نظرة حول نهب ثروات مصر والتفريط في منابعها
نظرة حول نهب ثروات مصر والتفريط في منابعها

الخبر: قالت بلومبيرج على موقعها الأربعاء 12/03/2025م، إن مصر رفعت سعر شراء الغاز الطبيعي المستخرج حديثاً من الحقول التابعة لشركة "كايرون بتروليوم" الإنجليزية في الصحراء الغربية بنسبة 61%، بحسب مسؤول حكومي تحدث مع "الشرق". المسؤول الذي طلب عدم الكشف عن هويته أضاف أن السعر الجديد يبلغ 4.25 دولار لكل مليون وحدة حرارية بريطانية،

0:00 0:00
Speed:
March 17, 2025

نظرة حول نهب ثروات مصر والتفريط في منابعها

نظرة حول نهب ثروات مصر والتفريط في منابعها

الخبر:

قالت بلومبيرج على موقعها الأربعاء 12/03/2025م، إن مصر رفعت سعر شراء الغاز الطبيعي المستخرج حديثاً من الحقول التابعة لشركة "كايرون بتروليوم" الإنجليزية في الصحراء الغربية بنسبة 61%، بحسب مسؤول حكومي تحدث مع "الشرق". المسؤول الذي طلب عدم الكشف عن هويته أضاف أن السعر الجديد يبلغ 4.25 دولار لكل مليون وحدة حرارية بريطانية، ارتفاعاً من متوسط يبلغ 2.65 دولار في الاتفاقيات السابقة. هذه الخطوة تأتي بعد سماح الحكومة المصرية لـ"كايرون بتروليوم"، بتصدير نحو 550 ألف برميل من النفط الخام في كانون الثاني/يناير الماضي، مقابل جزء من مستحقاتها المتأخرة لدى هيئة البترول المصرية. المسؤول الحكومي كشف أن زيادة أسعار شراء الغاز من "كايرون بتروليوم" ستُطبق على 3 مناطق امتياز جديدة في الصحراء الغربية. لدى "كايرون بتروليوم" مناطق امتياز وحقول نفط في الصحراء الغربية وخليج السويس، ويبلغ إنتاجها نحو 140 ألف برميل يومياً من النفط الخام.

التعليق:

الأنظمة الحاكمة في بلاد المسلمين، وعلى رأسها النظام المصري، هي أدوات استعمارية تعمل لصالح القوى الكبرى والشركات الرأسمالية التي تنهب خيرات الأمة وتبقيها في حالة من العجز والتبعية. والأزمة الأخيرة المتعلقة بزيادة أسعار شراء الغاز من شركة كايرون بتروليوم الإنجليزية ليست إلا نموذجاً جديداً لسياسات النهب المنظم التي يمارسها النظام المصري، لصالح الشركات الأجنبية وأعوانها من رجال الأعمال الفاسدين.

أعلن النظام المصري عن رفع سعر شراء الغاز المستخرج حديثاً من الحقول التابعة لشركة كايرون بتروليوم بنسبة 61%، ليصل إلى 4.25 دولار لكل مليون وحدة حرارية بريطانية، بعد أن كان 2.65 دولار في الاتفاقيات السابقة. هذه الخطوة، التي جاءت في ظل أزمة اقتصادية خانقة يعيشها الشعب المصري، تثير تساؤلات عدة: لماذا يتم رفع الأسعار بشكل مفاجئ بعد سنوات من بيع الغاز بأسعار زهيدة؟ كيف يمكن تبرير هذه الزيادة في الوقت الذي لا يزال فيه النظام عاجزا عن تلبية الاحتياجات المحلية من الغاز؟ لماذا يستمر في تقديم الامتيازات للشركات الأجنبية ورجال الأعمال المرتبطين به، في حين تعاني البلاد من أزمة ديون خانقة؟

إن السماح لشركة كايرون بتروليوم بتصدير 550 ألف برميل من النفط الخام في كانون الثاني/يناير الماضي مقابل جزء من مستحقاتها المتأخرة، هو مثال واضح على كيفية إدارة النظام لثروات مصر لصالح الشركات الأجنبية. فبدلاً من مراجعة عقود هذه الشركات ومنعها من نهب ثروات البلاد، يمنحها المزيد من الامتيازات والتسهيلات على حساب الناس. وليس هذا بالأمر الجديد، فقد شهدنا سابقاً صفقات غامضة مثل اتفاقيات تصدير الغاز ليهود بأسعار متدنية، والتي تورط فيها رجال أعمال ومسؤولون كبار مثل حسين سالم ووزير البترول الأسبق سامح فهمي. واليوم، تستمر هذه السياسة من خلال السماح لشركات مثل "كايرون بتروليوم" بالحصول على مكاسب ضخمة، بينما تستمر مصر في استيراد الغاز المسال بأسعار مرتفعة لسد العجز المحلي.

مصر، التي كانت سابقاً مُصدّراً رئيسياً للغاز، تحولت اليوم إلى مستورد صافٍ بسبب دخول الشركات الأجنبية واستحواذها على الحقول الكبرى، ما أدى إلى نهب الثروات وتقييد الإنتاج لصالح هذه الشركات، إضافةً إلى السياسات الفاشلة التي فرضها النظام، والتي أبقت البلاد رهينة لهيمنة رأس المال الأجنبي. فوجود الشركات الأجنبية في الحقول المحلية هو السبب الرئيسي للأزمة، إذ إنها تستحوذ على الموارد وتنهب الثروات، ما يعمق مشاكل مصر الاقتصادية بدلاً من حلها.

الفجوة المتزايدة بين الإنتاج والاستهلاك، والتي ستدفع الدولة إلى استيراد 160 شحنة غاز مسال هذا العام، تعكس مدى فشل الدولة الذريع في إدارة موارد البلاد، حيث واجبها أن تنتج الثروة بنفسها وتعيد توزيعها على الناس لا أن تفرط فيها ثم تجبي أموال الناس بالباطل!

فكيف يتم منح امتيازات بهذه الضخامة لشركات وأشخاص مرتبطين بالغرب، بينما يعاني أهل مصر من أزمات معيشية طاحنة؟ أليس هذا تأكيداً على أن النظام يخدم مصالح الغرب والنخبة الصغيرة من رجال الأعمال المتحالفين معه، على حساب الناس؟

هذه الأزمة واحدة من سلسلة طويلة من الكوارث الاقتصادية التي تعاني منها الأمة تحت حكم الأنظمة العميلة والرأسمالية الجشعة التي تطبقها. والحل الجذري لهذه المشكلة هو اقتلاع هذه الأنظمة وما يتبعه من استعادة السيادة على الموارد الطبيعية وإدارتها وفق الأحكام الشرعية، بحيث تكون ملكاً للأمة لا لفئة من الفاسدين، وإلغاء الاتفاقيات الاستعمارية مع الشركات الأجنبية التي تستنزف خيرات البلاد، وذلك في ظل تطبيق النظام الاقتصادي الإسلامي، الذي يمنع احتكار الثروات ويضمن توزيعها العادل بين أفراد الرعية.

إن أزمات مصر هي مشكلات إنسانية وليست مادية، وتتعلق بها أحكام شرعية تبين كيفية التعامل معها وعلاجها على أساس الإسلام، وإن الحلول أسهل من غض الطرف لكنها تحتاج إدارة مخلصة تملك إرادة حرة تراجع كل العقود التي تبرم مع الشركات التي تحتكر أصول البلاد وتطردها لأنها في الأصل شركات استعمارية ناهبة لثروات البلاد، ثم تصوغ عهدا جديدا يقوم على تمكين الناس من ثروات البلاد وإنشاء أو استئجار شركات تقوم هي على إنتاج الثروة وتوزيعها على الناس.

كل هذا ليس ضربا من الخيال ولا مستحيل الحدوث ولا مشروعا نعرضه للتجربة قد ينجح أو يفشل، وإنما هي أحكام شرعية لازمة ملزمة للدولة والرعية، فلا يجوز للدولة أن تفرط في ثروات البلاد التي هي ملك للناس، ولا يجوز لها أن تمنعهم منها، بل يجب أن تقطع كل يد تمتد إليها، هذا ما يقدمه الإسلام ويوجب تنفيذه، إلا أنه لا يطبق بمعزل عن باقي أنظمة الإسلام بل إنه لا يطبق إلا من خلال دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، هذه الدولة التي يحمل همها والدعوة إليها حزب التحرير ويدعو أهل مصر شعبا وجيشا إلى العمل معه لإقامتها، عسى الله أن يكتب الفتح من عنده فنراها واقعا يعز الإسلام وأهله، اللهم عاجلا غير آجل.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود الليثي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست