغزو بلادهم. نعم لقد حدث هذا من قبل!

أما اليوم، وبعد مضي أكثر من 90 عامًا، فقد أصبحت تركيا دولة علمانية تفصل الإسلام عن الحياة، وصار الناس يُحكمون بغير ما أنزل الله. وقد تعهد الرئيس أردوغان عند استلامه للسلطة "بالدفاع عن شرف ونزاهة الأمة التركية، والحفاظ على وجود واستقلال الدولة؛ احترام الدستور وسيادة القانون والديمقراطية، ومبادئ وإصلاحات مصطفى كمال، والمبادئ الجمهورية العلمانية"، هذا من جهة. ومن جهة أخرى، فقد زار أردوغان ضريح مؤسس تركيا الحديثة مصطفى كمال ووضع إكليلًا من الزهور على قبره، وترك رسالة في الكتاب الخاص بالضريح التذكاري "أنيتكابير" جاء فيها: "الحبيب أتاتورك! أود أن أغتنم سلطة الرئيس الثاني عشر للجمهورية وأول رئيس ينتخبه الشعب. فبعد مماتك، ضعفت العلاقة بين الرئيس والشعب، وأعتقد أن القوة التي حصلت عليها اليوم، هي الوسيلة التي يقبل بها الناس رئيسهم، وبها تهتم الحكومة بشعبها". فهو بذلك يؤكد مجددًا التزامه بالعلمانية وليس وقوفه مع الله والإسلام والمسلمين.

ونحن نرى أن هذا الالتزام مع الكفار المستعمرين يظهر بشكل واضح في سياسة أردوغان سواء داخل تركيا أو خارجها. ففي تركيا نفسها هناك اعتقالات جماعية في صفوف اللاجئين المسلمين من آسيا الوسطى. وعلاوة على ذلك، فقد سمح أردوغان للقتلة بقتل المسلمين اللاجئين والإفلات من العقاب.

وهو يوفر للكافر المستعمر الأرض لإنشاء القواعد العسكرية التي تستخدمها الطائرات في قصف المسلمين في الدول المجاورة. أما سياسة أردوغان تجاه المسلمين في سوريا فهي واضحة جدًا بعد اندلاع الحرب هناك لأكثر من 6 سنوات بين قوى الكفر والإسلام والمسلمين.

أيها المسلمون! إن محاولات إخواننا المسلمين اللاجئين الفارين من بلد لآخر أملًا في الحصول على حياة آمنة وهادئة لن تنجح أبدًا. إننا مسلمون، ولكن العالم اليوم يحكمه الشر والعنف، ولا يعيش أي بلد في العالم اليوم تحت حكم الإسلام. يقول الله سبحانه وتعالى في كتابه الكريم: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾ [آل عمران: 120]

أيها المسلمون! إن خلاصنا لا يكون إلا بالإسلام! والإسلام لا يتمثل إلا في دولة الخلافة الحقة، التي يحكمها الإمام الذي تختاره الأمة بالبيعة على الحكم بالكتاب والسنة! ومن أجل تحقيق هذا لا بد من العمل الحثيث من أجل إعادة استئناف الحياة الإسلامية على منهاج النبوة، وهذه هي طريق الخلاص الوحيد الذي تركه لنا النبي الحبيب محمد e.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إلدر خمزين

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست