قمة رابطة الدول المستقلة: الكل لروسيا!
قمة رابطة الدول المستقلة: الكل لروسيا!

الخبر:   شارك رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف في الاجتماع الدوري لمجلس رؤساء دول رابطة الدول المستقلة في 8 تشرين الأول/أكتوبر 2024. وحضر القمة التي ترأسها رئيس الاتحاد الروسي فلاديمير بوتين، رئيس أذربيجان إلهام علييف، ورئيس بيلاروسيا ألكسندر لوكاشينكو، ورئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف، ورئيس قرغيزستان صدر جباروف، ورئيس طاجيكستان إمام علي رحمون، ورئيس تركمانستان سردار بيردي محمدوف، ورئيس وزراء أرمينيا نيكول باشينيان، بالإضافة إلى الأمين العام لرابطة الدول المستقلة سيرجي ليبيديف. (موقع الرئاسة الأوزبيكية، 2024/10/08م)

0:00 0:00
Speed:
October 13, 2024

قمة رابطة الدول المستقلة: الكل لروسيا!

قمة رابطة الدول المستقلة: الكل لروسيا!

الخبر:

شارك رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف في الاجتماع الدوري لمجلس رؤساء دول رابطة الدول المستقلة في 8 تشرين الأول/أكتوبر 2024. وحضر القمة التي ترأسها رئيس الاتحاد الروسي فلاديمير بوتين، رئيس أذربيجان إلهام علييف، ورئيس بيلاروسيا ألكسندر لوكاشينكو، ورئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف، ورئيس قرغيزستان صدر جباروف، ورئيس طاجيكستان إمام علي رحمون، ورئيس تركمانستان سردار بيردي محمدوف، ورئيس وزراء أرمينيا نيكول باشينيان، بالإضافة إلى الأمين العام لرابطة الدول المستقلة سيرجي ليبيديف. (موقع الرئاسة الأوزبيكية، 2024/10/08م)

التعليق:

في الحقيقة، كانت قمة رابطة الدول المستقلة لهذا العام مخصصة لروسيا، حيث قامت روسيا بإصدار توجيهات تتماشى مع مصالحها على شكل أوامر، واستمع الآخرون بخنوع. هذا الموقف ذكرنا بخيانات بعض الرؤساء خلال حقبة الاتحاد السوفيتي الذين كانوا يخدمون أسيادهم الروس بمحاولة إرضائهم. وعلى الرغم من أن المواضيع التي نوقشت في القمة قيل إنها لصالح جميع الدول الأعضاء، إلا أنه كان واضحاً أن كل شيء كان يخدم مصالح روسيا فقط. فعلى سبيل المثال، أعلن فلاديمير بوتين أنه يتوقع من جميع دول رابطة الدول المستقلة المصادقة على الاتفاقية المتعلقة بإنشاء منظمة اللغة الروسية الدولية في أقرب وقت، حيث قال: "قبل عام في بيشكك، وقعنا اتفاقية لإنشاء منظمة اللغة الروسية الدولية. لقد صادقت عليها روسيا وبيلاروسيا وقرغيزستان وطاجيكستان بالفعل. وآمل أن يقوم أصدقاؤنا الباقون والدول المشاركة بتنفيذ الإجراءات الداخلية المناسبة". كما أكد على أهمية الحفاظ على الذاكرة التاريخية المشتركة ومنع تزويرها، قائلاً: "يجب على الشباب أن يعرفوا إنجازات أجدادنا وشعوبنا، خاصة في سنوات الحرب الوطنية العظمى". وبناءً على ذلك، تم اتخاذ قرار في نهاية القمة بشأن "بيان رؤساء دول رابطة الدول المستقلة لشعوب الدول الأعضاء والمجتمع الدولي بمناسبة الذكرى الثمانين لانتصار الشعب السوفيتي في الحرب الوطنية العظمى (1941-1945)".

 وبمبادرة من رئيس أوزبيكستان ميرزياييف، اتُخذ قرار بشأن "برنامج التعاون في مجال نزع التطرف بين الدول الأعضاء في رابطة الدول المستقلة للفترة 2025-2027". ومنذ بداية الحرب الأوكرانية، ازدادت العلاقات الروسية مع دول آسيا الوسطى سوءاً، حتى إن روسيا أصبحت تتصرف بطريقة أكثر فظاظة تجاه شعوب المنطقة، ويزداد ازدراؤها لهم، لأن اهتمام الدول الغربية بقيادة أمريكا بآسيا الوسطى تزايد مع محاولة استغلال انشغال روسيا بأوكرانيا، ما أدى إلى اتخاذ خطوات لتعزيز نفوذهم في المنطقة. لم تخف روسيا استياءها من هذا الأمر، وأصدرت عدة تصريحات تهديدية. وفي الوقت نفسه، أصبحت روسيا قلقة حتى من أصغر التهديدات التي تمس ثقافتها ولغتها في آسيا الوسطى. ومثال على ذلك هو الحادثة التي وقعت مؤخراً في إحدى المدارس الأوزبيكية، حيث طالبت روسيا من الحكومة الأوزبيكية تفسيراً بعد أن تم الإبلاغ عن أن أحد الطلاب طلب من معلمة اللغة الروسية التحدث بالروسية، فأهانته وعنفته. هذه الحادثة أشعلت جدلاً بين النشطاء الروس والأوزيبك. بالإضافة إلى ذلك، صرح معهد المعلومات العلمية التابع للأكاديمية الروسية للعلوم الاجتماعية بأن الكتب المدرسية في آسيا الوسطى، خاصة في أوزبيكستان، صورت روسيا على أنها "منظم للفوضى الدموية ودولة عنيفة"، وأن "العالم سيكون أفضل بدونها". هذه الحوادث دفعت روسيا إلى اتخاذ مواقف للدفاع عن نفوذها في آسيا الوسطى، حتى باستخدام تصريحات تهديدية.

مما سبق، يتضح أن روسيا لم تثر هذه القضايا في قمة رابطة الدول المستقلة عبثاً، فهي تدرك جيداً أن نفوذها في آسيا الوسطى لم يعد كما كان، لكنها لا تقبل بهذا الواقع. فما زالت روسيا تعتبر نفسها قوة عظمى ومركزاً رئيسياً يؤثر في السياسة الدولية، لكن مكانتها الحقيقية اليوم لا تتطابق مع طموحاتها. فهي لم تتخلَ عن سياساتها العدوانية التي اعتادت اتباعها منذ عهد الاتحاد السوفيتي، لأنها ليست دولة مبدئية واضحة. وبالطبع، من خلال القمع والعنف وفرض رغباتها على الآخرين، لن تحقق روسيا أهدافها، بل إنها تضجر الحكام عملاءها في آسيا الوسطى؛ ذلك أنها تتبع سياسة "أنا فقط"، ولا تأخذ في الحسبان مصالح الآخرين، وخاصة شعوب آسيا الوسطى التي تريد منهم أن يخدموها كما في السابق. وهي تطالب بوقاحة أن يتم تصوير تاريخها الأسود بشكل إيجابي وكأنها بطل. وتسعى لتسميم عقول أبناء المسلمين بلغتها وثقافتها.

إن استسلام حكومات آسيا الوسطى، خاصة حكومة ميرزياييف الأوزبيكية، لرغبات روسيا - ولو على مضض - ليس إلا خيانة؛ لأن الخضوع والولاء لروسيا، العدو العقدي والتاريخي لشعبنا المسلم، يعرض الأمة لحمل ثقيل يدفع ثمنه الشعب في النهاية. فالحكومة الروسية على سبيل المثال هي التي تذل ملايين الأوزبيك الذين يضطرون إلى السفر إلى روسيا للعمل بسبب الأزمة الاقتصادية في البلاد. وهي نفسها السبب الرئيسي في تفاقم الصعوبات التي يواجهها شعبنا نتيجة الاعتماد المتزايد على روسيا في مجال الطاقة، ما أدى إلى ارتفاع الأسعار ونقص الموارد.

من الواضح أن هؤلاء الحكام الذين نصبوا أنفسهم على المسلمين لن يجرؤوا أبداً على مواجهة روسيا، فهم ما زالوا عالقين في عقلية العبيد. وعلى الرغم من وضوح عداء روسيا، إلا أنهم لا يجدون الشجاعة لمعارضتها من أجل الحفاظ على عروشهم، وهذا أمر طبيعي؛ لأن السير في طريق إرضاء الله، والخوف منه، والاعتماد عليه، وطلب العون منه وحده هو الطريق الوحيد الذي يؤدي إلى العزة والقوة. والتمسك بغير هذا الطريق هو الخزي في الدنيا والآخرة. لذلك، فإن الحماية من ظلم واضطهاد الدول الكافرة المستعمرة مثل روسيا، ومن تحقيرهم ونهبهم لثرواتنا، لن يتحقق إلا بدولتنا الراعية والحامية؛ الخلافة. قال رسول الله ﷺ: «الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست