قامت بالإخفاء بدرع الفرات، وبالتسميم بغصن الزيتون والآن حان وقت الضربة القاضية
قامت بالإخفاء بدرع الفرات، وبالتسميم بغصن الزيتون والآن حان وقت الضربة القاضية

تحدثت وكالة أنباء الأناضول عن قيام أهالي إدلب بمظاهرات ضد العملية التي ينوي نظام بشار الأسد وحلفاؤه إجراءها في مدينة إدلب السورية، وعن طلب المدنيين المشتركين في المظاهرات من تركيا توفير السلام في المنطقة.

0:00 0:00
Speed:
September 09, 2018

قامت بالإخفاء بدرع الفرات، وبالتسميم بغصن الزيتون والآن حان وقت الضربة القاضية

قامت بالإخفاء بدرع الفرات، وبالتسميم بغصن الزيتون

والآن حان وقت الضربة القاضية

(مترجم)

الخبر:

تحدثت وكالة أنباء الأناضول عن قيام أهالي إدلب بمظاهرات ضد العملية التي ينوي نظام بشار الأسد وحلفاؤه إجراءها في مدينة إدلب السورية، وعن طلب المدنيين المشتركين في المظاهرات من تركيا توفير السلام في المنطقة.

التعليق:

كم هو هذا الخبر مضلل وخادع! حتى العبارات التي فيه تعارض بعضها بعضاً. وهل أهالي إدلب جاهلون بنظام بشار الأسد وحلفائه، لدرجة عدم معرفة أن تركيا هي أيضا من بين حلفاء نظام الأسد؟ حلفاء نظام الأسد ليسوا روسيا وإيران فقط، بل إن تركيا التي تعمل مع روسيا وإيران هي أيضا حليفة وصديقة وفية لنظام الأسد ليس حديثا بل من البداية. غير أن وكالة أنباء الأناضول التي لم تقم بنشر أخبار نداءات الشعب السوري لتركيا طالبا من رئيسها الوفي المساعدة للتخلص من النظام المجرم الذي يقوم بالمجازر في جميع مدن وبلدات وقرى سوريا منذ آذار/مارس 2011 وحتى يومنا هذا، أصبحت اليوم تسعى للتضليل بالمظاهرات الجزئية المخطط لها، التي قامت في إدلب. وبالادعاء أن أهالي إدلب يستدعون الجنود الأتراك فإنها تسعى إلى إكساب الدور التركي القذر مشروعية، وذلك بإخفاء خيانة تركيا وخططها القذرة والأهم من ذلك إخفاء تعاونها مع أمريكا.

تم الأمر نفسه عند سقوط حلب، ولكن ليس من وكالة أنباء الأناضول فقط، بل من جميع وسائل الإعلام التركية والعالمية، فقد نشرت جميعها وجوب ترحيل أهالي حلب عند احتراقها. فتم وصف أردوغان بالبطل، حيث قام بالمبادرات من أجل ترحيل أهالي حلب، وفي النهاية قاموا بتسليم حلب للأسد والروس. الأهالي الذين رُحلوا في ذلك الوقت أرسلوا إلى إدلب. أما قبل هذا الترحيل فكانت تركيا قد شرعت في عملية درع الفرات وبذلك كانت قد فخخت الثورة السورية. غير أن ذريعة إنشاء درع الفرات كانت لمحاربة تنظيم الدولة، إلا أن درع الفرات لم تقدم الحماية لجرابلس ولا لكامل حلب ولا لأهلها. فما الذي نتوقعه من محارب بالوكالة يخدم أمريكا في جرائمها بحق الثورة السورية وقتال دولة حليفة لأمريكا، غير الخيانة والمؤامرة؟!!

عقب ذلك بدأت عملية عفرين. فقامت تركيا بإطلاق عمليات شمالي سوريا ضد محارب وكيل آخر عن أمريكا والتي هي شريكة وحليفة نظام الأسد. هذه العمليات التي أطلقت في وجه حزب العمال الكردستاني، وحزب الاتحاد الديمقراطي ووحدات حماية الشعب، ادعي بأنها تمت رغما عن أمريكا. فقامت جميع وسائل الإعلام بنشر أخبارها على هذا النحو. في هذه العمليات قامت تركيا بجذب جميع جماعات جنوب حلب وإدلب، خلفها ودخلت عفرين. فسحبت الجماعات وراء مصالح أمريكا سواء بالأموال أو بالأكاذيب. وبالتوازي مع عملية عفرين قامت بالتقاء جماعات إدلب حيث سممتهم بشكل واضح بالوعود الكاذبة. وقامت بخداعهم حيث أنشأت أبراج مراقبة على طول حدود إدلب بموجب اتفاقية خفض التصعيد. وبذلك دفنت الجماعات في صمت كذبة خفض التصعيد. وبينما جماعات الثوار على هذه الحال في إدلب، واصل النظام وروسيا مجازرهم في درعا. كما لا حاجة لتوضيح حماقة قادة الجماعات التي خدعت بأكاذيب تركيا هذه وصدقت وعودها. فالله تعالى يرى ويعلم كل شيء. وبإذن الله سيتم قريبا أمام جميع المسلمين كشف جميع القادة والشيوخ والأئمة الذين خانوا دماء الشهداء الثوار. والخلاصة أن تركيا قامت بتسميم قادة جماعات الثوار بالعملية التي أطلقت عليها اسم غصن الزيتون. حيث يوجد بينهم من هم في حالة سكر عن رؤية الخيانة التركية حتى يومنا هذا.

والآن لنتناول ما الذي تنوي تركيا فعله في إدلب في الوقت اللاحق...

لم تستطع تركيا حماية أهالي حلب بدرع الفرات، وقامت بتسميم الجماعات في إدلب بغصن الزيتون، وهي الآن تعد العدة من أجل توجيه الضربة القاضية. كل ذلك فقط وفقط من أجل خدمة السياسة الأمريكية في سوريا. فالحرب في سوريا ليست حربا بين الدول، بل هي حرب بين الحق والباطل. حيث يتمثل الباطل في أمريكا وجميع الموالين لها والمتحالفين معها، وهي النظام السوري وروسيا وإيران وتركيا والسعودية وكيان يهود والأحزاب والجماعات المحاربة في سوريا بالوكالة عن أمريكا. أما الحق فيتمثل في المحاربين والمكافحين من أجل تتويج الثورة السورية بالإسلام. إلا أن تركيا منذ بداية هذه الحرب وهي لا تقف إلى جانب الحق، بل هي في صف الباطل. كما ينبغي أن لا نغتر بكلمات واستعراض رئيس الجمهورية أردوغان ضد أمريكا، وينبغي عدم إخفاء الحقائق بشأن الضربة القاضية لتركيا من أجل حماية الثورة السورية، ولنواجههم أمام جميع المسلمين. فلو أن تركيا فعلا في حرب ضد أمريكا لما كانت تتبعها كذيلها في العراق وسوريا بل لكانت بالجهة المقابلة وضدها، أليس كذلك؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست