قرار التأمين الإلزامي الذي اتخذته حكومة قرغيزستان مخالف للشريعة الإسلامية ومن الضروري معارضته!
قرار التأمين الإلزامي الذي اتخذته حكومة قرغيزستان مخالف للشريعة الإسلامية ومن الضروري معارضته!

الخبر:   تم اتخاذ قرار بفرض التأمين الإلزامي لإعادة تسجيل العقارات والسيارات في قرغيزستان. وسيدخل قرار الحكومة هذا، الذي تم اتخاذه في 9 آب/أغسطس، حيز التنفيذ بعد 15 يوماً. وبموجب القرار، تم تحديد تأمين على السكن بمبلغ 1200 سوم سنوياً في المناطق الحضرية و600 سوم في المناطق الريفية. والسعر الأولي للتأمين الإلزامي على السيارات هو 1680 سوم سنويا.

0:00 0:00
Speed:
August 24, 2024

قرار التأمين الإلزامي الذي اتخذته حكومة قرغيزستان مخالف للشريعة الإسلامية ومن الضروري معارضته!

قرار التأمين الإلزامي الذي اتخذته حكومة قرغيزستان مخالف للشريعة الإسلامية

ومن الضروري معارضته!

الخبر:

تم اتخاذ قرار بفرض التأمين الإلزامي لإعادة تسجيل العقارات والسيارات في قرغيزستان. وسيدخل قرار الحكومة هذا، الذي تم اتخاذه في 9 آب/أغسطس، حيز التنفيذ بعد 15 يوماً. وبموجب القرار، تم تحديد تأمين على السكن بمبلغ 1200 سوم سنوياً في المناطق الحضرية و600 سوم في المناطق الريفية. والسعر الأولي للتأمين الإلزامي على السيارات هو 1680 سوم سنويا.

التعليق:

في الواقع، إن مسألة التأمين ليست جديدة بالنسبة لشعب قرغيزستان. فقد تم تطبيق التأمين في قرغيزستان خلال عهد الاتحاد السوفياتي، وفقا للنظام الاشتراكي. وبعد حصول قرغيزستان على الاستقلال (الوهمي)، بدأ تطبيق التأمين وفقا للنظام الرأسمالي. لقد تم اقتراح قوانين التأمين، منذ انتقال قرغيزستان من الاشتراكية إلى الرأسمالية، ولكن تم تأجيلها بشكل منتظم حتى الآن بسبب الوضع الاقتصادي المتردي والمعارضة الشعبية. قدمت الحكومة في البداية التأمين الطوعي لتهدئة الشعب، وعندما استمر الشعب في مقاومته ضد الشركات الخاصة، نقلت الحكومة التأمين إلى الشركات المملوكة للدولة. وفي الوقت الحالي، تتخذ الحكومة إجراءات لإقناع جميع الناس بالتأمين الإلزامي.

يجب على المسلم تعلم الأحكام الشرعية المتعلقة بكل حالة يواجهها، وأن يتبعها في تلك الحالة. ولذلك لا بد للمسلمين في قرغيزستان أن يتعاملوا مع قضية التأمين هذه على أساس الإسلام.

إن التأمين هو اتفاق بين شركة التأمين والشخص المؤمن عليه. وبموجب الاتفاق يدفع الشخص الذي قام بالتأمين على ممتلكاته المبلغَ المتفق عليه لشركة التأمين كل عام. وفي حالة تلف الممتلكات المؤمن عليها، تعطي له شركة التأمين مبلغاً معيناً من المال، ضمن الشروط التي جرى الاتفاق عليها.

ولكن هذا العقد لا يتضمن شروط العقد الشرعية، لذلك لا يجوز شرعا إبرام مثل هذا العقد. فكان أخذ المال بحسب هذا العقد حراما وهو أكل مال بالباطل. (ننصح من أراد أن يفهم هذا الموضوع بمزيد من التفصيل، بالرجوع إلى كتاب "النظام الاقتصادي في الإسلام" لحزب التحرير).

وعلى هذا فإن التأمين كله حرام شرعا على المسلمين، كما أن القمار حرام عليهم. سواء أكان التأمين على الصحة أم على الممتلكات المنقولة أو غير المنقولة، ولا يهم ما إذا كان هذا التأمين مقدما من قبل شركة خاصة أو الشركات المملوكة للدولة.

هذه القوانين، في جوهرها، هي مشاريع ابتكرها الرأسماليون لامتصاص دماء الناس. على سبيل المثال، تم تسجيل 1.67 مليون سيارة في قرغيزستان. وسيتم تحصيل 1680 سوم على الأقل من كل واحد منهم للتأمين. ما يعني 2.7 مليار سوم، وهذا المبلغ هو الدخل السنوي للشركات. إلا أن النفقات السنوية لشركات التأمين لا تصل إلى 350 مليون سوم، وأما المبلغ المتبقي البالغ 2.35 مليار سوم فيمثل الربح السنوي للشركات. كما أن النفقات السنوية لشركات التأمين تقتصر على مبلغ معين لمنع إفلاسها. على سبيل المثال، إذا أتلفتَ سيارة باهظة الثمن تلفا قيمته مليون سوم، فإن شركة التأمين ستدفع لك 150.000 سوم فقط. وعليك أن تدفع الباقي بنفسك!

أما بالنسبة للمباني السكنية، فيتم التأمين الإلزامي عليها من قبل شركة مملوكة للدولة. وفي الواقع فإن الشركة المملوكة للدولة لا تختلف عن الشركات الخاصة من حيث العقود. وفي هذه الحالة، يبدو أن الدخل يذهب إلى الدولة. ولا يعرف عامة الناس كيف حصل المسؤولون على الدخل!

لقد تم تسجيل مليون و100 ألف مسكن في قرغيزستان. وأسعار تأمين السكن 1200 سوم لكل واحد منهم في المدينة، وتدفع الدولة قسط التأمين حتى مليون سوم فقط. وفي القرى أسعار التأمين 600 سوم لكل واحد منهم، ومبلغ تأمين الدولة 500 ألف سوم في القرى. إذا لم يدفع السكان قسط التأمين الخاص بهم كل عام، فتضيع الأموال التي دفعوها مسبقا.

وإذا اعتبرنا عدد المساكن في القرى 600 ألف مسكن، فإنه يتم جمع 360 مليون سوم منهم من أموال التأمين سنوياً. وسيتم جمع 600 مليون سوم من المباني السكنية في المدينة. فيبلغ إجمالي الدخل السنوي 960 مليون سوم. إلا أن النفقات السنوية لشركة التأمين الحكومية لا تتجاوز 160 مليون سوم. وإذا طرحنا النفقات من الدخل يتبين أن الربح السنوي لمؤسسة الدولة هو 800 مليون سوم.

من الواضح أنه على الرغم من أن أموال التأمين يتم جمعها من جميع الناس، إلا أن معظمهم لا يتعرضون لحادث في الواقع. كما أن عدداً قليلا من الناس الذين تعرضوا لحادث لا يحصلون إلا على مبلغ محدود.

ولذلك يمكن القول إن الدولة تتهرب من مسؤوليتها تجاه الناس من خلال قوانين التأمين، وتلقي مشاكلهم على عاتق الشعب. ومما زاد الطين بلة، أن المسؤولين يجبرون الناس على الالتزام بقوانين التأمين من خلال تهديدهم بالكوارث المختلفة ويكسبون ثروة على حساب الناس من خلال شركاتهم العامة والخاصة.

إن الله تعالى أمر الحكام برعاية شؤون الناس بالرفق والتيسير، ولكن هذه الحكومات الرأسمالية تحكم ضد مصالح الشعب وتحاول أن تنهب أموال الناس كلها.

يقول الله تعالى: ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللهُ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الظَّالِمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ممتاز ما وراء النهري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست