قمة دول آسيا الوسطى وأمريكا (5+1) في نيويورك
قمة دول آسيا الوسطى وأمريكا (5+1) في نيويورك

الخبر: شارك رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف في القمة الأولى لقادة دول آسيا الوسطى والولايات المتحدة (5+1) يوم 19 أيلول/سبتمبر في إطار زيارته لنيويورك.

0:00 0:00
Speed:
October 06, 2023

قمة دول آسيا الوسطى وأمريكا (5+1) في نيويورك

قمة دول آسيا الوسطى وأمريكا (5+1) في نيويورك

الخبر:

شارك رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف في القمة الأولى لقادة دول آسيا الوسطى والولايات المتحدة (5+1) يوم 19 أيلول/سبتمبر في إطار زيارته لنيويورك.

كما حضر التدبير رئيس أمريكا بايدن ورئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف ورئيس قرغيزستان صدر جباروف ورئيس طاجيكستان إمام علي رحمون ورئيس تركمانستان سردار بيردي محمدوف.

ووفقا لجدول أعمال الاجتماع تمت مناقشة آفاق توسيع الشراكة التجارية والاقتصادية والتنمية الخضراء وضمان أمن الطاقة وإدخال مصادر الطاقة المتجددة والأمن الإقليمي والتعاون في مكافحة الإرهاب والجريمة العابرة للحدود.

التعليق:

تؤكد الصحافة أن الحدث الكبير كان لقاء قادة الدول الواقعة تحت نفوذ روسيا مع الرئيس الأمريكي. السكرتير الصحفي للرئيس الروسي دميتري بيسكوف ردا على سؤال الصحفيين: "هل تمت مراقبة اللقاء؟" قال: "الدول الآسيوية لها علاقاتها الخاصة مع الولايات المتحدة ولذلك من حقها عقد مثل هذه اللقاءات". ووفقا لبيسكوف فإن الشيء الرئيسي بالنسبة لروسيا هو مواصلة الحوار مع هذه الدول التي تعتبر مهمة بالنسبة للها. (صحيفة رو، 22 أيلول/سبتمبر 2023). وهذا يعني أن روسيا تفهم بشكل صحيح قيام دول المنطقة بإقامة علاقات ثنائية مع أمريكا ولكنها تصر على أن تظل هذه الدول وفية للاتفاقات المبرمة معها.

وفي حين إن روسيا التي أصبحت هدفاً للضغوط السياسية والعقوبات الاقتصادية الغربية تخسر فرصها في آسيا الوسطى فإن الصين المنافس الأكبر لأمريكا في هذه المنطقة تحاول أن تأخذ مكانها. لذلك ومن أجل عرقلة طموحات الصين الإقليمية والحد من نفوذ روسيا تولي أمريكا المزيد من الاهتمام لآسيا الوسطى. فقد أظهرت زيارة أنتوني بلينكن إلى آسيا الوسطى والتي جاءت بعد أقل من أسبوع من زيارة الرئيس الأمريكي لأوكرانيا في 20 شباط/فبراير من هذا العام أن أمريكا تريد بسط نفوذها في المنطقة. وهذه المنطقة المتاخمة لأفغانستان والتي تعتبرها أمريكا مهمة وهي محاطة بروسيا والصين وإيران والهند، ما يعني أنها ستصبح ميدانا لتنفيذ مشاريع كبيرة لأمريكا، لأن آسيا الوسطى تجتذب اهتمام أمريكا ليس فقط بسبب أهميتها الجيوسياسية بل أيضاً بسبب ثروتها الهائلة وفرصها الكبيرة، خاصة وأن أهلها مسلمون.

وفي بيان أصدره البيت الأبيض بعد اجتماع قادة أمريكا وآسيا الوسطى أعرب الرئيس بايدن عن امتنانه لزملائه لمكافحة التهديد للأمن الإقليمي وأكد أنه سيلتزم بمواصلة التعاون في مراقبة الحدود ومكافحة الإرهاب والتعاون مع إدارات إنفاذ القانون. إن مجرد ذكر مسألة مكافحة الإرهاب في الفقرة الأولى من الوثيقة يؤكد أن محاربة الإسلام هي أولوية قصوى بالنسبة لأمريكا. وكانت القضية التالية في الوثيقة هي أن الإجراءات الملموسة الموضوعية التي تهدف إلى الاستقرار الاقتصادي الشامل والتنمية في المنطقة ستتم مناقشتها على المستوى الوزاري لدول آسيا الوسطى في تشرين الأول/أكتوبر.

لقد أبرمت حكومات آسيا الوسطى وخاصة حكومة أوزبيكستان اتفاقيات سياسية واقتصادية وأمنية مع أمريكا المستعمرة والتي من شأنها تعريض المستقبل للخطر من أجل الخروج من الأزمة الحالية التي وقعت فيها. ومن أجل إبقاء اقتصاد البلاد على قدميه أبرم شوكت ميرزياييف بناءً على وجهة نظر رأسمالية عقوداً مع شركات ومؤسسات أمريكية كبيرة عابرة للحدود، وتنص هذه العقود في العادة على أن 70-80% من ثروتنا المستخرجة ستذهب إلى هذه الشركات والباقي إلى اختيار الحكومة. وحتى لا يحتج شعب أوزبيكستان ويخرج إلى الشوارع يبيعونه ثرواته الخاصة بكميات محدودة وبأسعار مرتفعة! والكهرباء الرخيصة والامتيازات الضريبية والجمركية يتم تقديمها لهذه الشركات الأجنبية. وبما أن حكومة ميرزياييف تقبل أي شروط من الدول التي تستثمر وتقرض تصبح أوزبيكستان فريسة جاهزة لأمريكا والصين وروسيا التي تكشر عن أنيابها في منطقتنا.

وفي هذه القمة لم تتم مناقشة حرية التعبير والضمير (الاعتقاد) التي تدعي أمريكا أنها تقدّرها. وتستمر دول آسيا الوسطى في وضع المسلمين الذين يقولون الحق ويمارسون دينهم في السجن باتهامات سخيفة وافتراءات غبية. وفي الواقع فإن توقع العدالة والحق من أمريكا وهي الرائدة في توفير حرية التعبير لأولئك الذين يسيئون إلى القيم الإسلامية وفي الحرب ضد الإسلام والمسلمين هو بعبارة ملطفة، سذاجة كبيرة، خاصة أنه في قممها (5+1) يتم وضع أساليب جديدة لمحاربة الإسلام. ويعد التعاون في مجالات إضافية مثل أمن الحدود وتبادل المعلومات أيضا أحد أهم القضايا في القمة. ولو كان لدى دول المنطقة حس الاهتمام بشعوبها وقيمها ومصالحها لما عززت الحدود الزائفة التي تفرق بينها رغم حاجتها لبعضها وارتباطها وثيق ببعضها كأعضاء الجسد الواحد.

إن هذه الأنظمة لا تتعلم الدروس من المصير المرير لليبيا واليمن وسوريا وغيرها من الدول التي تبعت خطا أمريكا، بل تتنافس فيما بينها لجذب المشاريع الأمريكية وتسير على خطا الدول التي أصبحت بؤراً للحروب وعدم الاستقرار. وبما أن هذه الدول الاستعمارية الشريرة وهي المستعدة لتحويل آسيا الوسطى إلى ميدان الحرب من أجل مصالحها السياسية والاقتصادية تصارع من أجل النفوذ في منطقتنا، فمن الطبيعي أن تساهم قمة مجموعة 5+1 السنوية في تصعيد هذا الصراع إلى درجة مثيرة للقلق. وفي الواقع لقد أسقطت الدول الاستعمارية الخلافة للاستيلاء على ثرواتنا الجوفية والفوقية وإبقائنا تحت نفوذها ومنحتنا استقلالاً زائفاً منعنا من الوحدة. ولذلك فإن السبيل الوحيد للخروج من وضعنا الضعيف الحالي وحالتنا الاقتصادية المزرية هو إقامة الخلافة الراشدة التي توحدنا وتوحد قوانا، وعندئذ ستتحرر منطقتنا من التبعية للدول الكافرة ومطالبها وتهديداتها.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست