نظرة فاحصة على تقدم الدولة اللادينية (مترجم)
نظرة فاحصة على تقدم الدولة اللادينية (مترجم)

الخبر:   فوجئت إندونيسيا في الأسابيع القليلة الماضية بالقرار الذي اتخذته مسلمة مشهورة بخلع حجابها. وأعربت بالقول إنها فعلت هذا لأنها وجدت فضائل كثيرة غير الإسلام من خلال زياراتها لبعض الدول من أجل البرامج التليفزيونية التي تديرها. وقبل ثلاثة أشهر من خلعها للحجاب، عبرت في حسابها على الإنستغرام عن إعجابها باليابان. وبعد زيارتها لليابان التي استمرت يومين خلصت إلى أن المجتمع الياباني ملتزم بشدة بالفضائل والأخلاق والانضباط من غير وجود اعتقاد بدين سماوي محدد. وأنهت ملاحظاتها بسؤال: إذا كانت حياتك جيدة كما هي بدون دين، فلماذا إذن تسعى لله وتريد أن يكون لك دين؟

0:00 0:00
Speed:
November 20, 2017

نظرة فاحصة على تقدم الدولة اللادينية (مترجم)

نظرة فاحصة على تقدم الدولة اللادينية

(مترجم)

الخبر:

فوجئت إندونيسيا في الأسابيع القليلة الماضية بالقرار الذي اتخذته مسلمة مشهورة بخلع حجابها. وأعربت بالقول إنها فعلت هذا لأنها وجدت فضائل كثيرة غير الإسلام من خلال زياراتها لبعض الدول من أجل البرامج التليفزيونية التي تديرها. وقبل ثلاثة أشهر من خلعها للحجاب، عبرت في حسابها على الإنستغرام عن إعجابها باليابان. وبعد زيارتها لليابان التي استمرت يومين خلصت إلى أن المجتمع الياباني ملتزم بشدة بالفضائل والأخلاق والانضباط من غير وجود اعتقاد بدين سماوي محدد. وأنهت ملاحظاتها بسؤال: إذا كانت حياتك جيدة كما هي بدون دين، فلماذا إذن تسعى لله وتريد أن يكون لك دين؟

التعليق:

في الوقت الحاضر العديد من المسلمين مفتونون بالحضارة الغربية بما فيها اليابان كونها دولة شرقية رأسمالية متقدمة. فالتقدم المادي الذي حققته بعض البلدان أبهر العديد من المسلمين بمن فيهم هذه المشهورة. حيث خلصت إلى أنه إذا كان لدينا الكثير من الخير في الحياة، فلماذا نعتنق دينا؟ الاستنتاج المتسرع هذا جاء بعد زيارة قصيرة لليابان استمرت يومين فقط، وهو استنتاج خرج بالفعل من عقلية دونية بسبب أزمة الهوية!

في الواقع، إن المشكلة هي العقلية الدونية وأزمة الهوية التي يوقدها أعداء للإسلام. فضلا عن انشغالهم بنشر الإسلاموفوبيا ليشعر المسلمون بالحرج وعدم الراحة والأمان من دينهم ولتتخلى المسلمات عن الحجاب، فينتهي الحال بهم لتقديس وعبادة نظام الحياة العلماني الليبرالي. إن الحضارة اللادينية التي هي في الواقع دخيلة، ما زالت تقدَّر وتحترَم من بعض المسلمين، مع أن اليابان استعمرت هذا البلد وانتهكت سيادته ونهبت ثرواته ودنست شرف المرأة فيه.

قد يكون مقال نشر في الإندبندنت في تشرين الأول/أكتوبر الماضي مثالا لتسليط الضوء على هذه الدولة اللادينية. وكان عنوان المقال "ثماني علامات تشير إلى أن اليابان أصبحت "قنبلة ديموغرافية موقوتة""، حيث أشار إلى وجود مشكلة مزمنة في حضارة اليابان، وهي الانقراض. وخلال السنوات الخمس الماضية تم البحث في قضية القنبلة الديموغرافية الموقوتة في اليابان من قبل العديد من وسائط الإعلام الدولية. ووجد بأن التقدم التكنولوجي الذي وصلت إليه اليابان يترافق مع مشاكل مجتمعية، وانهيار الأسر وارتفاع عدد حالات الانتحار وانخفاض عدد المواليد والزواج بسبب المشاركة الكبيرة للمرأة كقوة عاملة. إن التقدم والحداثة اللذين وفرتهما الرأسمالية أديا إلى التدفق الهائل نحو فقدان الإنسانية، فالرأسمالية تجعل مجتمعاتها مهتمة بإشباع الرغبات الجسدية والملذات المادية وتتجاهل الإنسانية والقرابة والحفاظ على الجنس البشري.

لذلك، ماذا يعني التقدم العلمي والتكنولوجي والتقدم في البنية التحتية إذا انقرض الناس؟ ماذا يعني كل ذلك إذا فقدت؟ ماذا يعني كل هذا إذا اختفت البشرية؟ وهل صحيح أن التطور المادي يجعل الإنسان عبدا لهذا التطور التكنولوجي؟ إن هذا هو أساس الفشل في الحضارة العلمانية التي تقدم الوصفات المسمومة لبلاد المسلمين. يقال ذلك لأنه في خضم وفرة العلم ووسط التقدم التكنولوجي الكبير، فإن هناك الكثير من الناس الذين يفشلون في تنظيم حياتهم الخاصة ويفشلون في بناء الحضارة...

الواقع أن العالم الإسلامي يتململ لينهض من التراجع والتخلف بالإضافة إلى العديد من المشاكل الداخلية والتحديات التي تقف أمام صحوته. إن المسلم بحاجة إلى أخذ الدروس من أي شعب. ولكنه مع ذلك يجب أن يكون لديه مصفاة وهوية وشخصيتهم كمسلمين فضلا عن الالتزام القوي بدراسة أحكام الإسلام بدلا من هجرهم للإسلام واهتمامهم بدراسة الغرب اليائسة. وللأسف فإن دراسة القرآن والسنة لم تكن بجدية مثلما هي دراسة العلم من الغرب. وبالتالي لا عجب إذا أصبحوا أقل شأنا من غيرهم بسبب فهمهم السطحي للإسلام الذي هو دينهم. بل إنهم أيضا يشعرون بأن الإسلام يهددهم تماما مثل الأنظمة الغربية التي تحاول قمع الدعوة الإسلامية، واصفين حملة الدعوة بـ(المتطرفين) و(الإرهابيين) و(المتشددين). حتى وصفة (التطرف) نسخوها عن الغرب باعتبارها حلا غربيا للقضاء على أي تهديد للوطنية، اتباعا لنماذجهم من الغرب.

تذكروا أقوال العلماء: إن تراجع المسلمين هو بسبب تخليهم عن دينهم، في حين إن تقدُّم الغرب هو بسبب تركهم لدينهم. في الواقع، إن الإسلام يملك جميع الحلول والآمال لإعادة الحضارة، وشريعته الخالدة هي نعمة لهذا الكون، وحملة دعوته هم الذين يكرسون حياتهم في دراسة القرآن والذين يكافحون لإيجاد المُثُل العليا لأمة محمد r لتعود نموذجا تحتذي به البشرية جمعاء. إن عودة نظام الإسلام سيكون الدرع والعلاج الوحيد لوباء أزمة الهوية التي اجتاحت الشباب المسلم في جميع أنحاء العالم. حيث يقول الرسول r: «الإِسْلَامُ يَعْلُو وَلَا يُعْلَى عَلَيْهِ» (رواه الدارقطني).

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست