قمة الأمن النووي الأخيرة لأوباما (مترجم)
قمة الأمن النووي الأخيرة لأوباما (مترجم)

الخبر:   اجتمع ممثلون عن 56 دولة ومنظمة في واشنطن يوم الخميس لحضور قمة الأمن النووي التي استمرت لمدة يومين. وتهدف القمة إلى "تعزيز بنيان الأمن النووي" وهي القمة الرابعة والأخيرة للرئيس باراك أوباما.

0:00 0:00
Speed:
April 04, 2016

قمة الأمن النووي الأخيرة لأوباما (مترجم)

قمة الأمن النووي الأخيرة لأوباما

(مترجم)

الخبر:

اجتمع ممثلون عن 56 دولة ومنظمة في واشنطن يوم الخميس لحضور قمة الأمن النووي التي استمرت لمدة يومين. وتهدف القمة إلى "تعزيز بنيان الأمن النووي" وهي القمة الرابعة والأخيرة للرئيس باراك أوباما.

وكان أوباما قد كتب في افتتاحية واشنطن بوست نشرت الأربعاء "سوف أرحب يوم الخميس في واشنطن، بأكثر من 50 من قادة العالم إلى قمة الأمن النووي الرابعة للعمل على ركيزة أساسية من جدول أعمال براغ وهي: منع الإرهابيين من الحصول على الأسلحة النووية واستخدامها". "سنقوم بمراجعة التقدم الذي أحرزناه، مثل النجاح في تخليص أكثر من اثني عشر بلدا من اليورانيوم عالي التخصيب والبلوتونيوم. وستقوم دول، بما في ذلك الولايات المتحدة، بالتعهد بالتزامات جديدة، وسنواصل تعزيز المعاهدات والمؤسسات الدولية التي تدعم الأمن النووي". وتأتي القمة وسط مخاوف دائمة بشأن أمن المواد النووية في المنشآت ذات المخاطر العالية، مثل تلك التي تقع في باكستان، والخشية من أن تنظيم الدولة الإسلامية، الذي صعد هجومه في أوروبا، قد يجد سبلا لتطوير "قنابل قذرة" مشعة.

التعليق:

منذ عقود، كان مجرد وجود أسلحة نووية قد أدى إلى تفجير صراع أيديولوجي عالمي، والذي تم تمريره كسباق للتسلح.

لقد أصبحت دول مدينة لحيازتها الأسلحة النووية، عن طريق فرض الضرائب على الرعايا وإنفاق ثروة البلاد في تهديد تمت صناعته والذي تم تحويله من الأيديولوجية الشيوعية، إلى أيديولوجية أخرى؛ هي الإسلام.

وقد وضعت روايات معقدة حول القيم والتعصب والحريات والسيطرة على العالم على مدى العقود القليلة الماضية لتهيئة المجتمعات نحو عدم الثقة غير العقلانية بالإسلام والتمسك الأعمى بالقيم الليبرالية العلمانية. مما يسمح بالتعاون التام بين صناعة السلاح في كل بلد وسياستها الخارجية.

إن فكرة التوحيد ضد الإرهاب النووي عملت كستار للفظائع الحقيقية التي يقوم بها هؤلاء القادة المعنيون. ويمكن القول إن التركيز على النشاط النووي ونزع السلاح أو انتشاره هو إلهاء عن الواقع.

ذلك الواقع الذي بموجبه يتضمن ما يسمى تضليلا "الأسلحة التقليدية" القنابل القذرة، المشعة والمدمرة لجميع أشكال الحياة، والتي تتلف الحمض النووي مسببة تشوهات، وقد تم استخدامها في أفغانستان. إن الأسلحة الكيميائية مثل البلوتونيوم والفوسفور الأبيض وغاز الخردل وغاز السارين، والكلور، والتي تم تصنيعها خصيصا لحرق وتعذيب وإتلاف جسم الإنسان، قد استخدمت على نطاق واسع في سوريا والعراق وغزة. وقد استخدم اليورانيوم المنضب من قبل الولايات المتحدة في العراق مرات لا تحصى في العقد الماضي مما تسبب في تشوهات جنينية لم نعهدها من قبل في مهنة الطب. ولا يمكن أن يكون أي نقاش حول الأسلحة كاملا من دون الإشارة إلى (الدايم الإسرائيلي) (وهو مادة متفجرة معدنية خاملة كثيفة)، الذي طوره مؤخرا الجيش الأمريكي لخلق انفجار قوي وفتاك على مساحة صغيرة. وقد تم استخدام الدايم على نطاق واسع في عدوان كيان يهود على غزة في عامي 2012 و 2014. وذكر البعض أن دولة يهود قد حصلت على الضوء الأخضر من الجيش الأمريكي للتعامل مع غزة كحقل اختبار. "لقد شهدنا استخدام غزة كمختبر لاختبار ما أسميه الأسلحة من الجحيم"، كما قال ديفيد هالبين، وهو جراح بريطاني متقاعد ومتخصص في الصدمات الذي زار غزة عدة مرات للتحقيق في الإصابات غير العادية التي يعاني منها سكان قطاع غزة.

لقد أصبحت القنابل المتفجرة أمراً عادياً في المناطق المدنية، كما هو استخدام الطائرات بدون طيار على مناطق واسعة من الأمة. وحتى الأسلحة الأخرى مثل الاغتصاب والبهيمية، المفضلة خاصة للجيش الفرنسي والولايات المتحدة في البوسنة ومؤخرا في جمهورية أفريقيا الوسطى لا يمكن تجاهلها عند دراسة موقف أوباما المنافق نحو الاستقرار وما يسمى السلام.

إن الحقيقة غير المعلنة في قمة أوباما هي أن الدول الرأسمالية بقيادة الولايات المتحدة وكيان يهود قد خلقت عالما حيث الخوف والذعر، ومكّنت بعض الحكومات من نهب فعال للثروة بينها، وتغذية الشركات والصناعات النخبة التابعة لها لدعم النمو الاقتصادي في دولها، تحت ستار الإرهاب العالمي والحركة الإسلامية.

في الواقع، إن التهديد النووي العالمي الذي يتم تغذيتنا به، غير موجود نظرا لأن القوى التي تستخدم أسلحة الدمار الشامل هي التي تملكه؛ وهي الحكومات الغربية والدول العميلة لها. وإن تظاهر أوباما بأن الجماعات الإرهابية أو الدول المارقة تكسب السيطرة يثبت فقط أن الفكرة قد تم تضخيمها حرفيا لخدمة مصالح الحلفاء في الشرق الأوسط، والمنطقة الأفغانية - الباكستانية ومناطق الشرق الأوسط وشمال أفريقيا. إن الحقائق الجذرية تتحدث عن نفسها، والبلاد الإسلامية هي الضحية الوحيدة لهذه الأسلحة الرهيبة. وعند بروز أي رغبة في العيش بالإسلام، فإن هذه الأسلحة تخدم الغرب الاستعماري والأنظمة العميلة له بشكل جيد للغاية، في سحق المعارضة السياسية، وخلق الاضطرابات الطائفية وإجبار الحركة الجماعية للاجئين.

لقد علمنا القرآن أن نميز بين الحق والباطل، ولذا فإننا نتطلع إلى الإسلام والعودة الحتمية للخلافة على منهاج النبوة لأمننا، وعدم وضع أي ثقة أو ولاء للخطط الطاغوتية غير الشرعية.

﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مليحة حسن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست