قمة الناتو واجتماع أردوغان وبايدن
قمة الناتو واجتماع أردوغان وبايدن

الخبر:   بعد قمة حلف الناتو، استخدم الرئيس أردوغان التصريحات التالية في خطابه: "إن الوضع الذي يواجهه العالم أظهر أهمية روح التحالف والتضامن التي بني عليها حلف الناتو. وقد ازداد دور حلف الناتو ومسؤوليته في الحفاظ على الاستقرار العالمي. وينبغي على الدول الأعضاء الالتزام بالمبادئ التأسيسية وتعزيز الحلف. وينبغي أن يضطلع الحلف بدور نشط حيثما تكون هناك حاجة إلى المظلة الأمنية للناتو، من البحر الأبيض المتوسط إلى البحر الأسود، ومن أوروبا إلى آسيا. إنها حقبة تقاسم العبء، وليس التهرب من المسؤوليات. ينبغي أن يضطلع حلف الناتو بمبادرات أكثر فعالية، لا سيما في مواجهة التحديات العالمية" (الموقع الرسمي لرئاسة مديرية الاتصالات في جمهورية تركيا).

0:00 0:00
Speed:
July 05, 2021

قمة الناتو واجتماع أردوغان وبايدن

قمة الناتو واجتماع أردوغان وبايدن

(مترجم)

الخبر:

بعد قمة حلف الناتو، استخدم الرئيس أردوغان التصريحات التالية في خطابه: "إن الوضع الذي يواجهه العالم أظهر أهمية روح التحالف والتضامن التي بني عليها حلف الناتو. وقد ازداد دور حلف الناتو ومسؤوليته في الحفاظ على الاستقرار العالمي. وينبغي على الدول الأعضاء الالتزام بالمبادئ التأسيسية وتعزيز الحلف. وينبغي أن يضطلع الحلف بدور نشط حيثما تكون هناك حاجة إلى المظلة الأمنية للناتو، من البحر الأبيض المتوسط إلى البحر الأسود، ومن أوروبا إلى آسيا. إنها حقبة تقاسم العبء، وليس التهرب من المسؤوليات. ينبغي أن يضطلع حلف الناتو بمبادرات أكثر فعالية، لا سيما في مواجهة التحديات العالمية" (الموقع الرسمي لرئاسة مديرية الاتصالات في جمهورية تركيا).

التعليق:

لقد حظيت قمة حلف الناتو التي عقدت في حزيران/يونيو الماضي واجتماع أردوغان وبايدن بسبب هذه القمة، بتغطية واسعة النطاق في وسائل الإعلام التركية. وظلت وسائل الإعلام تقول إن الاجتماع بين أردوغان وبايدن، الذي سيعقد في 14 حزيران/يونيو، مهم، وأن اجتماع بايدن مع أردوغان بسبب هذه القمة هو نجاح كبير. ولأن بايدن لم يلتق قط بأردوغان وجها لوجه منذ اليوم الذي تولى فيه منصبه، فقد أجرى مكالمة هاتفية فقط في 23 نيسان/أبريل (قبل يوم واحد من الذكرى السنوية لما يسمى بأحداث الإبادة الجماعية الأرمنية)، قال فيها إنه سيصف أحداث عام 1915 بأنها إبادة جماعية وأنهم سيعقدون اجتماعا ثنائيا في قمة حلف الناتو. (دويتشه فيليه التركية) وبالنظر إلى تاريخ 23 نيسان/أبريل، عندما أجرى بايدن مكالمة هاتفية مع أردوغان، يُرى أن الغرض الرئيسي من هذه المكالمة يتعلق بالقضية الأرمنية التي سيقولها في البيان الصحفي في اليوم التالي. وفيما يتعلق بالاجتماع بين أردوغان وبايدن في 14 حزيران/يونيو، نود أن نقول ما يلي:

  1. في المؤتمر الصحفي بعد لقائه بايدن، انتقد أردوغان علاقات أمريكا مع وحدات حماية الشعب/ حزب الاتحاد الديمقراطي بقوله: "للأسف، لا يزال الفهم المشوه لتصنيف "الإرهابيين الجيدين" و"الإرهابيين السيئين" بشأن قضية الإرهاب قائماً". ومع ذلك، خلال الخطاب نفسه، قال بفخر إنهم طهروا شمال سوريا من إرهاب تنظيم الدولة وقال: "قمنا بترحيل ما يقرب من 9 آلاف مقاتل أجنبي". في الواقع، لا يمكن أن يكون هناك نقص بصيرة أكثر من استخدام الشخص جملتين متناقضتين معاً. لأنه في حين يشكو أردوغان من منظمة وحدات حماية الشعب/ حزب الاتحاد الديمقراطي، التي تدعمها أمريكا، والتي تهيمن تماما على شمال سوريا وتتلقى عشرات الآلاف من حمولات الشاحنات من الأسلحة منها، فإنه يعترف أيضا بأنه بتطهير شمال سوريا من تنظيم الدولة، سلم هذا المكان إلى منظمة وحدات حماية الشعب/ حزب الاتحاد الديمقراطي على طبق من فضة. في الواقع، يحاول أردوغان خداع شعبه بهذه الكلمات. ومع ذلك، عندما بدأت أحداث كوباني، سمح أردوغان للبيشمركة بالعبور إلى كوباني عبر تركيا ومهد الطريق لهم لمحاربة تنظيم الدولة، وضغط على أعضاء حزب العمال الكردستاني في تركيا لمغادرة تركيا بإلقاء أسلحتهم، وأجبر جزءا كبيرا منهم على العبور إلى سوريا والمشاركة في تنظيم وحدات حماية الشعب/ حزب الاتحاد الديمقراطي.
  2. حسب الأخبار في وسائل الإعلام، بما أن لقاء أردوغان - بايدن مهم، أتساءل عما إذا كان أردوغان قد تمكن من تحقيق نتيجة لصالح تركيا في أي قضية تسببت في أزمات بين الولايات المتحدة وتركيا في هذا الاجتماع؟ في هذا الاجتماع؛ لم تتم مناقشة أي من القضايا مثل مقاتلات إس400 وإف 35 وتسليم فيتو وقضية بنك هالك وإعلان بايدن عن الإبادة الجماعية للأرمن، ولم يتم الحصول على نتائج لصالح تركيا بشأن هذه القضايا. علاوة على ذلك، عندما سأل صحفي أردوغان في المؤتمر الصحفي عما إذا كان يتحدث عن القضية الأرمنية، أجاب: "الحمد لله، لم يتم طرحها على جدول الأعمال". فيما يتعلق بمسألة إس400، أعيد الخبراء العسكريون الروس الذين كانوا في تركيا إلى روسيا في إطار تنفيذ الأوامر من الولايات المتحدة قبل اجتماع أردوغان وبايدن. في الواقع، بعد عودته إلى تركيا، في خطابه في "منتدى أنطاليا الدبلوماسي 2021"، قال أردوغان إنه ذكّر بايدن بهذه القضايا في لقائه مع بايدن، ولم يرد بايدن.
  3. من ناحية أخرى، في التصريحات التي وردت في خطاب أردوغان بمناسبة قمة الناتو، صرح بوضوح أنه يحمي مصالح الغرب، ويقول إن مهمة تأسيس الناتو يجب أن تؤخذ على محمل الجد ويجب على الجميع تحمل المسؤوليات. بعبارة أخرى، كرر أردوغان مجدداً أنه يبذل قصارى جهده من أجل مصلحة الغرب، وخاصة أمريكا، وبعبارة "اتخذنا قرارات لتعزيز الأبعاد السياسية والعسكرية لحلف الناتو"، وكرر كلامه أمام أعضاء حلف الناتو.

وأخيرا، لم يناقش أي شيء يتعلق بمصالح تركيا في قمة حلف الناتو وفي اجتماع أردوغان وبايدن بمناسبة هذه القمة. بل على العكس من ذلك، نوقشت مصالح الدول الاستعمارية، ولا سيما أمريكا. لقد تم الوفاء بمطالب أمريكا. تستخدم أمريكا، الدولة القوية في العالم، تركيا في سياستها الخارجية كشرط للحرب بالوكالة. وفي حين تسحب جنودها من أفغانستان، فإنها تترك مكانها لتركيا لحماية مصالحها. إذا كانت أمريكا عدونا، كما يقول أردوغان وشركاؤه، فلماذا يتعاونون معها في أفغانستان وسوريا وليبيا وقضية أوكرانيا وحلف الناتو وأفريقيا وفي العديد من المجالات الأخرى؟ ومع ذلك، لا ينبغي لهم أن ينسوا أبدا أن الأمة الإسلامية تعمل بكل قوتها لإقامة دولة الخلافة الراشدة، التي ستكشف عن الوجوه الحقيقية للحكام مثل أردوغان، الذين يكذبون باستمرار على شعبهم، وإن النصر قريب بإذن الله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد حنفي يغمور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست