قانون تقرير المصير بين الجنسين وعجز العقل البشري عن التشريع
قانون تقرير المصير بين الجنسين وعجز العقل البشري عن التشريع

الخبر: ذكرت صحيفة التلغراف يوم الاثنين 21 آب/أغسطس 2023 أن ألمانيا منعت المهاجرين غير الشرعيين من تغيير جنسهم. وسيتمّ منع المهاجرين الذين ينتظرون الترحيل من تغيير جنسهم في ألمانيا وسط مخاوف من أنهم قد يحاولون القيام بذلك للتهرب من السّلطات والبقاء في البلاد. ..

0:00 0:00
Speed:
September 02, 2023

قانون تقرير المصير بين الجنسين وعجز العقل البشري عن التشريع

قانون تقرير المصير بين الجنسين وعجز العقل البشري عن التشريع

(مترجم)

الخبر:

ذكرت صحيفة التلغراف يوم الاثنين 21 آب/أغسطس 2023 أن ألمانيا منعت المهاجرين غير الشرعيين من تغيير جنسهم. وسيتمّ منع المهاجرين الذين ينتظرون الترحيل من تغيير جنسهم في ألمانيا وسط مخاوف من أنهم قد يحاولون القيام بذلك للتهرب من السّلطات والبقاء في البلاد.

التعليق:

نظراً لأن الحكومة الألمانية بصدد تعديل قوانين البلاد للسّماح للأشخاص بتغيير جنسهم في مكاتب التسجيل المحلية، فقد ظهر جدل حول ما إذا كان ينبغي السماح للمهاجرين غير الشرعيين بتغيير جنسهم أم لا. على أحد طرفي الطيف هناك الحجة القائلة بأن الجميع متساوون أمام القانون وأنّ كل فرد لديه الحق في الهوية الذاتية، في حين يمثل الطرف الآخر من الطيف أولئك الذين يدعون إلى يقظة أكثر صرامة بشأن المهاجرين وقمع الهجرة في جميع أنحاء أوروبا. كان هناك احتجاج مماثل فيما يتعلق بالقضايا الناشئة عن إعادة تحديد الجنس والهوية الجنسية حيث تتمّ مناقشة القضايا المتعلقة بالفصل بين المراحيض والساونا وحتى السّجون على نطاق واسع في الغرب.

يبرز هذا النقاش مرةً أخرى قضية أساسية تتعلق بحدود العقل البشري في التشريع. إن عدم قدرة العقل البشري على التشريع بشكل شامل هي ملاحظة متجذرة في التفاعل المعقد بين القيود الجوهرية للإدراك البشري، وعدم القدرة على التنبؤ بالظواهر المجتمعية والطبيعية، والطبيعة المتطورة للمعرفة الإنسانية وقابلية العقل البشري للتأثر بالظواهر الطبيعية المحيطة بها.

لقد تطوّر الفكر الغربي حول تحديد النوع الجنسي بشكل كبير مع مرور الوقت، متأثراً بالتطورات الثقافية والعلمية والفلسفية والسياسية في الغرب. في معظم التاريخ الغربي، ساد النموذج الثنائي للجندر، الذي يرتكز على النوع الجنسي والمعتقدات الدينية. وكان للرجال والنساء أدوار متميزة على أساس الاختلافات الطبيعية المتصورة، والتي عززتها التعاليم الدينية والهياكل المجتمعية.

مع ظهور ما يسمى بـ(العلوم الاجتماعية) في القرن العشرين، وخاصةً مع الموجة النسوية الثانية، بدأت فكرة أن أدوار الجنسين مبنية اجتماعياً، تتجذر في المجتمعات الغربية. يرى هذا المنظور أن المجتمع والثقافة يخلقان أدواراً للجنسين، وهذه الأدوار لا تحددها بالضرورة العوامل البيولوجية. مع تطور المواقف المجتمعية، خاصةً في النصف الأخير من القرن العشرين، اكتسبت فكرة أن الجنس ليس ثنائياً بشكل صارم وقوي. لقد تحدى الأفراد ثنائيو الجنس، والمتحولون جنسياً، وغير الثنائيين، وغيرهم من الأفراد المتنوعين جنسياً، بشكل متزايد الفهم التقليدي لأدوار الجنسين في الغرب. لقد أصبحت مفاهيم مثل السيولة بين الجنسين، والتي تسمح بالحركة عبر مجموعة واسعة من الهويات الجنسية، أكثر انتشارا في المجتمعات الغربية.

وفقاً للمفهوم الغربي للنوع البيولوجي، فإنه يتم تحديد الجنس من خلال أفكار الفرد، ومن خلال الإدراك الذاتي، وليس من خلال علم الأحياء. نشأت الجندرية في الأصل كجزء من الموجة النسوية الثانية. ومع ذلك، تطور التمييز بين الجنسين من دعم حقوق المرأة إلى دعم حقوق الشواذ جنسيا. وفقا للنوع الجنسي، يمكن للرجل أن يقرر أنه امرأة، على الرغم من أنه يمتلك السمات البيولوجية للرجل. يمكنه الخضوع لعملية جراحية وعلاج هرموني للانتقال إلى الجنس الذي اختاره لنفسه.

وهذه ليست المسألة الأولى التي تنكشف فيها محدودية العقل البشري في التشريع الشامل في الأمور الأخلاقية والمجتمعية المعقدة. حقوق الإجهاض أو حق المرأة في اختيار الولادة أم لا، حظر شرب الخمور، تقييد استهلاك الخمور دون سن معينة، القيادة في حالة سُكر، تعريف الزواج بأنه عقد اجتماعي بين رجل وامرأة، وغيرها الكثير كانت قضايا مماثلة في قلب الجدل السياسي والفكري في الغرب لعقود من الزمن دون إجابة واضحة.

يتخذ العقل البشري قراراته بناءً على قدراته المعرفية المحدودة، وهو دائماً متحيز بناءً على الظروف المحيطة به. كما أنّ تغير الأسس الأخلاقية والتنوع الثقافي يجعل من المستحيل على العقل البشري أن يتغلب على التحدي المتمثل في التشريع الشامل.

في الحياة، يمكننا إما أن نتصرف وفقاً لآراء البشر، الذين هم محدودون وعاجزون، أو يمكننا أن نتصرف وفقاً لما أنزله الله سبحانه وتعالى، الذي وحده له القدرة والمعرفة التي لا تشوبها شائبة، ولا حدود لها. في الإسلام، الرغبات والشهوات لا تحدّد العمل. وبدلاً من ذلك، تحدد أحكام الشريعة العلاقات بين الرجل والمرأة، فضلاً عن سلوك كل منهما وأدواره.

لا يتمّ تحديد الجنس من خلال التصور الذاتي، مع تجاهل الحقائق البيولوجية عند الولادة. وتغيير جنس الإنسان من ذكر إلى أنثى أو العكس يعتبر تغييراً لخلق الله سبحانه وتعالى وهو حرام.

وفي حالة التحول من الذكر إلى الأنثى، فهو إظهار صفات الأنوثة، أو إخفاء صفات الذكورة. لذلك، في الإسلام، يعتبر الفرد هو الجنس الذي ولد به.

ومن واجبنا الفردي والجماعي أن نرفع الصوت لفضح هذه الأفكار الشريرة ومعارضة هذه الأفعال الخبيثة، وشرح أهمية الزواج والعلاقات بين الرجل والمرأة؛ وكل ذلك على أساس وجهة نظرنا الإسلامية. دعونا نتحد ونعمل من أجل استئناف الحياة الإسلامية بإقامة الخلافة على منهاج النبوة. إن دولة الخلافة هذه هي دولة متميزة ستطبق الفكر الإسلامي النبيل بشكل شامل في جميع مجالات الحياة وتحمي المجتمع من كل الشرور.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس جنيد – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست