نزار باييف وأردوغان يوقعان على اتفاقية ضد تصالح المسلمين
نزار باييف وأردوغان يوقعان على اتفاقية ضد تصالح المسلمين

الخبر:ذكرت وكالة أخبار Today.kz أنه في "يوم الأربعاء الثالث عشر من نيسان/أبريل وبعد مفاوضات بين الرئيس الكازاخستاني نور سلطان نزار باييف والتركي رجب طيب أردوغان جرت في اسطنبول، اتفق الزعيمان على تبني إعلان مشترك حول التصالح الإسلامي. وفي الوثيقة أكد الرئيسان على التزامهما بالمبادئ التي تهدف إلى المحافظة على السلام والأمن العالميين وتطوير علاقات الصداقة بين الدول. ويضم هنا الإعلان ثماني نقاط".

0:00 0:00
Speed:
May 24, 2016

نزار باييف وأردوغان يوقعان على اتفاقية ضد تصالح المسلمين

نزار باييف وأردوغان يوقعان على اتفاقية ضد تصالح المسلمين
(مترجم)


الخبر:
ذكرت وكالة أخبار Today.kz أنه في "يوم الأربعاء الثالث عشر من نيسان/أبريل وبعد مفاوضات بين الرئيس الكازاخستاني نور سلطان نزار باييف والتركي رجب طيب أردوغان جرت في اسطنبول، اتفق الزعيمان على تبني إعلان مشترك حول التصالح الإسلامي. وفي الوثيقة أكد الرئيسان على التزامهما بالمبادئ التي تهدف إلى المحافظة على السلام والأمن العالميين وتطوير علاقات الصداقة بين الدول. ويضم هنا الإعلان ثماني نقاط".


التعليق:


لقد أصبح أمرا طبيعيا اليوم، بالنسبة إلى حكامنا، رفع الشعارات الإسلامية لتغطية جرائمهم ضد الإسلام والمسلمين. ولكن هذه الشعارات لا تنطلي إلا على الجاهلين بدينهم. إن المسلم الذي يقرأ الإعلان يلاحظ أن جميع أساسيات هذا الإعلان تعارض الإسلام بشكل كامل، ولا يحمل أي شيء في تصالح المسلمين، كما تدعي الأطراف التي وقعت عليه.


لن أخوض في جميع النقاط الخيانية للوثيقة، ويكفي أن أقف على الفقرة الأولى التي تنص على "إننا نؤكد على المبادئ الأساسية للأمم المتحدة ومنظمة العالم الإسلامي حول حرمة انتهاك الحدود الوطنية للدول، واحترام سيادة الدول وعدم التدخل في الشؤون الداخلية للدول، وحل النزاعات والخلافات بين الدول من خلال المفاوضات السلمية".


هل من المعقول أن أردوغان ونزار باييف اللذين يعتبران نفسيهما مسلميْن ومؤمنيْن بالدين الإسلامي


- دين الله سبحانه وتعالى خالق الكون - لا يعرفان أن الأمم المتحدة هي منظمة مبنية على العلمانية التي ترفض التدخل الإلهي في حياة الناس، بل وتحارب ضد تدخل الله في العلاقات بين البشر؟!


ألا يعلم أردوغان ونزار باييف أن حكام أوروبا قد اتحدوا ضد الإسلام والمسلمين وأسسوا ما يعرف "بعصبة الأمم" التي ضمت الدول النصرانية وكان شرطًا لمن يريد الدخول فيها أن تكون دولة نصرانية، ولكن على الواقع هذه المنظمة تطبق العلمانية ومبادئها. ومن هنا كانت تصدر المبادئ العلمانية وقوانينها تحت مسمى الأمم المتحدة.


نعم، لقد ضمت الأمم المتحدة البلاد التي كانت في يوم ما تطبق أحكام الشريعة الإسلامية، ولكن هذا كان نتيجة لرغبة أمريكا في فرض هيمنتها على العالم ولإخضاع الدول الأخرى، وعلى هذا الأساس فقد وسعت الأمم المتحدة عضوية الدول فيها.


وبالسماح للدول الأخرى للانضمام لهذه المنظمة، فقد منعت أمريكا وغيرها من الدول النصرانية دخول أي قوانين غير قوانين الأمم المتحدة والتي تعتمد أصلاً على "القانون العالمي للدول النصرانية".


وتبين أن أردوغان ونزار باييف قد تخليا عن أحكام الله عز وجل والتزما بقوانين الدول النصرانية المرتكزة على العلمانية!! يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ [المائدة: 44]


بالإضافة لهذا، فإن البند الثاني والرابع من قانون الأمم المتحدة يقول "على جميع الدول الأعضاء في الأمم المتحدة الامتناع في علاقاتها الدولية عن التهديد أو استخدام العنف ضد سلامة أراضي أو الاستقلال السياسي لأي دولة، أو في أي أمر لا يتوافق مع أهداف الأمم المتحدة". هذا يعني الاعتراف بالحدود الحالية كحدود شرعية بحسب القانون الدولي ورفض أي دعاوى حدودية في الوقت الماضي أو المستقبل.


وبكلمات أخرى، وقع أردوغان ونزار باييف على وثيقة تؤكد على الالتزام بالحدود الحالية وتعهدا بحمايتها. إذا سألت أي حدود تعني؟ فإنها تعني الحدود التي رسمها - لتركيا - الكفار المستعمرون في مؤتمر لوزان! أحد أهم الوثائق لمؤتمر لوزان 1922-1923، وتم توقيعه في الرابع والعشرين من تموز/يوليو 1923 من قبل بريطانيا وفرنسا وإيطاليا واليابان واليونان ورومانيا ومملكة الصرب والكروات والسلوفانيين من جهة، وتركيا من جهة أخرى.


لقد رسمت الاتفاقية حدودًا جديدةً لتركيا وشرعنت تفسخ الخلافة العثمانية، وأمنت حدود تركيا الحديثة. هذه الاتفاقية الخيانية أقامت السلام بين تركيا والقوى الاستعمارية والتي بموجبها فقدت تركيا السيطرة على الجزيرة العربية، ومصر والسودان وطرابلس وبرقة وبلاد ما بين النهرين وفلسطين والأردن ولبنان وسوريا وجزر بحر إيجة. وقد رسمت أيضًا الحدود الكازاخية، التي ظهرت بعد استعمار آسيا الوسطى مع بداية الإمبراطورية الروسية، ووصول الحكم الشيوعي بعد ثورة تشرين الأول/أكتوبر وتأسيس القوة السوفييتية (1917-1920)، رسمت الحدود حسب حدود كل دولة من الدول الخمس في آسيا الوسطى!.


كيف لمسلم أن يكون داعمًا لحدود رسمها الكفار المستعمرون وتعتمد على قوانين وضعها الإنسان؟!. يجب على أردوغان ونزار باييف التخلي عن هذه الحدود والعمل جاهدين لوحدة كازاخستان وتركيا وغيرهما من الدول التي أقيمت بعد هدم الخلافة تحت دولة واحدة إسلامية! هذا هو التصالح الإسلامي. أما بالنسبة لحل النزاعات والخلافات بين الناس داخل الدول أو في العلاقات الخارجية بينها، فقد أمر الله عز وجل، بشكل واضح، ما الذي يجب على المسلمين اتباعه والاحتكام إليه، يقول الله عز وجل: ﴿فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا﴾ [النساء: 65]، ويقول أيضًا: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا﴾ [الأحزاب: 36]


ومن هنا فقد وقع الرئيسان على وثيقة تناقض الإسلام وتصب في مصلحة الكفار المستعمرين، الذين يستغلون الأمم المتحدة فقط لاستعمار بلداننا ويبقوا سيطرتهم على أراضينا ومحاربة إقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة! وهذا العمل منهما هو خيانة لله وللإسلام وللمسلمين ولا يمت بصلة إلى تصالح المسلمين!.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
إلدر خمزين
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إعداد وحدة الإنتاج الفني في المناطق الناطقة بالروسية
التابعة للمكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست