قاع الإناء أسود، وقاعك أسود مني!
قاع الإناء أسود، وقاعك أسود مني!

  الخبر: حدثت كارثة كبيرة في حركة الهجرة المتسارعة بين فرنسا وإنجلترا. فقد توفي حوالي 30 شخصاً على متن قارب المهاجرين الذي غرق في بحر المَانْشِ. لقد مات المهاجرون، لكن البلدين، اللذين فتحا الباب أمام المآسي لعدة آلاف من المهاجرين، ينخرطان الآن في جدال أكثر إحراجاً. غرق القارب الذي كان يقل مهاجرين كانوا يحاولون العبور من فرنسا إلى إنجلترا. وأُعلن أن 31 مهاجراً على الأقل غرقوا في بحر المَانْشِ في كارثة قرب مدينة كاليه الفرنسية. وأعلن أن من بين القتلى خمس نساء وطفلين. والمأساة هي الأكثر دموية في القناة الإنجليزية منذ 2014. وبحسب موقع إخباري محلي في فرنسا، اصطدمت سفينة حاويات كبيرة بزورق المهاجرين وانقلبت.

0:00 0:00
Speed:
November 26, 2021

قاع الإناء أسود، وقاعك أسود مني!

قاع الإناء أسود، وقاعك أسود مني!


الخبر:


حدثت كارثة كبيرة في حركة الهجرة المتسارعة بين فرنسا وإنجلترا. فقد توفي حوالي 30 شخصاً على متن قارب المهاجرين الذي غرق في بحر المَانْشِ. لقد مات المهاجرون، لكن البلدين، اللذين فتحا الباب أمام المآسي لعدة آلاف من المهاجرين، ينخرطان الآن في جدال أكثر إحراجاً. غرق القارب الذي كان يقل مهاجرين كانوا يحاولون العبور من فرنسا إلى إنجلترا. وأُعلن أن 31 مهاجراً على الأقل غرقوا في بحر المَانْشِ في كارثة قرب مدينة كاليه الفرنسية. وأعلن أن من بين القتلى خمس نساء وطفلين. والمأساة هي الأكثر دموية في القناة الإنجليزية منذ 2014. وبحسب موقع إخباري محلي في فرنسا، اصطدمت سفينة حاويات كبيرة بزورق المهاجرين وانقلبت.


ولم تتأخر تصريحات الأطراف بشأن الكارثة بين فرنسا وإنجلترا. وقال رئيس الوزراء البريطاني بوريس جونسون إنه "أصيب بالرعب" لما حدث. وذكر أن بريطانيا ستبذل قصارى جهدها لوقف عصابات الاتجار بالبشر. وجاء تصريح مشابه من الرئيس الفرنسي إيمانويل ماكرون: "لن تسمح فرنسا بتحويل بحر المَانْشِ إلى مقبرة، وسيتم العثور على المسؤولين على الفور". ونشرت الصحف البريطانية عناوين الصور التي التقطت بينما كان حراس الأمن الفرنسيون يتفرجون على المهاجرين وهم يحملون القارب إلى البحر. وألقي باللوم على إدارة باريس في عناوين الصحف البريطانية "أنتم تتغاضون عن قتل العصابات" و"عار عليكم" و"لماذا لم توقفهم فرنسا؟". (تي آر خبر)

التعليق:


يشهد العالم معاملة غير إنسانية للدول المستعمرة وخاصة الولايات المتحدة ودول الاتحاد الأوروبي، على الشعوب المسلمة بشكل خاص وشعوب العالم بشكل عام. لكن المحزن أن هذه الدول المستعمرة قدمت كنماذج يحتذى بها للبشرية جمعاء من خلال الحكام الدمى الذين نصبتهم على رأس المسلمين. ومع ذلك يمكن حتى للمراجع السطحي للأحداث التاريخية أن يرى أن هذه الدول المستعمرة وخاصة إنجلترا وفرنسا فعلت وستفعل كل شيء من أجل مصالحها الخاصة بما في ذلك المذابح الوحشية. ألم تكن إنجلترا هي التي أعطت فلسطين لليهود وكشمير للهندوس؟ أليست فرنسا هي التي نفذت المجازر الوحشية في تونس والجزائر؟


أما عن أزمة المهاجرين بين إنجلترا وفرنسا: فمع الإعلان عن التحالف العسكري الجديد (AUKUS) الذي يضم المملكة المتحدة، بدأ التوتر بين فرنسا وإنجلترا يتصاعد حيث فقدت فرنسا موافقتها على بناء غواصات نووية أسترالية وتأخرت في ميزان القوى الدولي. مع إضافة أزمة قوارب الصيد كانت وصلت الأزمة بين فرنسا وإنجلترا إلى أبعاد أكثر توتراً. يبدو أن إنجلترا تريد الانتقام من فرنسا التي تهدد بمراقبة سفن الصيد عن كثب من خلال غرق قارب المهاجرين في البحر. حيث يتضح هذا بوضوح من خلال عناوين الصحف البريطانية مثل "أنتم تتغاضون عن قتل العصابات"، "عار عليكم"، "لماذا لم توقفهم فرنسا؟". ومع ذلك هل تاريخ بريطانيا تجاه الشعوب الإسلامية نظيف للغاية؟ أليست إنجلترا هي التي دمرت دولة الخلافة التي هي الحامي والمأوى والأهم أنها الدرع الواقي لكل المسلمين؟ من ناحية أخرى، أليست فرنسا هي التي استعمرت البلدان الأفريقية وسرقت ثرواتها تحت الأرض وفوق الأرض دون الاهتمام بشعوبها رغم أنها محكوم عليها بالموت من الجوع والعطش؟ لذلك، فإن صراعهم ليس بسبب المهاجرين المتوفين. على العكس من ذلك فإنهم يتسابقون لتبرئة أنفسهم لأن العالم يرى أنهم مصاصو دماء وأنهم لا يقدرون الإنسانية في أقل تقدير. إذا كانوا صادقين حقاً في دفاعهم، فلماذا لم تُسمع أصواتهم عندما ذبح عشرات الآلاف من المسلمين في سوريا؟ لماذا لم يتحدثوا عن مسلمي تركستان الشرقية عندما ذبحوا وعذبوا على يد الصين؟ لذلك فإن آخر من يتحدثون عن الإنسانية وحقوق الإنسان هم فرنسا وإنجلترا وهم كذلك رئيس عصابة تهريب البشر بأنفسهم.


لذلك أيها المسلمون: لا تنخدعوا بدفاعات المهاجرين السطحية لهؤلاء الكفار المستعمرين! لأنهم لا يهتمون إلا بتحقيق مصالحهم الخاصة وتأمين مصالحهم الخاصة. لأن هذا هو أساس الرأسمالية التي تبنوها. لذلك ليس لدينا خلاص سوى إخراج إنجلترا وفرنسا من المشهد السياسي بإقامة دولة الخلافة الراشدة التي ستتبنى مشاكل المسلمين في العالم وستراقب ظهورهم وستجعل ألف حساب للمسلمين في الميزان الدولي. لا تحسبوا بأنهم جميع! كما ترون هم أعداء لبعضهم بعضا عندما يتعلق الأمر بمصالحهم، قال تعالى: ﴿تَحْسَبُهُمْ جَمِيعاً وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست