قضية فلسطين بين الحلول السياسية والحل الجذري
قضية فلسطين بين الحلول السياسية والحل الجذري

الخبر:   نقل موقع النشرة الدولية الأحد 16 شباط/فبراير 2025م، تأكيد الرئيس المصري لرئيس المؤتمر اليهودي العالمي رونالد لاودر الذي يزور القاهرة، أن "إقامة دولة فلسطينية هي الضمانة الوحيدة لسلام دائم في الشرق الاوسط"، وشدد على "أهمية البدء في إعادة إعمار قطاع غزة، مع ضرورة عدم تهجير سكانه من أراضيهم"، مشيرا إلى أن "مصر تعد خطة متكاملة في هذا الشأن". وتجهد الدول العربية حاليا لإيجاد بديل عن الخطة التي طرحها رئيس أمريكا ترامب وتقضي بسيطرة أمريكا على قطاع غزة تمهيدا لجعله "ريفيرا الشرق الأوسط".

0:00 0:00
Speed:
February 17, 2025

قضية فلسطين بين الحلول السياسية والحل الجذري

قضية فلسطين بين الحلول السياسية والحل الجذري

الخبر:

نقل موقع النشرة الدولية الأحد 16 شباط/فبراير 2025م، تأكيد الرئيس المصري لرئيس المؤتمر اليهودي العالمي رونالد لاودر الذي يزور القاهرة، أن "إقامة دولة فلسطينية هي الضمانة الوحيدة لسلام دائم في الشرق الاوسط"، وشدد على "أهمية البدء في إعادة إعمار قطاع غزة، مع ضرورة عدم تهجير سكانه من أراضيهم"، مشيرا إلى أن "مصر تعد خطة متكاملة في هذا الشأن". وتجهد الدول العربية حاليا لإيجاد بديل عن الخطة التي طرحها رئيس أمريكا ترامب وتقضي بسيطرة أمريكا على قطاع غزة تمهيدا لجعله "ريفيرا الشرق الأوسط".

التعليق:

استمرارا لمسلسل الخداع السياسي الذي يمارس على الأمة لصرفها عن الحل الحقيقي لقضية فلسطين، تأتي فكرة إقامة دولة فلسطينية، المخدر السياسي الذي يُسوّق منذ عقود، بينما يتمدد الاحتلال، ويرسّخ الاستعمار الغربي نفوذه في المنطقة. فهل حقاً يمكن أن يكون حل الدولتين ضمانة للسلام؟ وهل إعادة إعمار غزة تعني تحريرها؟ وهل ترفض الأنظمة العربية التهجير لأنها حريصة على فلسطين أم لأن مصالحها مرتبطة بتوازنات القوى الغربية؟

إن طرح حل الدولتين باعتباره السبيل الوحيد للسلام هو استكمال لمؤامرات الغرب التي بدأت منذ اتفاقية سايكس بيكو، وترسخت عبر قرارات الأمم المتحدة، واتفاقية أوسلو، وخريطة الطريق، وغيرها من المؤامرات السياسية التي لم تؤدِّ إلا إلى تثبيت كيان يهود ومنحه شرعية زائفة.

في عام 1947، قسّمت الأمم المتحدة فلسطين إلى دولتين؛ واحدة لليهود والأخرى للعرب، ومع ذلك، لم يلتزم الاحتلال بالحدود المرسومة واحتل 78% من فلسطين. وفي عام 1967، احتل كيان يهود الضفة الغربية وقطاع غزة، ومنذ ذلك الحين، لم تثمر المفاوضات عن أي استرجاع حقيقي للأراضي المحتلة. وفي 1993، وُقّعت اتفاقية أوسلو التي قنّنت الاحتلال بدلاً من إنهائه، وأعطت السلطة الفلسطينية صلاحيات محدودة دون سيادة حقيقية، بينما توسعت المستوطنات بشكل غير مسبوق. واليوم، ومع استمرار الاحتلال والاعتداءات، لا يزال الطرح نفسه يُسوق على أنه الحل النهائي، في حين إن الواقع يُثبت أنه خدعة سياسية لتصفية القضية الفلسطينية.

إن أي كيان فلسطيني يتم طرحه اليوم سيكون منزوع السلاح، فاقداً للسيادة، خاضعاً للاتفاقيات الأمنية مع كيان يهود، أي مجرد كيان وظيفي يعمل على ضبط الفلسطينيين نيابة عن الاحتلال. والاحتلال لا يلتزم بأي اتفاقية، ولن يقبل بدولة فلسطينية حقيقية. حتى في ظل الحديث عن الدولة الفلسطينية، يستمر بناء المستوطنات والتهويد وهدم منازل الفلسطينيين، فالاحتلال لا يسعى إلى سلام، بل إلى تكريس وتثبيت وجوده.

ثم يتحدث السيسي عن إعادة إعمار غزة، وهو طرح يبدو في ظاهره إنسانياً، لكنه في جوهره يُستخدم كوسيلة لتكريس الاحتلال وتخفيف الاحتقان. فالإعمار في ظل الاحتلال لا يعني التحرير، بل يعني إبقاء الفلسطينيين في حالة دائمة من الضعف والارتهان للمنح والمساعدات الدولية. فمنذ سنوات، يدور الحديث عن إعادة إعمار غزة، ولكن قصف يهود المتكرر يُعمق الدمار، في ظل غياب أي قوة تحمي أهل الأرض المباركة منهم. ولو كانت هناك جدية في حل مشكلة غزة، فلماذا لا تتحرك الجيوش لتحريرها بدلاً من الاكتفاء بإصلاح ما يدمّره الاحتلال؟!

إن الأنظمة العربية ترفض التهجير ليس لأنها حريصة على فلسطين، بل لأنها لا تريد أن تتحمل تبعات هذا المخطط، ولأنها تعرف أن تهجير الفلسطينيين لن يؤدي إلى إنهاء القضية، بل إلى تفجير أزمات جديدة في المنطقة. وسبق أن استضافت ملايين اللاجئين الفلسطينيين ولم يتم منحهم حقوقاً حقيقية، بل بقيت قضيتهم معلقة، ما يُشير إلى أن الموقف الحالي ليس مبدئياً بل براغماتياً يخدم المصالح السياسية للأنظمة وسادتهم في الغرب.

إن فلسطين ليست قضية وطنية أو قومية، بل هي أرض إسلامية احتلها الكفار، وواجب الأمة تحريرها من يهود كما حررها صلاح الدين الأيوبي من الصليبيين. قال تعالى: ﴿وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾، والأمة تملك أكثر من 13 مليون جندي، لكنها لا تتحرك بسبب الأنظمة العميلة التي تحرس الاحتلال بدلاً من قتاله. ولم تُحرر فلسطين سابقا بالمفاوضات ولا بالحلول الدبلوماسية، بل بالجهاد، كما حررها صلاح الدين وكما فتحها الخليفة عمر بن الخطاب، فالجهاد لتحرير فلسطين واجب حتى استعادتها.

إن تصريحات السيسي حول حل الدولتين، وإعادة إعمار غزة ليست سوى إعادة تدوير للأوهام السياسية التي لم تحقق أي تقدم في القضية الفلسطينية منذ عقود. وإن الحل الحقيقي لفلسطين ليس في إقامة دويلة هزيلة تحت الاحتلال، ولا في مشاريع إعادة الإعمار التي تُبقي الاحتلال قائماً، بل هو في تحريرها كاملة واقتلاع هذا الكيان المسخ وهو أسهل من غض الطرف، ولكنه لا يكون إلا بتحرك جيوش الأمة.

يا أجناد الكنانة: إنكم مسؤولون أمام ربكم جل وعلا عن كل ما أزهق من أرواح أو أريق من دماء، والله عليم بما فعلتم وتفعلون وما أصاب إخوانكم على يد يهود بينما تقفون موقف المتفرج، وسيتعلق في رقابكم أهل الأرض المباركة أمام الله، بعد أن خذلتموهم وتركتموهم وحدهم وقد أوجب الله عليكم نصرتهم وتحرير أرضهم وضمان أمنهم، فجهزوا جوابكم فالأمر جد لا هزل، وإنها جنة أو نار، نعيم أو جحيم فاختاروا لأنفسكم، أو سارعوا إلى اقتلاع الكيان الغاصب، وقبله كل ما يمنعكم من ذلك ويشارك في التآمر على أهلنا هناك، بدءا بنظام العمالة الذي يحكمكم، فاقتلاعه واجبكم ونصرة المخلصين العاملين لتطبيق الإسلام واجبكم، فقوموا بما أوجب الله عليكم عسى الله أن يكتب الفتح بكم والنصر على أيديكم فتكونوا من المفلحين.

﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللهُ مَن يَنصُرُهُ إنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ * الَّذِينَ إن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْـمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْـمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الأُمُورِ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود الليثي

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست