قناةُ الجزيرة والمكرُ الكبير  جَعْلُ الأحكام القطعية والقضايا المحسومة محلَّ اختلاف وجدل!
  قناةُ الجزيرة والمكرُ الكبير  جَعْلُ الأحكام القطعية والقضايا المحسومة محلَّ اختلاف وجدل!

الخبر: عرضت قناة الجزيرة في 19 تشرين الثاني 2022 في برنامج "موازين" حلقةَ بعنوان "الحجاب فريضة في مرمى الاستهداف"، والمقصود الخِمار. تضمنت الحلقة حواراً حول وجوب الخمار شرعاً، وعرَضت رأيين، أحدهما يقول إنه ليس فرضاً حيث أورد تشكيكات بوجوبه. والرأي الآخر يقول إنه فرض قطعي ومعلوم من الدين بالضرورة وفنَّد التشكيكات. وتضمنت الحلقة أنّ محاربة الغرب للحجاب ترجع إلى الإسلاموفوبيا السائدة في مجتمعاته. (رابط الحلقة)

0:00 0:00
Speed:
October 27, 2022

 قناةُ الجزيرة والمكرُ الكبير جَعْلُ الأحكام القطعية والقضايا المحسومة محلَّ اختلاف وجدل!

قناةُ الجزيرة والمكرُ الكبير

جَعْلُ الأحكام القطعية والقضايا المحسومة محلَّ اختلاف وجدل!

الخبر:

عرضت قناة الجزيرة في 19 تشرين الأول 2022 في برنامج "موازين" حلقةَ بعنوان "الحجاب فريضة في مرمى الاستهداف"، والمقصود الخِمار. تضمنت الحلقة حواراً حول وجوب الخمار شرعاً، وعرَضت رأيين، أحدهما يقول إنه ليس فرضاً حيث أورد تشكيكات بوجوبه. والرأي الآخر يقول إنه فرض قطعي ومعلوم من الدين بالضرورة وفنَّد التشكيكات. وتضمنت الحلقة أنّ محاربة الغرب للحجاب ترجع إلى الإسلاموفوبيا السائدة في مجتمعاته. (رابط الحلقة)

التعليق:

هذه الحلقة من قناة الجزيرة واحدة من حلقات كثيرة تندرج في خطط محاربة الإسلام عبر التضليل التدريجي والخفي، ولقد تلاحقت حلقات برنامج موازين التي تساهم في هذا الدور، ما يؤشر إلى أن هذا التضليل مقصود للبرنامج، ولقناة الجزيرة التي تقدمه، والتي دأبت على الترويج للتحريف والتضليل سواء فيما يتعلق بأحكام شرعية أو بقضايا سياسية.

لا يسع هذا التعليق استعراض أعمال هذه القناة بوصفها من أخطر المؤامرات على المشاهد العربي والمسلم، لذلك يكتفي بالتنبيه إلى ما لا يخفى على متابع لها مراقب لسياستها. وذلك أنها أكثر قناة عربية ترويجاً للتطبيع مع كيان يهود، وأكثرها جرأة في ترويض المشاهدين على تقبله عبر استضافة ممثليه وسياسييه بشكل يومي، وتقديمهم للمشاهدين وكأنهم أصحاب حق في فلسطين، وإشراكهم في بحث قضايا عربية، وفي حوارات يَظهرون فيها مظلومين يطالبون بالأمن ورفع المظالم عنهم، وكأن الصراع معهم هو خلاف يسير، أو بين إخوة. ومن خطر هذه القناة أنها تقوم بهذه الأعمال متظاهرةً بأنها تفضح اعتداءات هذا الكيان وتُحرج ممثليه على شاشتها، فتدغدغ مشاعر المشاهدين الذين يرونها متبنيةً لقضاياهم بجرأة، ويسقطون في فخاخ مؤامراتها.

يقوم هذا النمط من المؤامرات على طرح الأفكار القطعية والقضايا المحسومة من حيث وضوح الحق فيها، للحوار وعرض أقوال المنكرين فيها، لينبري المؤمنون بها للدفاع عنها، فيحصل الحوار فيها، ويتم بذلك تحويل الحقائق القطعية والقضايا المحسومة إلى قضايا ظنية، ويصبح الرأيُ المستحيل وُجهة نظرٍ مقبولة، والتشكيك بالقطعيات وإنكارها، سائغاً وشائعاً. وبهذا يتقدم راسمو هذه المؤامرة خطوةً على طريق التضليل والغزو الفكري، وعلى طريق سلخ الشعب أو الأمة جزئياً عن صحيحِ أفكارهم وأحكامهم، وصرفهم عن قضاياهم. فإذا تحقق لهم ذلك، يُتبِعون الخطة بخطط لاحقة في مسار القضاء على قناعات الأمة أو الشعب وقضاياهم، وبذلك يقضون عليهم. ولذلك، لا يُعدُّ هذا النمط من الخطط مؤامرات عادية، بل هو مكرٌ كبير وخبثٌ غير عادي.

هذا ما يقوم به برنامج موازين، وهو الدور الذي تؤديه حلقاته. فجعلُه موضوع الخمار محل بحث ونقاش تهوينٌ من شأنه. وعرضه للأخذ والرد وطرح آراء تنكر وجوبه مؤامرة خبيثة. ويأتي الخطر الأكبر بعد ذلك، بوقوف القائمين بالمؤامرة مع ترجيح وجوب الخمار، لأن الترجيح في مقام القطع تشكيكٌ بالقطع، وتضليلٌ يصوِّر الحكم ظنياً، ويُسوِّغ القولَ بخلافه وعدمَ التزامه. والمكر الأكبر هنا هو رفض القائمين بالمؤامرة ذرائعَ منكري الخِمار، وتقديمهم للمشاهد بصورة المدافعين عن الإسلام، الحريصين على حفظ أحكامه والتزامها.

لذلك كان من الخطأ، أن ينبري دعاة الإسلام والعاملون له، إلى مواجهة هذه الطروحات بمحاورة منكريها وتفنيد مزاعمهم. لأن جعل القطعيات محل نقاش يُضعِف تمسك الناس بها، ويسبب لهم تشويشاً خطيراً. وهذا الانبراء هو نفسه وقوعٌ في فخ المؤامرة، وهو مقصودُ راسميها. والردُّ الصحيح والمُجدي على طروحات كهذه يكون بكشف الخداع والمكر اللَّذين فيها، وكشف حقيقة الذين يطرحونها وولاءاتهم لأعداء الإسلام. وبمواجهتهم بأنهم إما عملاء لأعداء الإسلام، وإما كفارٌ مرتدّون أو زنادقة، وبأن إنكار حكم وجوب الخمار - أو أي حكم قطعي آخر - أو التشكيك بقطعيته هو كفر، ويكون بالرفض الحازم لأي حوار في حكم شرعي مع أعداء الإسلام أو عملائهم، لا في القطعيات ولا في الظنيات.

أما القول بأن محاربة الحجاب أو الخمار في الغرب ترجع إلى الإسلاموفوبيا السائدة في المجتمعات الغربية، فهو غير دقيق، والعكس هو الصواب. فالإسلاموفوبيا سياسة مقصودة صنعها حكام الغرب وسياسيوه، وما زالوا يشجِّعونها ويؤجِّجونها لتصوير الإسلام تطرفاً وإرهاباً لكي يواجهوا انتشار الإسلام في بلادهم، وليتخذوها وسيلة لمحاربة التوجه السياسي الإسلامي في أي مكان. إذ إنّ الغرب لم يكن يحارب الحجاب أو أي مظهر إسلامي في بلاده أو خارجها قبل بروز الصحوة الإسلامية وانتشار ما يُسمى الإسلام السياسي. ولكنه أدخل محاربة الإسلام ضمن استراتيجياته بعد ظهور التوجه الإسلامي ودخول جماعاته ميدان العمل السياسي، وبعد ازدياد مظاهر التزام الإسلام، والتي من أبرزها اللباس الشرعي للمرأة؛ وذلك أنه لمس خطر الإسلام على منظومة التفاهات الفكرية التي يقوم عليها، وعلى فساد أنظمته الاستغلالية والاستعمارية، وأدرك ارتباط سائر النشاطات والأعمال الإسلامية بالصحوة الإسلامية، سواء العمل السياسي أو اللباس الشرعي؛ ولذلك، فإن بروز الإسلام السياسي وانتشاره هو سبب محاربة الغرب للحجاب والخمار، وللعِفَّة، ولسائر المظاهر والأحكام الإسلامية، وهو أيضاً سبب صناعة الإسلاموفوبيا وتغذيتها المستمرة وتأجيجها.

قال تعالى: ﴿وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهًمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود عبد الهادي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست