قائد القيادة المركزية الأمريكية زار باكستان ومناطقها القبلية  لإيقاع المسلمين في فخ الاقتتال فيما بينهم
قائد القيادة المركزية الأمريكية زار باكستان ومناطقها القبلية  لإيقاع المسلمين في فخ الاقتتال فيما بينهم

 أصدرت القيادة المركزية الأمريكية بياناً صحفياً (رقم 20240509-01) في 9 أيار/مايو 2024 جاء فيه: "بين 7 و9 أيار/مايو، قام الجنرال مايكل إريك كوريلا، قائد القيادة المركزية الأمريكية، بزيارة باكستان حيث التقى بالجنرال سيد عاصم منير، رئيس أركان الجيش، وغيره من كبار قادة القوات المسلحة الباكستانية. وركزت مناقشاتهم على جهود مكافحة الإرهاب والشراكة العسكرية الدائمة بين القوات المسلحة الباكستانية والأمريكية.

0:00 0:00
Speed:
May 16, 2024

قائد القيادة المركزية الأمريكية زار باكستان ومناطقها القبلية لإيقاع المسلمين في فخ الاقتتال فيما بينهم

قائد القيادة المركزية الأمريكية زار باكستان ومناطقها القبلية

لإيقاع المسلمين في فخ الاقتتال فيما بينهم

(مترجم)

الخبر:

أصدرت القيادة المركزية الأمريكية بياناً صحفياً (رقم 20240509-01) في 9 أيار/مايو 2024 جاء فيه: "بين 7 و9 أيار/مايو، قام الجنرال مايكل إريك كوريلا، قائد القيادة المركزية الأمريكية، بزيارة باكستان حيث التقى بالجنرال سيد عاصم منير، رئيس أركان الجيش، وغيره من كبار قادة القوات المسلحة الباكستانية. وركزت مناقشاتهم على جهود مكافحة الإرهاب والشراكة العسكرية الدائمة بين القوات المسلحة الباكستانية والأمريكية. وأثناء وجوده في البلاد، سافر الجنرال كوريلا إلى عدة مواقع في مقاطعة خيبر بختونخوا، على الحدود مع أفغانستان. وهناك، التقى بقيادة الفيلق الحادي عشر الباكستاني، وفيلق الحدود، والفرقة السابعة لمناقشة عمليات مكافحة الإرهاب على طول الحدود".

التعليق:

إنّ الهدف الاستراتيجي الأمريكي في باكستان، ومناطقها القبلية، وأفغانستان، يتلخص في التدخل في إطار مكافحة الإرهاب، والحفاظ على القدرة على تشكيل سياسة حكومة طالبان من خلال الضغط، وإبقاء الجيش الباكستاني منشغلاً على الحدود الغربية، لإعطاء مودي الحرية على الحدود الشرقية. وهذا من شأنه أن يمنح أمريكا القدرة على تشكيل السياسة على الحدود الشرقية للصين وآسيا الوسطى، ما يؤثر أيضاً على روسيا، وسوف يسمح لحليف أمريكا، الهند، بمواجهة الصين، دون مواجهة باكستان.

وهكذا كانت زيارة الجنرال كوريلا إلى المناطق القبلية لتحديد علاقة باكستان الاستراتيجية مع أفغانستان والهند وأمريكا. ما هو أساس العلاقة العسكرية بين باكستان وأمريكا؟ تاريخياً، كان أساس ذلك هو سعي أمريكا إلى إقامة تحالف عسكري ضدّ روسيا السوفييتية، بينما كانت باكستان تسعى إلى إقامة علاقة عسكرية مع أمريكا لتسليح نفسها ضدّ الهند. والآن تريد أمريكا إقامة علاقة عسكرية مع باكستان على أساس التعاون في مكافحة الإرهاب كعقيدة. حيث إنه إذا لم تكن هناك عقيدة وراء العلاقة العسكرية، فإنها ستضعف مع مرور الوقت. ومن خلال عقيدة مكافحة الإرهاب هذه، تسعى أمريكا إلى إعادة تعريف علاقتها العسكرية الاستراتيجية مع باكستان، حيث يتعين على أمريكا والجيش الباكستاني أن يتعاونا لمحاربة التشدد. ولهذا السبب لا تريد أمريكا أن ينتهي القتال، فهي تريد استخدامه كذريعة لتغيير علاقتها الاستراتيجية مع باكستان. لقد تغيّرت العلاقة بين أمريكا وباكستان بالفعل خلال (الحرب على الإرهاب). والآن بعد أن انتهت، تحتاج أمريكا أن تخترع حرباً جديدة لمواصلة ذريعة العلاقات العسكرية الاستراتيجية مع باكستان.

ومن خلال هذه الرؤية الاستراتيجية الجديدة، بعد الانسحاب من أفغانستان، فإن أمريكا تريد تغيير الطريقة التي تنظر بها باكستان إلى أفغانستان، ليس باعتبارها حليفاً استراتيجياً وشقيقاً بل بوصفها عدواً. كما أنها تريد تغيير الطريقة التي تنظر بها باكستان إلى الهند، ليس كعدو بل باعتبارها صديقاً. وهي تريد تغيير الطريقة التي تنظر بها باكستان إلى أمريكا، ليس كمصدر للتسليح ضدّ الهند، بل بوصفها مصدراً للتسليح ضد المتشددين. ومن ثم فإن التعاون في مجال مكافحة الإرهاب مع باكستان يشكل في الواقع رؤية استراتيجية جديدة لمنطقة أفغانستان وباكستان. إنها إعادة ضبط، على المستوى الاستراتيجي، لعلاقة باكستان مع أمريكا والهند وأفغانستان. وهذا هو ما تعنيه مكافحة الإرهاب سياسيا.

إن حالة الاقتتال الآن راسخة في المنطقة الحدودية الباكستانية. وكل ما يتعين على أمريكا أن تفعله الآن هو الاستمرار في إشعال النار، وبالتالي إبقاء نار المعركة مشتعلة. ولكي يحدث ذلك، تشجع أمريكا الجيش الباكستاني على الهجوم بقسوة على المسلحين البشتون. ورداً على ذلك، فإنهم سوف يقاومون بصوت أعلى. وبالتالي فإن الحدود الشرقية لباكستان سوف تستمر في الاحتراق. فقط نظرة بسيطة ترينا أن الاقتتال في المنطقة الحدودية الباكستانية الأفغانية كان منذ عام 1979، أي منذ خمسة عقود حتى الآن، وقد استنزف قوتين عظميين، وسوف يتم استنزاف قوى مسلمي المنطقة، ما لم يتمّ تبني سياسة جديدة لهذه المنطقة.

إنّ الإسلام يأمر بإزالة الحدود بين باكستان وأفغانستان، ويسمح لمسلمي البشتون بحريّة التنقل في جميع أنحاء المنطقة دون أي ضوابط. كما يمكّن الإسلام المسلحين القبليين والجيش الباكستاني من إعادة بناء الثقة التي ساعدتهم على هزيمة الاتحاد السوفييتي وقبل ذلك تحرير كشمير. ومن الممكن إدارة أمن المنطقة جزئياً من خلال القبائل الحدودية، التي تحمي الحدود من المتسللين الأجانب، كما فعلت ضد السوفييت والأمريكيين. وسيكون الجيش الباكستاني بمثابة مساعد وداعم لهم في هذا الدور شبه العسكري. ويمكن للخلافة الراشدة أن تنفذ هذه الرؤية في المناطق الحدودية، من خلال توحيد المؤمنين باعتبارهم إخوة. قال الله ﷻ: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾.

قال الإمام القرطبي في التفسير: أي في الدّين والحرمة لا في النَّسَبِ، وَلِهَذَا قِيلَ أُخُوَّةُ الدِّينِ أَثْبَتُ مِنْ أُخُوَّةِ النَّسَبِ، فإن أُخُوَّة النَّسَبِ تنْقَطِع بِمُخَالَفَةِ الدِّينِ، وَأُخُوَّة الدِّينِ لَا تنْقَطِع بِمُخَالَفَةِ النَّسَبِ.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس معز – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست