"قد يكون الدّم أثخنُ من الماء، لكن المال يتدفّقُ أعمق من كليهما"
"قد يكون الدّم أثخنُ من الماء، لكن المال يتدفّقُ أعمق من كليهما"

الخبر: تعهّد الرئيس الإيراني إبراهيم رئيسي ورئيس الوزراء الباكستاني شهباز شريف يوم الاثنين بتعزيز التجارة بين البلدين الجارين لزيادة حجم التجارة الثنائية إلى 10 مليارات دولار أمريكي في السنوات الخمس المقبلة. (رويترز، 22 نيسان/أبريل 2024)

0:00 0:00
Speed:
April 27, 2024

"قد يكون الدّم أثخنُ من الماء، لكن المال يتدفّقُ أعمق من كليهما"

"قد يكون الدّم أثخنُ من الماء، لكن المال يتدفّقُ أعمق من كليهما"

(مترجم)

الخبر:

تعهّد الرئيس الإيراني إبراهيم رئيسي ورئيس الوزراء الباكستاني شهباز شريف يوم الاثنين بتعزيز التجارة بين البلدين الجارين لزيادة حجم التجارة الثنائية إلى 10 مليارات دولار أمريكي في السنوات الخمس المقبلة. (رويترز، 22 نيسان/أبريل 2024)

التعليق:

إنّ سفك الدماء في فلسطين أدّى إلى تعميق انعدام ثقة الأمة الإسلامية بكل أشكال حكام المسلمين الحاليين. لقد فشلت الزيارة الأخيرة التي قام بها الرئيس الإيراني إبراهيم رئيسي إلى باكستان في إشعال أي أمل في تعزيز قوتهم بمساعدة بعضهما بعضا ضدّ عدوهم المشترك. لماذا؟ لأن عدو الأمة صديق لحكامها ويختبئ في عباءات هؤلاء الحكام الفاخرة وكلامهم المعسول. وأياً كانت التربة التي يمشون عليها، فإن آثار أقدامهم تترك آثار الدّم الفلسطيني التي ظلّوا يتجاهلونها ويدوسون عليها.

بعد إلغاء الخلافة، عانى المسلمون في جميع أنحاء العالم من وطأة حكامهم الخونة وتحملوا عارهم. وبعد وضعهم في سجون الدول القومية، قام هؤلاء الحكام بتشكيل وإيجاد أعداء لأنفسهم. وقيل للناس إن الخطر ما زال كامناً، وأنه يختبئ في زوايا بلدانهم.

"الانفصاليون"؛ من هم هؤلاء الأشخاص؟ ولماذا يمكن أن تجد مجموعة من الناس التعساء في كل بلد مسلم اختاروا حمل السلاح ضدّ دولتهم؟ الجواب هو الظلم الشديد ورفض التسهيلات للشعب الذي لا يزال يتمتع بغرائزه واحترامه لذاته ويعيش في مناطق مليئة بالموارد.

تنقسم بلوشستان بالتساوي تقريبا بين إيران وباكستان، في حين إنّ بعض مساحتها تقع أيضاً في أفغانستان. ولأكثر من قرن من الزّمان، اشتكى هؤلاء الناس من التمييز المنهجي في ظلّ حكومات مختلفة، في إيران وباكستان. وما فتئت الحكومتان تعاملان هؤلاء الناس بالطريقة نفسها التي تعلموها من أسيادهم المستعمرين. فقد فرضت طهران قيوداً على اللغة البلوشية، بل حتى على وجود أسماء بلوشية. وهؤلاء الناس لا يحصلون على وظائف حكومية، والفقر منتشر في مناطقهم، وقد تمّ إعدام المئات منهم بناءً على مزاعم واهية بالتهريب. والشيء الآخر الذي يتعارض مع هؤلاء الانفصاليين هو أنهم ينتمون إلى الطائفة السنية، بينما إيران دولة يهيمن عليها الشيعة، ومنذ الثورة الإيرانية، تمّ صنع السياسات بمساعدة رجال الدّين الشيعة.

بلوشستان هي أكبر مقاطعة في باكستان، وتشكّل حوالي 43.6 في المئة من إجمالي مساحة البلاد. وهي غنية بالموارد الطبيعية مثل الذهب والنحاس والنفط والغاز الطبيعي، ولها شريط ساحلي بطول 770 كيلومتراً، حيث يقع ميناء جوادار الاستراتيجي - وهو سمة بارزة للممرّ الاقتصادي الصيني الباكستاني. وعلى الرغم من كونها غنية بالموارد الطبيعية، ما تزال بلوشستان أفقر مقاطعة في باكستان! ورداً على ذلك، واجهت باكستان مقاومة مسلحة واحتج شعب بلوشستان على حالات الاختفاء القسري. وفي الوقت نفسه، اتهمت إيران باكستان بالسماح لمسلحين من الجماعة الانفصالية السنية (جيش العدل) بالعمل بحرية من بلوشستان وتنفيذ هجمات ضد السلطات الإيرانية. وفي 16 كانون الثاني/يناير نفذت إيران ضربة صاروخية على باكستان، ما أدى إلى مقتل طفلين وإصابة ثلاثة آخرين. ورداً على ذلك، شنت باكستان غارات جوية على مخابئ إرهابية مزعومة في إيران، وزعمت أن غاراتها أدت إلى مقتل تسعة انفصاليين بلوش على الأقل.

علق سيريل ألميدا، وهو صحفي باكستاني متمرس، على موقع إكس، ساخراً: "لم يحدث قط أن قصف بلدان بعضهما بعضاً وأعربا عن مثل هذا الدفء بينهما في غضون 48 ساعة... إنه لأمر عجيب..."! والآن في غضون ثلاثة أشهر من إطلاق صواريخ كل منهما على الآخر يدعي البلدان مستقبلا مزدهرا معاً؛ من التجارة إلى خط أنابيب الغاز! ومباشرةً بعد مغادرة رئيسي من باكستان، أبدت الولايات المتحدة استياءها وحذّرت باكستان من خطر العقوبات.

الآن، نحن بحاجة إلى إلقاء نظرة أعمق على ما يحدث هنا بالضبط. يرغب كلا الحاكمين، رئيسي وشريف، بالحصول على 15 دقيقة من الشّهرة من خلال الظهور بمظهر صارم والتظاهر بعدم الاهتمام بردّ الفعل الأمريكي. في الواقع، هذه هي أسهل طريقة يمكن أن تتقارب بها الولايات المتحدة وإيران، من خلال وضع باكستان بينهما، حيث ستحصل الولايات المتحدة على نصيب الأسد، وستحاول إيران وباكستان جمع كل ما تبصقه الولايات المتحدة، ولن يشعر هؤلاء الحكّام بالخجل من القيام بذلك. عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: «لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ».

لقد حذّرنا الله سبحانه وتعالى ونبيه محمد ﷺ من أعداء الإسلام، وأنهم لن يفوتوا أبداً فرصة لإيذاء أمّته وسيستمرون في التآمر والتخطيط والعمل ضدّ عباد الله. ﴿وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾.

لقد حذّر الله سبحانه وتعالى عباده من مخطّطات الكفّار وأنّهم لن يتوقفوا أبداً عن التخطيط ضدّهم، وسيظلّ الله سبحانه وتعالى ينصرهم برحمته. لقد أُرسل إلينا رسول الله محمد ﷺ نذيرا وأمرنا أن نكون يقظين وحذرين من كل تحرّكات عدونا، عندها فقط يمكننا أن ننقذ أنفسنا من التعرض للدغات مراراً وتكراراً. ونحن بصفتنا حملة للدعوة نحتاج إلى أن نغوص تحت سطح ما يظهر لنا ونصل إلى جوهر الأمر، ثم نرى هذا الأمر في ضوء أوامر الله تعالى، لأن العالم وسكانه جميعهم ملك له.

 يقول ابن خلدون في مقدمته: "ولن تجد لسنة الله تبديلا"، "إن الله يرث الأرض ومن عليها".

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إخلاق جيهان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست