قناةُ الجزيرة والمَكْرُ الكَبير الترويج للتشكيك بحجية السنة النبوية
قناةُ الجزيرة والمَكْرُ الكَبير الترويج للتشكيك بحجية السنة النبوية

الخبر:   عرضت قناة الجزيرة في 15 آذار 2023 في برنامجها موازين حلقةً بعنوان "القرآنيون بين دعاوى التجديد والتوظيف السياسي". و(القرآنيون) اسم يُطلق على أفراد أو تيار ينكر حجية السنة النبوية، ويقول إنه لا يوجد وحي غير القرآن، والسنة النبوية ليست دليلاً شرعياً. وقد استضاف البرنامج من يمثل هذا التيار وعرض حججه في إنكار السنة، واستضاف من يرد على هذه الأفكار والحجج ويبين أن إنكار السنة إنكار للقرآن. وظهر مقدم البرنامج حيادياً بين الرأيين، يقدمهما للمشاهدين على قدم المساواة. (رابط الحلقة).

0:00 0:00
Speed:
March 27, 2023

قناةُ الجزيرة والمَكْرُ الكَبير الترويج للتشكيك بحجية السنة النبوية

قناةُ الجزيرة والمَكْرُ الكَبير

الترويج للتشكيك بحجية السنة النبوية

الخبر:

عرضت قناة الجزيرة في 15 آذار 2023 في برنامجها موازين حلقةً بعنوان "القرآنيون بين دعاوى التجديد والتوظيف السياسي". و(القرآنيون) اسم يُطلق على أفراد أو تيار ينكر حجية السنة النبوية، ويقول إنه لا يوجد وحي غير القرآن، والسنة النبوية ليست دليلاً شرعياً. وقد استضاف البرنامج من يمثل هذا التيار وعرض حججه في إنكار السنة، واستضاف من يرد على هذه الأفكار والحجج ويبين أن إنكار السنة إنكار للقرآن. وظهر مقدم البرنامج حيادياً بين الرأيين، يقدمهما للمشاهدين على قدم المساواة. (رابط الحلقة).

التعليق:

يتضمن هذا التعليق نقطتين: الأولى سياسة برنامج موازين التي هي جزءٌ من استراتيجية قناة الجزيرة في الحرب على الإسلام. والثانية وهي الأقل أهمية هي تفاهة مزاعم الذين يُطلق عليهم اسم (القرآنيون).

أما النقطة الأولى والأهم فهي التضليلات التي تتتابع في قضايا إسلامية سياسية وموضوعات ذات علاقة بها، والتي يطرحها برنامج موازين من ضمن حرب قناة الجزيرة على الإسلام السياسي، التي تخفى على غالبية المتابعين، فيقع بعضهم في حبائلها، ويَظهر مقدم البرنامج فيها محايداً موضوعياً. فهو يستضيف في برنامجه مَن يمثل الرأيين المتعارضين، انسجاماً مع شعار الجزيرة "الرأي والرأي الآخر"، والذي يُتَّخذُ ذريعةً للتشكيك بالمسلّمات والقطعيات، وللترويض على القبائح والمنكَرات. كتشكيك المسلمين بحجية السنة، وكترويضهم على استضافة سياسيين يهود بكل احترام، ليعرضوا مزاعمهم بشأن فلسطين وكأنها وجهة نظر لها اعتبارها مقابل حكم الإسلام في فلسطين وحقوق أهلها وسائر المسلمين فيها، التي يعرضونها وكأنها أيضاً وجهة نظر فيها نظر.

وما فعله مقدم البرنامج في هذه الحلقة هو تقديم مِنبرٍ لمنكري حجية السنة ليروِّجوا لضلالتهم من خلاله، بعرضها على الناس وكأنها مسألة شرعية خلافية. وهنا يكمن المكر، حيث يعرض البرنامج والقناة التشكيك بالسنة النبوية وحجيتِها على عوام الناس، فيصيب التشكيك من يصيبه منهم. وإذا علمنا أن الحرب على السنة النبوية قديمة ومستمرة، وهي تجري حالياً وفق مخططات مقترحة من أجهزة ومراكز دراسات غربية كراند وغيرها، فلا يبقى شك في أن ما تقوم به قناة الجزيرة وبرنامجها موازين هو جزءٌ من الحرب على الإسلام.

وهذا هو شأن هذا البرنامج في كثير من حلقاته، كحلقته في 27 كانون الأول 2022 بعنوان مفهوم الدولة في الإسلام، التي شكَّك فيها بإمكانية وجود الخلافة في هذا العصر وبرؤية حزب التحرير لها. وحلقته في 19 تشرين الثاني 2022 بعنوان الحجاب فريضة في مرمى الاستهداف، التي تشكك بفريضة الخمار وتعرضها وكأنها مسألة ظنية خلافية. والحلقتين في 7 و14 أيلول 2022 ترويجاً لخرافة فشل الإسلام السياسي وعنوانها قراءة في تجربة الحركات الإسلامية بالحكم.

لا تنقضي الشواهد على أن برنامج موازين يستهدف تشويش الرأي العام والتشكيك بالإسلام السياسي وتوجهاته وبجدوى العمل لإقامة الدولة الإسلامية، وعلى أن قناة الجزيرة هي إحدى جبهات الحرب الإعلامية على الإسلام السياسي. لذلك، كان من الأهمية بمكان الاعتناء بكشف الجزيرة وأمثالها للرأي العام الإسلامي.

أما النقطة الثانية، وهي إنكار حجية السنة التي يدعيها الذين يُطلَق عليهم اسم (القرآنيون)، فهي من طروحات الكفار المحاربين للإسلام في كل عصر. ولا يتسع هذا التعليق لذكر نماذج أو أنماط تاريخية لها، ولكنها أتفه من أن تُعقد لها مجالس أو حلقات، ولا تبلغ أن تستحق أن تُطرح على الرأي العام. وستظل تظهر بين الحين والآخر هنا وهناك، مثلما أن الإلحاد أو الردة أو شهادة الزور سيظل لها وجود في المجتمعات. قال ﷺ: «يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئاً عَلَى أَرِيكَتِهِ، يُحَدَّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَّا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ». ويكفي في رد هذه الخزعبلة أن النصوص فيها قطعية الثبوت والدلالة، وأن منكر حجية السنة النبوية كافر بالاتفاق ولا جدال. قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وأطِيعُوا الرَّسُولَ﴾ [سورة النساء: 59]، وقال: ﴿فَلا وَرَبِّك لَا يُؤمِنون حَتَّى يُحَكِّموكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُم ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجَاً مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً﴾ [سورة النساء: 65]، وقال: ﴿وَمَا آتَاكُم الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهوا﴾ [سورة الحشر: 38]، وقال: ﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله﴾ [سورة النساء: 80]، وغيرها كثير. ولا جدال بأن ما يأتي به منكرو حجية السنة هو تنطُّع جاهلين وجحودُ مشركين حاقدين، فلا يستحق سوى معاقبة أصحابه أو الإعراض عنهم. قال تعالى: ﴿وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة الأعراف: 199]، وقال: ﴿وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِين﴾ [سورة الأنعام: 106].

وأختم بالتأكيد على أهمية كشف قناة الجزيرة وأمثالها للناس، وبيان أنها إحدى الجبهات التي يوظفها أعداء الإسلام لضرب التوجه السياسي الإسلامي وإحكام قبضة الكفر الغربية على أعناق المسلمين. ومن الضروري كشف مخادعاتها في ادعاء الموضوعية والنزاهة فيما تتناوله من مواضيع، أو تقدمه من أخبار وبرامج.

 قال تعالى: ﴿وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ﴾ [سورة إبراهيم: 46]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست